عنوان: اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون ٹرانس جینڈر نافذ ۔۔۔۔۔!!

ٹاٸٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قانون ٹرانس جینڈر نافذ ۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
قرآن الحکیم کا پارہ تیس کی سورت والتین کی آیت نمبر آٹھ میں رب العزت فرماتا ھے ترجمہ: بیشک یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔۔۔۔۔ محصل یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انجیر، زیتون، طور سینا اور شہر مکہ کی قسم کھا کے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی شکل و صورت میں پیدا کیا ،اس کے اَعضاء میں مناسبت رکھی، اسے جانوروں کی طرح جھکا ہوا نہیں بلکہ سیدھی قامت والا بنایا، ،اسے جانوروں کی طرح منہ سے پکڑ کر نہیں بلکہ اپنے ہاتھ سے پکڑ کر کھانے والا بنایا اور اسے علم، فہم، عقل، تمیز اور باتیں کرنے کی صلاحیت سے مُزَیّن کیا۔ اور اگر انسان اللّٰہ تعالیٰ کی دیگر مخلوقات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی تخلیق میں غور کرے تو اس پر روزِ روشن کی طرح واضح ہوجائے گا کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اسے حسن صوری اور حسن معنوی کی کیسی کیسی عظیم نعمتیں عطا کی ہیں اور اس چیز میں جتنا زیادہ غور کیا جائے اتنا ہی زیادہ اللّٰہ تعالیٰ کی عظمت اور قدرت کی معرفت حاصل ہوتی جائے گی اور اس عظیم نعمت کو بہت اچھی طرح سمجھ جائے گا۔۔۔۔۔ معزز قارٸین!! پارہ انتیس سورت المعارج دوسرا رکوع آیت انیس تا اکیس میں ارشاد باری تعالیٰ ھے ترجمہ: بیشک آدمی بڑا بے صبرا حریص پیدا کیا گیا ہے ۔جب اسے برائی پہنچے تو سخت گھبرانے والا ہوجاتا ہے ۔اور جب اسے بھلائی پہنچے تو بہت روک رکھنے والاہوجاتا ہے۔۔۔۔۔محصل یہ ھے کہ
ہے کہ بیشک انسان بڑا بے صبرا اور حریص پیدا کیا گیا ہے کہ جب اسے تنگ دستی اور بیماری وغیرہ کی صورت میں کوئی برائی پہنچتی ہے تو وہ سخت گھبرانے والا ہوجاتا ہے اور جب اسے دولت مندی و مال اور صحت و تندرستی کی صورت میں کوئی بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اسے اپنے پاس روک رکھنے والا ہوجاتا ہے یعنی انسان کی حالت یہ ہے کہ جب اسے کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو وہ اس پر صبر نہیں کرتا اور جب اسے مال ملتا ہے تو وہ اس کو خرچ نہیں کرتا۔۔۔۔معزز قارٸین!! پارہ سترہ سورت انبیاء آیت ستاٸیس میں اللہ کا فرمان عالی شان ھے کہ ترجمہ: آدمی جلد باز بنایا گیا اب میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا مجھ سے جلدی نہ کرو ۔۔۔ محصل یہ ھے کہ جلد بازی کی زیادتی اور صبر کی کمی کی وجہ سے گویا انسان بنایا ہی جلد بازی سے گیا ہے یعنی جلد بازی انسان کا خمیر ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جلد بازی کو انسان کی فطرت اور اخلاق میں پیدا کیا گیا ہے۔ یہاں آیت میں انسان سے کون مراد ہے، اس کے بارے میں مفسرین کے تین قول ہیں: اول اس سے انسان کی جنس مراد ہے۔ دوٸم یہاں انسان سے مراد نضر بن حارث ہے۔ سوٸم اس آیت میں انسان سے مراد حضرت آدم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں۔۔۔۔۔معزز قارٸین!! تیسواں پارہ سورہ بلد آیت چار میں فرمان خداوندی ھے کہ ترجمہ: اور باپ کی قسم اور اس کی اولاد کی۔ یقینا بیشک ہم نے انسان کو مشقت میں رہتا پیدا کیا۔۔۔۔ محصل یہ ھے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے شہر مکہ کی ، حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی قسم یاد کرکے ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو مشقت میں رہتا پیدا کیا کہ وہ حمل کے دوران ایک تنگ و تاریک مکان میں رہے، ولادت کے وقت تکلیف اُٹھائے، دودھ پینے، دودھ چھوڑنے، مَعاش کے حصول اور زندگی و موت کی مشقتوں کو برداشت کرے۔۔۔۔۔معزز قارٸین!! اپنے اس کالم میں قرآن سے رہنماٸی اس لٸے لی گٸی کہ ھماری اسلامی ریاست میں دھریٸے مشکرین ذہنیت یہود و عیساٸی و قادیانیت زٸینست پے در پے آٸین پاکستان کے مذہب اسلام کی شقوں کو روند کر رکھ دیا ھے کہنے کو تو اسلامی جمہوریہ پاکستان ھے مگر اٹھانوے فیصد مقننہ اسلام مخالف اور بدترین منافق ھیں یہی صورتحال منصفین کی بھی ھے مگر وہ جو اس سرزمین کی عزت و آبرو تحفظ و امن و امان کی خاطر ہر سو ہر وقت ہر مقام ہر جگہ خدمت سے سرشار اور جام شہادت کےگونٹھ پی رھے ھیں مگر ان فتنہ انگیز شر انگیز دجالی مافیاٶں کے سامنے چپ کیوں سادھ لی ھے یقینا ان کی نگاہ ماہرانہ طاٸرانہ انداز سے کھلی ھوٸی ھے جیسے بہادر عقاب باز اور شاہین کی ھوتی ھے شفاف سوٹ والے یقینا حالات سے غافل نہیں مگر عوام میں بے اعتمادی بے یقینی اور بے چینی کے باعث خاموشی اختیار کی ھوٸی ھے جیسے بڑے طوفان سے قبل ایک گہری خاموشی چھاجاتی ھے۔ چند روز قبل قومی اسمبلی میں اسپیکر ایاز صادق نے متحدہ حکومتی جماعت اور پی ٹی آٸی کی خاموشی کے بعد پاکستان میں قانون ٹرانس جینڈر بل پاس کردیا گیا ھے اور اب سینیٹ کے ممبران کی منظوری کیلٸے سینیٹ پہنچ گیا ھے۔ سنا ھے کہ ہلکی ی مخالف جنبش جماعت اسلامی نے ھے۔ قانون ٹرانس جینڈر کیا ھے؟؟؟ میں اپنے معزز قارٸین کو عام فہم لفظوں میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس قانون کے تحت کوٸی بھی مرد یا عورت اپنی خواہش پر نادرا کے دفتر جاکر اپنی جنس تبدیل کراسکے گا یعنی لڑکی اپنا حلیہ لڑکوں والا بنا کر نادرا آفس میں کہے کہ میں نے اپنی جنس تبدیل کرانی ہے لہذا آپ میرا نام خالدہ بی بی کی بجاۓ خالد خان لکھ دیں اور جنس کے خانے میں لڑکی کی بجاۓ لڑکا لکھ دیں تو اس قانون کے مطابق نادرا والے ایسا کرنے کے پابند ہونگے۔ اب وہ لڑکی جو کاغذی کاررواٸی کے مطابق لڑکا بن گٸ تو وراثت میں وہ بھائی کے حصے کا آدھا لینے کی بجاۓ بھائی کے برابر حصے کی حقدار رھے گی۔ ایک تو قرآن میں اللہ کے مقرر کردہ حصوں کی خلاف ورزی دوسرے یہ کہ یہ بناوٹی لڑکا حقیقتا لڑکی کسی لڑکی سے ہی شادی کریگا جیسا کہ مغربی دنیا میں ہم جنس سے شادی ہوگئی۔ یہ دوسرا خلاف اسلام کام ہوا جسے اس قانون کے تحت تحفظ مل جاۓ گا۔ جب ایک لڑکا نادرا آفس میں جا کر اپنی جنس لڑکی لکھوا لیتا ہے شناختی کارڈ پر اور پھر وہ لڑکیوں کا سا حلیہ بنا کر دوسروں کے گھروں میں لڑکی بن کر بے دھڑک چلا جاتا ہے تو وہ کیا کیا گل کھلاۓ گا۔ گاڑی میں سفر کریگا تو عورتوں کیساتھ بیٹھے گا۔ عورتوں کی محفلوں میں شامل ہوکر کیا گل کھلاۓ گا۔ اس تصور سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ میں حیران ہوں جن قومی اسمبلی کے ممبران نے یہ بل پاس کرکے سینیٹ کو بھجوایا ہے وہ اپنی بیوی بہن اور بیٹی کو ان عورت نما مردوں کی ہوس کا نشانہ بننے سے کیسے محفوظ رکھ سکیں گے۔ یہ لوگ نہ صرف مغربی آقاٶں کو خوش کرکے اللہ کی ناراضگی مول لے رہے ہیں بلکہ اپنی عزت کا بھی جنازہ نکالنے کا اہتمام کررہے ہیں۔ اس خطرے کے علاوہ یہاں بھی اسلامی قانون وراثت کی رو سے اللہ کی مقرر کردہ حد ٹوٹنے کیساتھ ہم جنس کی شادی ہوگی جوکہ صریحا خلاف اسلام ہے۔ صرف جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے سینیٹ مین اس پر اعتراض اور احتجاج کیا لیکن باقی تمام مذھبی اور سیاسی حکومتی و اپوزیشن پارٹیوں نے اپنے آقاؤن کی خواھش پر اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ مجھ سمیت ھر مسلمان مرد و عورت پر فرض عاٸد ھوتا ھے کہ اس بل کی شدید مخالفت کرتے ھوٸے اسے مسترد کردیں۔ آپ بھی بحیثیت مسلمان اس کے خلاف آواز اٹھائیں اور تیار ھوجاٸیں کہ جو بھی حکومت اسلام مخالف شریعت مخالف قانون لاٸے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جاٸے۔۔۔۔!!!


