عنوان:خصوصی انٹرویو چیرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:خصوصی انٹرویو چیرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر
موجودہ وقت میں سندھ کی سیاست میں ہلچل بے چینی اور حقوق کے مطالبات کی سورش بڑھتی نظر آرہی ھے۔ سندھ کے بڑے شہر اور پاکستان کا تجارتی صنعتی اور کاروباری حب سابقہ پاکستان کا دارالخلافہ کراچی کے باشندوں اور کراچی پر ریاستی و صوبائی حکومت کی عدم دلچسپی نے نہ صرف کراچی بلکہ حیدرآباد’ میرپورخاص’ سکھر’ نوابشاہ اور لاڑکانہ کے
باشندوں کا جینا محال بنادیا ھے۔ حقوق اور عدل و انصاف کی ان آوازوں میں بیشتر سیاسی جماعتوں کی تحریک نے نئے انداز سے اپنی اپنی حیثیت بنانی شروع کردی ھے۔ نئے انتخابات میں صرف دو سال رہ چکے ہیں۔ صوبہ سندھ میں ماضی قریب میں دو بڑی سیاسی جماعتوں نے اپنے اختیارات کو اپنے ذاتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جس میں سندھ کو دو حصوں میں منقسم کردیا تھا ایک شہری سندھ دوسرا دیہاتی سندھ جسے عام فہم میں اربن اور رورل کے نام سے جانا پہچانا جاتا ھے۔ یاد رہے تقریبا تیس سال سے زائد متحدہ قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم شہری علاقوں میں برسرِ اقتدار رہی جبکہ دیہی علاقوں میں ستر سالوں سے پاکستان پیپلز پارٹی یعنی پی پی پی برسرِ اقتدار رہی۔ دونوں جماعتوں نے کس قدر صوبے اور عوام کیساتھ انصاف کیا یہ عوام ہی بہتر بتاسکتے ہیں۔ سندھ بلخصوص کراچی کی سیاسی صورتحال پر میں نے گفت و شنید کیلئے خصوصی انٹرویو چیرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر سے کرنے کا ارادہ کیا اور ڈاکٹر سلیم حیدر صاحب سے وقت طلب کیا جو انھوں نے بلا پریشان کیئے فوری وقت دیدیا جس پر میں ان کا شکرگزار ھوں۔۔معزز قارئین!! چیرمین مہاجر اتحاد تحریک ڈاکٹر سلیم حیدر سے زندگی میں پہلی بار ملاقات کی۔ ملاقات پر انکا رویہ انتہائی شفقت محبت مہذب اور اخلاق پر مبنی تھا۔ سب سے پہلے میں نے انکے آباؤاجداد کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے بتایا کہ ان کے والدین بھارت کے ریاست اترپردیس کے شہر بدایوں شہر سے ہجرت کرکے حیدرآباد سندھ آبسے پھر وہاں سے کراچی مستقل سکونت اختیار کرلی۔ مہاجر اتحاد تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر سلیم حیدر نے اپنے خاندان کے کا تعارف کراتے ھوئے بتایا کہ ہمارے قریب ترین رشتہداروں میں شکیل بدیونی’ محشر بدایونی’ میکش بدایونی جیسی شخصیات شامل ہیں۔مزید بات کرتے ھوئےکہا کہ منحس القوم لیڈر کے بچکانہ فیصلوں سے قومیں تباہ و برباد اور پستی کی جانب دھکیل دی جاتی ہیں جیسے مہاجر قوم کو الطاف حسین نے غیر سنجیدہ اور بچکانہ فیصلے کرکے کئی سال دوری کی مصافت پر لاکھڑا کردیا اور وہ اپنی تمام حقوق سے محروم ھوچکے ہیں بات کو بڑھاتے ہوئے کہا کہ الطاف حسین اور اسکے حواری لشکروں نے اْس وقت قوم کا ذہن برین واش کرکے ذاتی خود پسندی کے تحت ایک نعرہ لگوایا کہ ” قائد کا جو غدار ھے وہ قوم کا غدار ھے اور غدار کا انجام موت موت موت ھے”۔پھر زمانے نےدیکھا کیسی کیسی عظیم مہاجر ہستیوں کو ٹارگٹ کلنگ کرکے شہید کیا گیا وجہ صرف یہی تھی کہ وہ قدآور شخصیات تھیں جن میں ہر شخص خود میں ایک انجمن تھا۔ان شخصیات میں رئیس امروہوی’ محسن صدیقی’ حکیم سعید’ عظیم احمد طارق’ صلاح الدین سمیت دیگر شامل ہیں۔

جنکا وطن نہیں تھا انکو بسا دیا ھے
اپنے نصیب ایسے ابتک نہیں بسے ہیں
ڈاکٹر سلیم حیدر نے بتایا کہ گیارہ اکتوبر سنہ انیس سو اٹہتر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء میں کراچی یونیورسٹی میں آل پاکستان مہاجراسٹوڈینٹ آرگنائزیشن یعنی اے پی ایم ایس او کو وجود میں لایا گیا۔ اے پی ایم ایس او کے چیئرمین الطاف حسین اور ڈپٹی چیئرمین عظیم احمد طارق کو بنایا گیا۔ انیس سو اٹھاسی تک تمام مہاجر قوم بشمول طلباء و طالبات نے انتھک مخلصانہ دیانتدارانہ مال و دولت قید و بند کی صعوبتیں جھیلیں اور قوم کو تحریک پاکستان کے بعد تحریک مہاجر کیلئے متحد و منظم کیا اس میں کوئی شک نہیں ایسا اتحاد و اتفاق بہت کم دیکھا جاتا ھے لیکن الطاف حسین اور اس کے رفقائے کاروں کی نیت میں فطور تھا وہ شخصیت پرستی سیاسی نابلدی اور اقتدار کی ہوس میں قوم کے مقاصد کو پس پشت ڈالتے رہے یہی وجہ ھے کہ کئی بار وفاق اور صوبائی ایوان میں بڑی بڑی بااختیار حیثیت پانے کے باوجود کبھی بھی مہاجر قوم کو مقاصد کو حل کرنے میں کردار ادا نہیں کیا۔ چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا جاوید صدیقی صاحب آپ نے دیکھا کہ جس نعرہ اور پہلے مقصد منشور کے تحت یہ آئے یعنی کوٹہ سسٹم کا خاتمہ کیا انھوں نے اپنے ادوار میں قانونی طریقہ کار سے خاتمہ کرایا نہیں ہرگز نہیں جبکہ کئی مواقع بھی میسر آئے مگر ایم کیو ایم نے اسے مزید تقویت بخشی اور مزید بڑھادیا۔ چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا جاوید صدیقی صاحب آپ مجھے بتائیں اے پی ایم ایس او سے متحدہ قومی موومنٹ کیوں بنائی گئی انکے اس سوال پر میں نے کہا کہ یہ سیاسی حکمت ھے آپ بہتر وضاحت کرسکتے ہیں’ میرے جواب پر انھوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ مہاجر قوم سے غداری دھوکہ اور بدنیتی ھے اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ھے کہ آپ مظلوم قوم کا کیس لیکر آگے بڑھے جب مہاجر قوم نے تمہیں بلندی پر پہنچایا یعنی اپنے ووٹ سے قومی اسمبلی سینیٹ اور صوبائی اسمبلی میں بھاری اکثریت سے منتخب کیا تو تمہیں مہاجروں کے حقوق کیلئے جنگ کرنی چاہئے تھی مگر اس ترقی پر ایم کیو ایم اپنی اصلی صورت میں باہر آگئی پھر تاریخ کے مورخین نے لکھا ھے کہ کس قدر اپنی قوم کے نوجوانوں کو ہلاک کروایا’ کتنے نوجوانوں کو تعلیم سے دور رکھا’ کتنے نوجوانوں کو سرکش اور گستاخ بنایا’ انھوں نے بند بوری کلچر متعارف کرایا’ انھوں نے چائنا کٹنگ متعارف کرائی’ انھوں نے رشوت کرپشن لوٹ مار کے نت نئے طریقے متعارف کرائے کیا کیا بتایا جائے بس قوم کو جس قدر اور جس طرح دیوار میں چنوایا جاتا ھے ہر وہ کام کیا۔ چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے بتایا کہ جب جنگ ھوتی ھے تو جنرل کمانڈ سنبھال کر خود جنگ لڑرہا ھوتا ھے یہ بھی ایک جنگ تھی فرق یہ تھا کہ مہاجروں کے حقوق کیلئے لڑی جانے والی جنگ میں ابتدائی دنوں میں ڈرپوک گیدر کی طرح میدان چھوڑا نہیں جاتا۔ زرداری کو لاکھ برا کہیں مگر وہ نر کا بچہ ھے وطن سے نہیں بھاگا جبکہ نوازشریف بزدل ڈرپوک ھے یہی وجہ ھے کہ اس کی سیاست بھی بکھری پڑی ھے۔۔۔معزز قارئین!! چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر سے کہا کہ اس وقت پانچ گروہ کہ لیجئے یا پانچ شخصیات یا پھر پانچ جماعتیں جو مہاجر قوم کا کیس لڑ رہی ہیں ان میں ایک آپ یعنی ایم آئی ٹی دوسرا آفاق یا خالد مقبول صدیقی ایم کیو ایم پاکستان تیسرا مصطفیٰ کمال پی ایس پی چوتھا آفاق احمد ایم کیو ایم حقیقی اور پانچواں فاروق ستار ۔۔۔ آپ سمیت باقی شخصیات اے پی ایم ایس او سے ہی تعلق رھے ہیں یعنی مادر آف سیاست وہی ھے لیکن ہر ایک کے نظریات یا انتظامی اختلافات کی بنیاد پر سب سے پہلے آپ پھر آفاق احمد اور اب سب ایم کیو ایم الطاف حسین سے ناطہ توڑ دیا ھے گویا ایم کیو ایم ٹکڑوں میں منقسم ھوچکی ھے مگر مقصد حق آج تک حل نہیں ھوسکا آپ کیا دیکھتے ہیں اس صورتحال کو مستقبل قریب میں چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ اس سوال کے جواب میں کہتا چلوں کہ ستر سال سے پہلے ہماری شناخت پاکستانی تھی کیونکہ اکثریت بنگالیوں کی تعداد تھی جو موجودہ پاکستان میں کچھ شخصیات کو برداشت نہیں ھورہی تھی اسی سبب پہلے بنگلہ دیش کو پاکستان سے جدا کردیا گیا تاکہ پھر مہاجروں کا قلع قمع کیا جاسکے ھمیں مہاجر انیس سو ستر کہنا شروع کیا اور ھماری متروقہ املاک پر قبضہ کرلیا گیا اور ہمیں معاشی و اقتصادی طور پر مفلوج کردیا ان کا اولین مہاجروں کو تیسرے درجہ کا شہری بنانا ھے جو یہ اپنے مقصد میں کافی حد تک کامیاب ھوگئے انکی کامیابی کے سہولتکار یہی ایم کیو ایم اور انکی باقیات۔ ڈاکٹر سلیم حیدر نے بتایا کہ مہاجروں کا منشور مقصد ایجنڈا حقوق اور عدل و انصاف ھے نا کہ کوڑا کچرا پانی بجلی روڈ کا حصول یہ تو ایک کونسلر بھی کردیتا ھے۔ حقوق اور عدل و انصاف کی بات کی جائے تو آصف علی زرداری نے گلگت بلتستان کو صوبہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بنایا ھے۔
سنہ انیس سو انہتر میں جنرل یحیٰی خان نے آرڈیننس کے ذریعے بلوچستان بنایا اور بھٹو نے اپنے دور اقتدار وزیر خارجہ فیلڈ مارشل ایڈمنسٹریٹر پرائم منسٹر بھی رہا اس نے آرڈیننس کے ذریعے ہی سندھ پنجاب کو صوبے قرار دیئے آج تک صوبے کبھی بھی ایوانوں سے نہیں بنے ہیں اور مہاجر صوبہ بھی آرڈیننس کے ذریعے بہت جلد بنے گا۔ چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا جاوید صدیقی صاحب سنہ انیس سو ستر سے قبل کراچی کی حدود موجودہ حب ٹھٹھہ جامشورو تک پھیلی ھوئی تھی۔ جاوید صدیقی صاحب آپ کا کالم کراچی تیس سال کی دوری پر میں نے پڑھا ھے جس میں آپ نے کراچی کی حدود کا تعین مستقبل قریب میں بتایا ھے یہ وہی ھے جو اصل کراچی تھا اور آپ دیکھیں گے وہی ھوگا۔ آپ کو بتاتا چلوں کہ کراچی شروع سے ہی وفاق تھا یہی وجہ ھے کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے جنرل ایوب تک کراچی پاکستان کا دارلخلافہ تھا وہ تو سازش کے تحت اسلام آباد منتقل کیا لیکن پھر بھی ایوب نے کراچی کو سندھ کا دارالحکومت نہیں بنایا۔ دستاویزات میں آج بھی سندھ کا دارالحکومت حیدرآباد ھے۔ بھٹو نے کراچی کو سندھ کا حصہ قرار دیا لیکن دارالحکومت نہیں۔ سمندری حدود پر واقع تمام علاقہ جات فورسس کے ہیں زیادہ تر علاقے پاک نیوی کی تحویل میں شمار کیئے جاتے ہیں اس نقطہ نظر سے کراچی کے تمام جزیرے وفاق اور فورسس کی ملکیت قانونی حیثیت سے ہیں سندھ حکومت اگر اس بابت سندھ کارڈ کھیلے گی تو اپنے منہ کی خود کھائے گی۔
میری شرافت کو میرا مزاج جانو
کمزور نہ سمجھنا ابتک اٹھے نہیں ھم
چیئرمین ایم آئی ٹی ڈاکٹر سلیم حیدر نے کہا کہ سندھ حکومت یوں کہہ لیجئے پاکستان پیپلز پارٹی نے ستر سالوں سے غیر قانونی تمام ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی قوم کو نوازنے اور اہلیت و قابلیت کا گلا گھونٹنے کے تمام حربے استعمال کرکے بھی ایک معقول قابل شخص پیدا نہیں کیا کیونکہ بھٹو نے سندھیوں سے ایسا انتقام لیا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود یہ قوم ناکارہ اور نامراد ہوکر رہ گئی کسی کا حق کھا کر کبھی بھی ترقی نہیں کرسکتے آج بھی یہی چور ڈاکو بننے پر خوش ھوتے ہیں بس طریقہ واردادت تبدیل ھوگیا ھے پہلے جنگلوں میں رہ کر کرتے تھے اب ایوانوں اور وزارتوں میں بیٹھ کر کرتے ہیں کل بھی رشوت کے عادی تھی اور آج بھی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنا انٹرویو اس جملہ پر ختم کرتا ھوں ۔
کفر کی حکومت تو چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہی
کالمکار: جاوید صدیقی




