کالم/مضامین

عنوان: اسلام کے خلاف یہودیوں کی سازشیں

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان: اسلام کے خلاف یہودیوں کی سازشیں ۔۔۔۔!!

مسلمہ امہ ہمیشہ یہودیوں کی سازش میں گھرا رہا ھے یہودی زائینسٹ نے اپنے مزموم عظام کی تکمیل کیلئے شراکت میں عیسائی زائینسٹ کی مدد لی ھے۔ طلوعِ اسلام حضرت محمد مصطفیٰ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے دور سے ہی یہودیوں نے اسلام مخالف کاروائیوں کو پڑوان چڑھایا یہی وجہ ھے کہ ازلِ اسلام سے لیکر امام حضرت مہدی رضی الله تعالیٰ اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی آمد تک یہودی زائینسٹ مسلم امہ کو ناتلافی نقصان سے دوچار کرتے رہیں گے اور آج تک تاریخ ہمیں بتاتی ھے کہ ھمارے درمیان کمزور ایمان والے مسلمانوں کو بآسانی یہ اپنا آلہ کار بناتے چلے آرھے ہیں۔ اسلامی ریاست میں بڑے بڑے منصبوں کو خرید کر ڈرا دھمکا کر اور ان منافقوں کی کمزوریوں کو ہتھیا کر ان سے اسلامی ریاستوں کی جڑیں کزور کرکے بغاوت جیسے غداری عمل کو تقویت دیتے چلے آئے ہیں اور اب یہ سلسلہ تیز سے تیز تر ھوچکا ھے یوں تو ستاون اسلامی ریاستوں میں چھپن تک یہ غالب آچکے ہیں مگر ایک اسلامی ریاست جو ایٹمی طاقت رکھتی ھے یعنی ہمارا پیارا ملک اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ابھی تک مغلوب نہیں کرسکے یہ الگ بات ھے کہ یہودیوں نے ہمیشہ کوشش کیں اور جاری رکھے ھوئے ھے یہ الله کا کرم ھے کہ بیشمار غداروں کے باوجود وہ سرزمینِ پاکستان کا بال بھی بھیگا نہ کرسکے کیونکہ الله نے بہادر ایمان افروز افواج عطا کی ھے اور ایمان افروز عوام کو قائم و دائم رکھا ھوا ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! "میریا شالوم” اسرائیلی فوج میں ایک خاتون سپاہی ہے۔ ایک دن شام کو اپنے گھر لوٹی اور شراب کی بوتل اٹھا کر پہلا گلاس بھر لیا پھر سوشل میڈیا پر اپنے جعلی اکاونٹ پر جو "ام المؤمنین” کے نام سے عربی زبان میں بنا رکھا تھا، پوسٹ لگائی؛ "کیا عمر ابن خطاب رضی آللہ تعالیٰ عنہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں یا علی بن ابی طالب رضی آللہ تعالیٰ عنہ۔۔۔؟” پھر اپنے گلاس سے چند گھونٹ حلق میں اتارے اور بےصبری سے کمنٹس کا انتظار کرنے لگی۔ پہلا کمنٹ عراق سے خضیر نے لکھا: "یہ عمر ابن خطاب ہے کہ جس نےخلافت کو غصب کیا ہے اور اس کا مستحق نہیں ہے اور تم ناصبی ہو۔” جواب میں سعودی عرب سے عبد الرحمن نے لکھا: "یقینا عمر ہی اس کا حقدار ہے اور اے عراقی!! اے رافضی!! اے کافر!! تم اہل سنت کے یہودیوں سے بھی بدترین دشمن ہو۔” میریا شالوم مسکرائی اور خوشی سے جھومتے ہوئے شراب کا دوسرا گلاس بھی پی لیا۔ تیسرا کمنٹ عبد السمیع نامی مصری جوان نے پوسٹ کیا: "میں چاہتا ہوں کہ اسکا جواب میں دوں۔ ہاں یہ عمر فاتح شیعہ اور فاتح مجوس ہیں۔” یوں ایک دوسرے کو جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور شیعہ سنی ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ میریا شالوم نے شراب کی بوتل کا ڈھکنا بند کیا اور فاتحانہ مسکراہٹ کیساتھ اپنے بستر پر لیٹ گئی اور چند لمحوں بعد نیند کی پر سکون وادیوں میں جا چکی تھی مگر اس لاحاصل بحث کے نتیجہ میں عراق، مصر اور شام کی پرامن آبادیاں خون کی ندیوں میں ڈوب چکی تھیں یہی اس وقت یہاں پاکستان میں چل رہا ہے۔ شعیہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، وھابی اور ن لیگی، جیالا، پٹواری، یوتھیا، زیبرا کا کھیل چل رہا ہے۔ پاک افواج کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ ہوشیار رہیں، لاعلمی میں اور ایک لاحاصل بحث کہیں ہم پاکستان اور تصورِ اُمّہ کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے۔؟؟
ذرا پھر سے سوچیے۔۔۔!! اور اپنے قول و افعال پر غور کیجئے۔ ھم نادانی اور نادانستگی میں ایسی حرکات کر بیٹھتے ہیں جو دشمنانانِ پاکستان چاہتا ھے اس بابت جس قدر میڈیا انڈسٹری کے مالکان و کارکنان ذمہدار ھوتے ہیں شائد ہی اس قدر ذمہداری کسی اور پر ھو کیونکہ موجودہ دور میں جنگیں اور سازشیں انتشار افراتفری بے امنی جس قدر جامع اور بہتر انداز میں میڈیا کے ذریعے ھوسکتی ھے وہ شائد ایٹم بم سے بھی ممکن نہیں ھوسکتی۔ ہمیں سب سے پہلے ایک قوم بننا ھوگا جیسے چائنا ترقی اور عرب امارات وغیرہ پھر اپنے درمیان رنگ نسل زبان قبیلہ ذات پات منصب کو فراموش کرتے ھوئے مشکوک محرکات پر نظر رکھتے ھوئے اپنے محافظوں کو بآور کرنا ھوگا۔ سوشل میڈیا میں شیئر ھونے والے مواد کا ایک سے زائد جائزہ لیکر حاصل نتیجہ پر پہنچ کر محتاط رہتے ھوئے اس مواد پر جواب دینے کا فیصلہ کرنا ھوگا کہیں جواب سے الجواب کا سلسلہ شروع نہ ہوجائے اور بے مقصد لا حاصل بحث سے کہیں وطن عزیز کیلئے مشکلات کا باعٹ تو نہیں بن رھے۔ قائد اعظم محمد علی جناح رحمۃ الله علیہ اور شہید نواب لیاقت علی خان کے بعد سے بیرونی طاقتوں نے ریاستی امور میں اپنے سہولت کاروں کو داخل کرکے پاکستان کو سیاسی اقتصادی صنعتی معاشی معاشرتی اور مذہبی طور پر ڈی اسٹبلائزیشن کرنا شروع کردیا تھا اس بات سے قطعی انکار نہیں کہ شراب اور زنا مسلمان کے ایمان کو مکمل برباد کردیتا ھے کوئی بھی شرابی و زانی امن و سکون اور ترقی و تمدنی ایمان و اتحاد اور خوشحالی کا گامزن ہرگز ہرگز نہیں ھوسکتا اگر ھم اپنے وطن کے ادوار کا مطالعہ کریں تو ہمیں ابھی تک خالصتاً دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے مخلص اور دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیانت کرتا نظر نہیں آیا یہی حال ھماری قوم کا بھی ھے کہ وہ دین سے کوسوں دور ھے جبتک کہ ھم خالص دینِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا نہیں ھونگے تب تک ھم یہود و نصارا کی غلامی کا پٹا باندھے ذلیل و خوار دنیا میں رہیں گے۔ منزلیں پانے والوں نے بڑے صبر و شکر اور ہمت کا ثبوت دیا تھا تبھی الله نے قلیل تعداد میں بھی فتح المبین سے نوازا جنگ بدر جنگ یرموک جنگ خندق ہمارے لیئے مشعلِ راہ ہیں اور نظامِ ریاست کا حسن خلیفہ میں پنہاں ھے۔ پاکستان ستر سالوں سے جنگ کی حالت میں ھے اور ہماری قوم مدہوش ھے یاد رکھیں یہ یہودی اور عیسائی زائینسٹوں نے مسلم ریاستوں کو تہس نہس کرکے رکھ دیا ھے جب ان مسلم ممالک کی قوموں نے یہودی اور عیسائی زائینسٹوں پر اعتبار کرکے اپنے ایمان افروز رہنماؤں اور ملک کیساتھ غداری کی تو آج تاریخ بتاتی ھے کہ فلسطین، لبنان، شام، عراق، اردن، کویت، افغانستان سمیت دیگر مسلم ممالک معاشی و اقتصادی سیاسی و عسکری طور پر تباہ و برباد ھوکر رہ گئے ہیں۔ اب یہ یہودی و عیسائی زائینسٹ پاکستان کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ھوئے ہیں ان کی مکمل کوشش ھے کہ افواجِ پاکستان اور عوام میں دوری پیدا کردیں کبھی یہ اپنے سہولت کاروں اور غدارِ وطن کے ذریعے پاک افواج کی ہرزہ سرائی کرتے تھکتے نہیں جان لیجئے کہ یہیں لوگ ھماری آستین کا سانپ ہیں میرا ایمان ھے کہ یہ یہودی و عیسائی زائینسٹ پاکستان کو لاکھ نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے لیکن ہر بار ناکام لوٹیں گے

انشاء الله تعالیٰ، پاک افواج زندہ باد، قائداعظم زندہ باد، پاکستان پائندہ باد۔۔۔۔۔۔!!

کالمکار: بیدار ھونے تک

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You