*عنوان: ایک باپ کی بیٹے کو وصیت!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*عنوان: ایک باپ کی بیٹے کو وصیت!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
آج کا کالم ایک عربی فسانہ سے حاصل کیا ہے آج کے زمانے میں اشد ضرورت سمجھا کہ ہمارا معاشرہ جس طرف جارہا ہے اور ہماری اولادیں جس قدر منفی انداز میں بدل رہی ہیں انکی اصلاح و تربیت ہم والدین کی اشد ذمہداری بنتی ہے۔ بچیوں کی تعلیم و تربیت براہ راست ماں کرتی ہے تو دوسری جانب بیٹے کی تعلیم و تربیت باپ کے ذمہ آتا ھے۔ بچے نازک کلیوں کی طرح ہوتی ہیں انکی پرورش میں درست فیصلے اور صحیح سمت میں آگے بڑھنا ہی کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہوتی ھے، آج کے زمانے میں سوشل میڈیا میں جہاں تعمیری و اصلاحی مواد ہیں وہیں منفی اور تباہی کے مواد کثیر تعداد میں موجود ہیں جو نئی نسل کو تباہ و برباد اور قوم کو کمتر اور بدتر بنانے کیلئے گمراہ کن راہیں پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! پلیز نوجوان ضرور پڑھیں اور والدین کے ساتھ اپنے رویے پر توجہ دیں، ایک باپ اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے نصیحت کرتا ہے، میرے پیارے بیٹے: ایک دن تم مجھے بوڑھا دیکھو گے، میرا رویہ تمہیں غیر منطقی معلوم ہوگا، تب براہ مہربانی بیٹا مجھے تمہارا وقت اور صبر چاہئے ہوگا تاکہ تم مجھے سمجھ سکو، جب میرے ہاتھ کانپیں اور میرا کھانا سینے پر گر پڑے، اور جب میں کپڑے نہ پہن سکوں، تب گزرے ہوئے سالوں کو یاد کرنا جب میں تمہیں وہ کچھ سکھاتا تھا جو میں آج نہیں کرسکتا، اگر میں تم سے بار بار بات کروں اور آپ کو بار بار یادہانی کرواٶں تو غصہ اور ملامت مت کرنا، اس لئے کہ میں نے تمہارے لئے کتنی ہی باتیں کہانیاں دہرائی ہیں، صرف اس لئے کہ انہوں نے تمہیں خوش کیا اور تم نے ہمیشہ بار بار مجھ سے پوچھا جب کہ تم چھوٹے تھے معذرت، اب مجھے رکاوٹ نہ ڈالنا، اگر میں اب خوبصورت نہیں ہوں، یا مجھ سے تمہیں مہک نہیں آتی تو مجھ پر الزام مت عاٸد کرنا اور یاد رکھنا جب میں جوان تھا تو میں نے آپ کو خوبصورت اور خوشبودار بنانے کی بہت کوششیں کیں۔ اپنی جوانی میں میری لاعلمی اور کم فہمی پر مت ہنسنا بلکہ تم میری آنکھیں اور دماغ بن جانا تاکہ جو چیزیں مجھ سے رہ گٸیں میں انہیں پاسکوں، بیٹا میں وہ ہوں جس نے تمہیں سکھایا، میں نے تمہیں زندگی کا سامنا کرنا سکھایا آج آپ مجھے کیسے سکھاتے ہو کہ کیا کرنا چاہئے اور کیا نہیں؟ اپنی گفتگو کے دوران میری کمزور یادداشت اور میری باتوں اور سوچ کی سستی سے نہ تھکنا کیونکہ میری خوشی اب صرف تمہارے ساتھ رہنے میں ہے بس مجھے وہ خرچ کرنے میں مدد کرنا جس کی مجھے ضرورت ہے میں اب بھی جانتا ہوں کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ جب میرے پاؤں مجھے جہاں چاہیں لے جانے میں ناکام ہوجاٸیں تو مجھ پر احسان کرنا اور یاد رکھنا کہ میں نے تمہارا ہاتھ اتنا پکڑا کہ تم چل سکو۔ آج میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کبھی شرمانا مت، کل تم کسی کا ہاتھ پکڑو گے۔ اس عمر میں، میں جانتا ہوں کہ میں آپ کی طرح زندگی کے قریب نہیں آرہا ہوں لیکن میں مرنے کا انتظار کررہا ہوں۔ بیٹا میر ساتھ دینا، میرا مخالف مت بننا، جب آپ کو میری کچھ غلطیاں یاد آٸیں تو جان لینا کہ میں نے ہمیشہ آپ کے بہترین مفادات کے علاوہ کچھ نہیں چاہا اور یہ سب سے اچھی چیز ہے جو آپ ابھی میرے ساتھ کر سکتے ہیں۔ میری لغزشوں کو معاف کرنے کیلئے اور میری خطاؤں پر پردہ ڈالنے کیلئے خدا تمہیں معاف کرے اور تمہیں چھوڑ دے۔ بیٹا آپ کی ہنسی اور مسکراہٹ اب بھی مجھے اسی طرح خوش کرتی ہے جیسے جب میں جوان تھا۔ مجھے اپنی صحبت سے محروم نہ کرنا۔ بیٹا!! جب تم پیدا ہوئے تو میں تمہارے ساتھ تھا تو جب میں مروں تو تم میرے ساتھ رہنا مجھے کندھا دیکر تجہیز و تدفین کا اہتمام کرنا اور اپنی دعاؤں میں میری مغفرت کیلئے ہمیشہ یاد رکھنا، کچھ صدقہ و خیرات سے، کچھ فلاحی امور کے ذریعے، اور اپنی عبادات و ریاضیات میں بھی یاد رکھنا۔۔۔۔۔!!



