عنوان:کراچی سنہ 1948 سے سنہ 1970 تک

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:کراچی سنہ 1948 سے سنہ 1970 تک
کراچی شہر جو پاکستان کا دل کہلاتا اور صنعت و تجارت کا مرکز ھے آج ھم 1970 سے قبل پاکستان کے دارلخلافہ کے سنہ 1948 سے سنہ 1970 تک کے ادوار پر نظر ڈالیں گے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! کراچی شہر میں روزانہ سڑکیں دھلا کرتی تھیں۔ صاف و شفاف، چمکتی ہوئی، بندر روڈ جسے اب ایم اے جناح روڈ کے نام سے پکاراجاتا ہے، شہرِکراچی میں ٹرام چلا کرتی تھی۔ عمارتیں تھیں کہ بس مت پوچھئے، ایک عظمت ہی نرالی تھی۔ وہ اب بھی کھڑی ہیں جیسے کے ایم سی بلڈنگ، فریئرہال، مزار قائد، چڑیاگھر اور بیشمار کھیل کے میدان۔۔۔۔معزز قارئین!!کراچی شہر سنہ 60ء کی دہائی میں دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ یہ پر امن ترین شہر تھا۔ دنیا جہاں کے سفارتکار، سیاح اور ہپی، شہر میں کھلے بندوں پھرتے تھے۔ ہوٹلز، ڈسکوز اور بازار آباد تھے۔ کراچی کا ساحل دنیا کے دس شاندار ساحلوں میں سے ایک تھا۔قومی ایئر لائنز دنیا کی چار بڑی ایئر لائیز میں آتی تھی۔ یورپ، امریکہ، مشرق بعید، عرب ممالک، سوویت یونین، جاپان اور ہندوستان جانے والے تمام جہاز کراچی اترتے تھے اور مسافر کراچی کے بازاروں میں ایک دو گھنٹے گزار کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجاتے تھے۔ شہر میں ڈبل ڈیکر بسیں چلتی تھیں۔ حکومت نے انڈر گراﺅنڈ ٹرین کیلئے شہر میں کھدائی مکمل کروادی تھی اور یوں کراچی ایشیاء کا پہلا شہر بننے والا تھا جس میں میٹرو کی سہولت ہوتی۔کراچی کی روشنیاں رات کو دن میں بدل دیتی تھیں۔ سفارتکار کراچی کو روشنیوں کا شہر کہتے تھے۔ کراچی کے ساحل بھی لاجواب تھے۔ گورے ہفتہ اور اتوار کا دن بیچ کی گرم ریت پر لیٹ کر گزارتے تھے ۔ ساحل کے ساتھ ساتھ سائے کل بھی چلاتے تھے۔ کراچی میں دنیا بھر سے بحری جہاز آتے تھے اور ان بحری جہازوں کے ذریعے ہزاروں مسافر کراچی آتے تھے۔کراچی خطے کا جنکشن بھی تھا۔ یورپ سے لوگ ٹرین کے ذریعے استنبول آتے تھے۔ استنبول سے تہران، تہران سے کوئٹہ اور کوئٹہ سے کراچی آتے تھے۔ کراچی میں رک کر ٹرین کے ذریعے انڈیا چلے جاتے تھے اور وہاں سے سری لنکا “نیپال اور بھوٹان“ تک پہنچ جاتے تھے۔
کراچی میں دنیا کی جدید ترین مصنوعات ملتی تھیں، کراچی بڑی گاڑیوں کی بہت بڑی مارکیٹ ہوتا تھا۔ جاپان، یورپ اور امریکہ سے مہنگی گاڑیاں کراچی آتی تھیں اور کراچی کے سیٹھ باقاعدہ بولی دیکر یہ گاڑیاں خریدتے تھے۔ کراچی کا ریلوے اسٹیشن دنیا کے بہترین اسٹیشنوں میں شمار ہوتا تھا۔ ٹرینز بھی جدید، صاف ستھری اور آرام دہ تھیں اور ٹرینوں کے اندر کھانا بھی صاف ستھرا اور معیاری ملتا تھا۔ کراچی شہر صاف ستھرا تھا، فضا بہت اچھی تھی۔ سردیوں اور گرمیوں میں درجہ حرارت معتدل رہتا تھا۔ بیورو کریسی پڑھی لکھی، محب وطن اور کوآپریٹو تھی اور حکومتی عہدیدار اعلیٰ تعلیم یافتہ اور کلچرڈ تھے۔ لوگ بہت مہمان نواز تھے۔ شہر میں کسی قسم کی ٹینشن اور خوف نہیں تھا۔ کراچی کے کسی سفارتخانے کے سامنے سیکیورٹی گارڈ یا پولیس نہیں ر ہتی تھی۔ پاکستان کے لئے کسی ملک کے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔پاکستانی شہری جہاز میں سوار ہوتے تھے، یورپ کے ممالک میں اترتے اور انہیں ائرپورٹ پر ویزا مل جاتا تھا۔ اس کی وجہ بہت دلچسپ تھی۔ پاکستان اس وقت دنیا کا واحد ملک تھا جس میں صرف ان لوگوں کو پاسپورٹ دیا جاتا تھا جو واقعی جینوئن مسافر ہوتے تھے۔ پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ کے حصول کے لئے اپنے خوش حال ہونے،صاحب جائداد ہونے اور سفر کی وجوہات کے ثبوت دینا پڑتے تھے چنانچہ پاکستان کے جس شہری کے پاس پاسپورٹ ہوتا تھا، اس کا مطلب ہوتا تھا کہ وہ صاحب حیثیت جینوئن مسافر ہے لہٰذا تمام ممالک اسے ”آن ارائیول “ ویزا دے دیتے تھے۔پاکستان کا معیارِ تعلیم پورے خطے میں بلند تھا۔طالبعلم یورپ، عرب ممالک، افریقہ، مشرق بعید، ایران، افغانستان اور چین سے تعلیم حاصل کرنے کیلئے پاکستان آتے تھے اور کراچی اور لاہور کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں داخل ہوجاتے تھے۔ امریکہ اور یورپ کے پروفیسر روزگار کیلئے پاکستان کا رخ کرتے تھے۔ کراچی شہر میں ایک ہزار کے قریب غیر ملکی ڈاکٹر، طبیب اور پروفیسر تھے۔ پاکستان کا بینکنگ سسٹم جدید اور فول پروف تھا۔ بجلی، ٹیلیفون، گیس کا انتظام بہت اچھا تھا۔سیوریج سسٹم شاندار تھا۔ کراچی میں بارش کے آدھے گھنٹے بعد سڑکیں خشک ہوجاتی تھیں، روزگار کے مواقع عام تھے، فیکٹریاں پر فیکٹریاں لگ رہی تھیں ساتھ ساتھ پروان بھی چڑھ رہی تھیں جبکہ مال بھی کثرت سے ایکسپورٹ ہورہا تھا۔ برآمدات اسی فیصد اور درآمدات بیس فیصد تک تھا۔ زرعی اجناس وافر مقدار میں پیدا ھورہی تھیں جبکہ کپاس چینی گیہوں آم گھجور سمیت بیشمار اجناس دنیا کی منڈی پر چھائے ھوئے تھے۔ ہر شعبہ کرپشن لوٹ مار رشوت بدعنوانی سے پاک تھا اور تمام سرکاری ادارے مثالی خدمت سے سرشار تھے۔ کراچی میں بازار چوبیس گھنٹے کھلے رہتے تھے۔ کے پی ٹی کے زیر سرپرستی میں کیماڑی بندرگاہ سے بڑے بڑے شپ مسافروں کو لیکر دنیا بھر میں سفری سہولت بہم کرتے تھے خاص کر حج اور عمرہ کے زائرین سمندری راستے جایا کرتے تھے۔چھوٹی لائن پر اسٹیم انجن کے ذریعے ٹرینیں چلا کرتی تھیں مگر کبھی بھی حادثے کا شکار نہیں ھوئیں۔ پاکستانی کرنسی کی ویلیو بہت تھی ٹکا اور پیسہ چلتا تھا ایک روپے میں سو پیسے ھوتے تھے۔ سونا چاندی پیتل کاپر ایک عام شخص کی دسترس میں تھا۔ سب سے زیادہ سونے کے بازار بھی کراچی میں ھوتے تھے گوکہ کا کراچی سنہ 1970 سے پہلے کا کراچی نہایت شاندار پرسکون پرامن پرکشش پرفضا اور نایاب شہر تھا جو اب صرف خواب بن کر رہ گیا ھے۔۔۔۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی



