عنوان: اب فیصلہ ھو کر رھے گا ۔۔!!

ٹاٸٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: اب فیصلہ ھو کر رھے گا ۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
ستر سالوں سے میں آپ اور ھم سب نے اپنی ذات اور اپنے مفادات کی خاطر ان سیاستدانوں کے فریب و جھوٹ کا شکار ھوتے رھے بار ہا بار اعتماد کھونے کے باوجود سر پر بیٹھاتے رھے دو نسلوں کو ان کے ظلم و بربریت کا شکار کرواتے رھے۔ ان ظالمین کے نسلوں نے بھی زہر اور ڈنگ مارنے سے باز نہیں آتے۔ ھم عوام تا حال ان کی غلامی کا پٹا باندھتے رھے۔ کہیں جٸے بھٹو کہیں جٸے الطاف تو کہیں ساڈا نواز اور کہیں کھلاڑی کے نعروں نے اس سرزمین کو عدل و انصاف اخوت اہلیت و قابلیت تہذیب و اخلاق روزگار و امن و سکون گویا زندگی و حیات چھین کر رکھ دی ھو۔ اب جتنا جینا محال ھوگیا ھے اس سے کٸی قدر مرنا مشکل بن گیا ھے۔ شیطانیت فسطانیت دجالیت مکمل غالب آگٸی ھے۔ جھوٹ فریب دھوکہ معمول کا حصہ بن کر یو ٹرن کے نام سے داد وصول کر رھی ھے تو دوسری جانب امیر و کبیر طاقتور اپنے سے کمزوروں کو دبوچتے نوچتے پھر رھے ہیں۔ اس ملک کو کافرستان سے بدتر بنانے والے شفاف سوٹ والوں سے سلام قبول کرتے ہیں اور شفاف سوٹ والے آٸین کی پاسداری کرنے میں مجبور ھوجاتے ہیں۔ دل تو ان کا بھی یہی چاہتا ھے کہ یہ آٸین جسے ان عیاشوں گمراہ اور دھریوں نے تبدیلیاں لا لا کر ایسی تحریر بناکر رکھ دی جو صرف ان کے تحفظات اور انسان سوز عوامل کی ڈھال بن جاٸے۔ عوام کیساتھ ساتھ ان شفاف سوٹ والے بھی جانتے ہیں کہ موجودہ آٸین مکمل دین الہی کے برخلاف ھے شریعت محمدی صلى الله عليه واله وسلم کی مکمل مخالف ھے۔ سود۔ شراب۔ زنا۔ چوری۔ ڈکیتی۔ بد دیانتی۔ عدم مساوات۔ ظلم و جبر۔ عدم تحفظ اور اقربہ پروری جیسے غیر اسلامی غیر شرعی عوامل سر عام ھوتے دکھاٸی دیتے ہیں۔ یہاں کے نظام کو پوری دنیا نے مسترد کیا ھوا ھے اور بد ترین قرار دیا لیکن اس نظام کا جاری رہنا ہی ان عیاش اشرفیہ نوکر شاہی طبقہ مولوی ملا اور میڈیا کی بقاء و سلامتی موجود ھے درحقیقت یہ نظام دجالی مافیاٶں کا تیار کردہ ھے۔ پاکستانی عوام اور شفاف سوٹ والوں کا کہنا ھے کہ اگلے ماہ اکتوبر سنہ دو ہزار باٸیس اور عام انتخابات سنہ دو ہزار تیٸیس میں آخری مرتبہ ان سیاستدانوں کو دے رھے ہیں کہ خود کو سدھارتے ھوٸے اسلامی آٸین کی طرف رجوع کریں اور جس حلقے علاقے کیلٸے امیدوار کھڑا کریں وہ امیدوار اسی علاقے کا مقامی ھو یعنی وہیں پیدا اور پلا بڑھا ھو بصورت وہ پسندیدہ پارٹی کیوں نہ ھو غیر مقامی امیدوار کو ووٹ ہرگز نہیں دیں گے کیونکہ بہت ھوگٸی شخصی عبادت و اطاعت کرتے ھوٸے اب عبادت بھی اللہ کی ھوگی اور اطاعت بھی رب العزت کی کرنی ھے جو مقامی نیک شریف باکردار ھوگا وہی اب بھاری ووٹ لیکر جیتے گا کیونکہ اب فیصلہ عوام کا ھوکر رہیگا انشاء اللہ ۔۔۔۔!!


