عنوان:النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان:النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي۔!
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: النِّكَاحُ مِنْ سُنَّتِي، فَمَنْ لَمْ يَعْمَلْ بِسُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي، (ابن ماجہ: ۱۳۴، باب ما جاء في فضل النکاح) کیا شادی کرنا لازمی اور فرض یا واجب ہے؟ یا پھر تمام عمر بغیر شادی کے بھی رہا جا سکتا ہے جیسے کہ آج کل کچھ لوگ ساری عمر شادی نہیں کرتے اور کیا شادی میں کسی مجبوری کے بغیر تاخیر بھی کر سکتے ہیں مثلا تیس ، پینتیس سال کی عمر میں شادی کرنا؟ نکاح کیا ہے ؟ ان تمام باتوں سوالوں اور ضروریاتِ زندگی کو ہر ذی شعور کو سمجھنا جاننا لازم و ملزوم ھے۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! انسانی معاشرہ دو صنفوں یعنی مردو عورت سے ملکر وجود میں آتا ہے، مرد کیساتھ عورت کی تخلیق کا مقصد کیا ہے؟ بنیادی طور پر اس کا مقصد مرد و عورت کے باہمی تعلق اور ملاپ کے ذریعے انسانی نسل کو آگے بڑھانا اور پروان چڑھانا ہے، جیساکہ قرآن مجید کی بہت سی آیات اور نبی اکرم ﷺ کے فرامین سے واضح ہوتا ہے، اسی مقصد کی تکمیل کیلئے دونوں صنفوں کے درمیان فطری طور پر جنسی کشش رکھی گئی ہے، اس فطری کشش کے نتیجے میں جنسی قوت اور شہوانی طاقت کے وجود اور آغاز کے ساتھ ہی یہ دونوں صنفیں ایک دوسرے کی ضرورت محسوس کرتی اور ایک دوسرے سے سکون ڈھونڈنے لگتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسانوں کیطرح دیگر مخلوقات میں بھی یہ جنسی میلان اور ازدواجی و صنفی کشش کی یہ صورت موجود ہے پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انسان یا دوسرے لفظوں میں مکلف مخلوق یعنی انسان و جن کو اس سلسلے میں دیگر مخلوقات سے کونسی چیز ممتاز اور الگ کرتی ہے؟ اس کا جواب کچھ اس طرح ہے کہ مرد و عورت کے در میان جو صنفی کشش اور شہوانی خوا ہش رکھی گئی ہے اس کی تکمیل و تسکین کی دو صورتیں تھیں۔ ایک یہ کہ ان کو اس بات کا اختیار دیا جائے کہ وہ آزادانہ طور پر جس طرح چاہیں اپنی جنسی ضرورت پوری کریں اور شہوت کی پیاس بجھائیں۔ دوسری صورت یہ تھی کہ انہیں ایک مضبوط و مستحکم اور شریفانہ نظام کے ذریعہ ایک دوسرے سے جوڑ دیا جائے اور اس خواہش کی تسکین و تکمیل کا موقع دیا جائے۔
ہر عقل رکھنے والا شخص یہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ پہلی صورت دیگر حیوانات اور جانداروں کے لائق تو ہوسکتی ہے لیکن انسانوں کے مناسب بہرحال نہیں، اسلیئے کہ انسان صرف ایک حیوانی وجود کا نام نہیں ہے بلکہ وہ ایک متمدن اور سماجی مخلوق کی حیثیت سے وجود میں آیا ہے اوراس حیثیت سے اسکے کاندھوں پر فرائض اور ذمہداریاں ڈالی گئی ہیں، ان ذمہداریوں کی ادائیگی کیلئے وہ ایک خاص قسم کے ماحول اور مخصوص قسم کی تربیت و نگہداشت کا محتاج ہے اور اسکی یہ محتاجی چند دنوں یا ہفتوں یا مہینوں تک نہیں بلکہ سالہا سال کے طویل عرصے تک قائم رہتی ہے۔
پہلی صورت میں جو نقشہ سامنے آتا ہے وہ یہ کہ مرد چند گھڑیوں کیلئے عورت سے مل کر اور لطف اندوز ہو کر اس سے اور اس ملاپ کے نتیجے سے خود کو الگ کر لے اور حمل، ولادت یعنی پیدائش، رضاعت یعنی دودھ پلانے اور اس کے بعد پرورش و نگہداشت وغیرہ کی ساری ذمہداریوں اور تکلیفوں کی سزاوار ایک اکیلی کمزور و ناتواں عورت ٹھہرے، ظاہر سی بات ہے کہ ایک اکیلی عورت تنہا اس ذمہداری کی ادائیگی کیلئے کیسے تیار ہوسکتی ہے؟ اس لئے پہلی بات تو ہے کہ وہ اس ذمہداری کا بوجھ اٹھانے کیلئے تیار ہی نہ ہوگی اور اگر ہو بھی جائے تو اس کی کماحقہ ادائیگی سے قاصر اور عاجز ہی رہے گی۔ اس طرح دوسری صورت ہی کے ذریعہ نسلِ انسانی کا تسلسل و بقا اور تمدن کا تحفظ وجود میں آسکتا ہے، اسلیئے کہ اس سے مستقل وابستگی اور تعلق کی صورت میں خاندانی نظام کی تشکیل عمل میں آتی ہے اور مرد و عورت ماں اور باپ کی شکل میں مشترکہ طور پر فرائض کی تقسیم کے ساتھ بچوں کی پرورش و پرداخت اور تربیت و کفالت کے ذمہ دار ٹھہرتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ میں پہلی صورت کو ’’زنا و بدکاری‘‘ سے تعبیر کیا گیا ہے اور اسے قبیح ترین جرم قرار دیکراس کیلئے سخت اخروی عقاب و عذاب کی وعید کے ساتھ سنگین دنیوی سزائیں بھی متعین کی گئی ہیں، اگر زناکار مرد و عورت غیرشادی شدہ ہوں تو سوکوڑے اور ایک سال کی جلاوطنی کی سزا متعین کی گئی ہے اور اگر شادی شدہ ہوں تو سنگساری یعنی پتھر مار مارکر ہلاک کردینے کا حکم دیا گیا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں نہ صرف یہ کہ زنا سے بچنے کی سخت تاکید کی گئی ہے بلکہ اس کے اسباب و دواعی سے بھی دور اوربہت دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے، قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:۔۔ وَلَاتَقْرَبُوا الزِّنَا اِنَّہ کَانَ فَاحِشَۃً وَّسَاءَ سَبِیْلاً ۔۔ ترجمہ: ’’خبردار زنا کے قریب بھی نہ پھٹکنا کیونکہ وہ بڑی بے حیائی ہے اور بہت ہی بری راہ ہے‘‘ (سورۃ الاسراء :۳۲)۔ مرد کیساتھ عورت کی تخلیق کے مقصد کی تکمیل کا واقعی ذریعہ بس نکاح ہی ہے، نکاح نہ صرف یہ کہ نسل انسانی کی افزائش اور تربیت و نگہداشت کا بے خطر اور محفوظ وسیلہ ہے بلکہ اس کے ذریعہ مرد و عورت کے درمیان جو محبت و تعلق وجود میں آتا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے، یہ محبت و تعلق مرد و عورت کو لطف و مسرت سے بھرپور جنسی زندگی گزارنے اور حقیقی شہوانی لذت و سکون سے ہمکنار ہونے کا ایسا موقع فراہم کرتا ہے کہ اس کی نظیر پیش کرنا ناممکن ہے،
اللہ کے رسولﷺ نے اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں ارشاد فرمایا ہے : لَمْ یُرَ لِلْمُتَحَابَّیْنِ مِثْلُ التَّزْوِیْجِ ’’ دو آپس میں محبت کرنے والوں کے لئے شادی کی مثل کوئی چیز نہیں دیکھی گئی‘‘ (صحیح ابن ماجہ کتا ب النکاح: ۱۵۹۷) ۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! اگر بارہ تیرہ سال میں بچے بچیاں بالغ ہورہے ہیں اور پچیس، تیس سال تک نکاح نہیں ہورہا تو یہ جنسی مریض بھی بنیں گے اور گناہ بھی کریں گے۔ وقت پہ نکاح اولاد کا حق ہے۔ اس میں تاخیر والدین کو گناہ گار کرتی ہے۔ ہر غیر شادی شدہ جوان لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کی طلب رکھتے ہیں اور یہ ایک فطری ضرورت ہے لہذا اپنے بالغ بچے بچیوں کے نکاح کا بندوبست کریں۔ بھوک پیاس کے بعد بالغ انسان کی تیسری اہم ضرورت جنسی تسکین ہے. اور جب جائز ذریعہ نہ ہو تو بچہ / بچی گناہ اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔ بد قسمتی کی انتہا، مدارس، یونیورسٹیز میں بڑی بڑی لڑکیاں لڑکے بغیر نکاح علم حاصل کر رہے ہیں، اور والدین کو نکاح کی پرواہ ہی نہیں۔ انسان کی جنسی ضرورت کا واحد باعزت حل نکاح ہے۔ اور اگر نکاح نہیں تو زنا عام ہوگا یہ عام فہم نتیجہ ہے۔ اپنی بچیوں کے سروں پہ دوپٹہ ڈالنے کا مقصد تب پورا ہوگا جب ان کا نکاح وقت پہ ہوگا۔ اللہ تعالی نے معاشرتی اعمال میں سے نکاح کو سب سے آسان رکھا ہے۔ نکاح انسانوں کا طریقہ ہے۔ جانور بغیر نکاح کے رہتے ہیں اور رہ سکتے ہیں۔ والدین اپنی اولاد پہ رحم کریں اور وقت پہ نکاح کا بندوبست کریں
کالمکار: جاوید صدیقی


