کالم/مضامین

عنوان:پندرہ ویں صدی کے عرب و عجم

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:پندرہ ویں صدی کے عرب و عجم

حالیہ دنوں میں کرونا وائرس کے ڈر سے مسجد الحرام خانہ کعبہ اور مسجد نبوی سے قرآن پاک کو خالی کرانے کے متعلق کالم تحریر کیا تھا یقیناً میرے قارئین نے ضرور مطالعہ کیا ھوگا انہی قارئین میں میرے میرپورخاص کے دوست افتخار احمد بھی ہیں انھوں نے جہاں سراہا وہیں ایک ایسے خوفناک واقعات سے روشناس کیا کہ جس کو جان کر دل بہت زیادہ مغموم ہوگیا وہ مجھے بتاتے ہیں کہ سعودی عرب میں ہندو رامائن اور مہابھارت عالم اسلام اور خود بھارت حیران و ششدر ہوگئے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے سعودی تعلیمی نصاب میں ہندو صحائف رامائن اور مہابھارت کو شامل کرنے کا اعلان کردیا!
یہ سب کیا اور کیوں؟گزشتہ برس میری تحقیق "ZIONISM vs KABA, Myths Decoded” کی اک سادہ تقریب رونمائی ہوئی جس میں منکشف کیا گیا کہ ہندو رامائن درحقیقت دین اسلام کی چودہ سو سالہ جلاوطنی کے بعد حضرت امام المہدی کیساتھ واپسی کی پیشن گوئیانہ داستان ہے۔ مذکورہ کتاب دو مذاہب سے متعلق ہے۔ ہندو رامائن
یہودی داستان گلگامش
جنہیں بیس برسوں کی طویل عرق ریزی اور تقریباً چار ہزار برس بعد ڈیکوڈ کرلیا گیا۔ دونوں ہی کا ایک ہی موضوع اور ایک ہی دیومالائی انداز بیان تھا کیونکہ اس ممکنہ الہامی علم کو بنی اسرائیل کے سنیاسیوں نے بڑی عرق ریزی اور چالاکی سے اپنی آئندہ نسلوں کیلئے چھپادیا تھا۔ انہیں دیومالائی کو قرآن نے بھی *”اسطیر الاولین”* کا نام دیا ہے تاہم آج چودہ سو سال بعد اس حقیقت پر فوکس ہوسکا کہ ان کی کیا حقیقت ہے؟ میری ہر ممکن کوشش رہی کہ امت مسلمہ کے علماء اسکالر اور علمی شخصیات اس سلسلہ میں توجہ دے پائیں۔ لیکن افراتفری اور دجالیت سے بھری اس صدی میں یہ بہت مشکل کام تھا۔خوش قسمتی سے سوشل میڈیا کے ذریعے عرب اور حرمین الشرفین کے علماء کو متوجہ کرنے کا موقعہ میسر آگیا۔ سلسلہ جاری رہا اور الحمدلله آج سعودی عرب کے تحقیقی تعلیمی نصاب میں رامائن اور مہابھارت کو شامل کرکے اس سے حاصل ہونے والی ممکنہ الہامی روشنی سے استعفادہ کرنے کی راہ ہموار ہورہی ہے!! ایسا کچھ انڈیا کی خوشنودی, اسرائیلی دباؤ یا دین اکبری کی طرز پر اختلاط مذاہب کیلئے نہیں کیاجارہا بلکہ ان صحائف میں موجود عالمی حالات, امن عالم, اسرائیل و عرب تنازعہ, غزوةالہند اورمشرقی وسطیٰ کے پرامن استحکام کی ضرورت پر مواد کے منکشف ہونے کی بنا پر کیا جارہا ہے۔۔۔۔معزز قارئین!! ھم زیادہ دور نہ جائیں عرب امارات دبئی کے امیر شیخ محمد المکتوم نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور انتہاپسندوں کو خوش کرنے کیلئے حکومتی خرچے پر ایک شاندار مندر تعمیر کرایا جس میں خالص سونے کے بت رکھے گئے یہی نہیں بلکہ افتتاح اپنے ہاتھوں سے کیا اور ہندو مذہبی رسومات میں بھی حصہ لیا یہ سلسلہ عرب ممالک میں جہاں پھیلا ھے وہیں عجمی ملک نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ عالم اسلام کے سربراہان اپنی عوام اور رعایا کو سیاسی معاشی اور اخلاقی طور پر کفار و مشرکین کی ایماء پر کمزور کرچکے ہیں کیونکہ اسرائیل گریٹر بننے کیلئے ہم میں سے ہی اندرون خانہ حملہ کریگا جس کا جواب دینے کی سکت کسی میں نہیں رہے گی۔ اسرائیل امریکہ یورپ اور بھارت سمیت دیگر حواری اور حمایتی مملکت کیساتھ عالم اسلام کو شراب, شباب, سود اور حرام کاریوں کا اس قدر عادی بنارہا ھے کہ ان میں ایمان رتی برابر نہ رہ سکے۔ یاد رکھنے کی بات ھے کہ ہمیں اپنے ظاہری و پوشیدہ دشمنوں سے محفوظ رہنا ھے الله عالم اسلام بلخصوص کفار و مشرکین کے شر سے محفوظ فرما آمین ثما آمین۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You