کالم/مضامین

*عنوان:اسمٰعیل ہنیہ شہید؛ تاریخ کا ایک اور باب بند ہوگیا۔۔!!*

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*

*عنوان:اسمٰعیل ہنیہ شہید؛ تاریخ کا ایک اور باب بند ہوگیا۔۔!!*

*کالمکار: جاوید صدیقی*

میں ایک مسلمان اور بحیثیت صحافی و کالمکار دور حاضر کے عظیم مجاہد سرفرشان اسلام اور تحفظ بیت المقدس امت مسلمہ کی اسلامی طاقت اسمٰعیل ہنیہ کی شہادت پر انہیں سلام اور خراج عقیدت پیش کرتا ھوں اور تمنا و خواہش اور دعا یہی رکھتا ھوں کہ اللہ مجھے اپنے پسندیدہ منتخب کردہ والی صفت انسان اسمٰعیل ہنیہ شہید جیسے لوگوں کی فہرست میں شامل کرکے کفار و مشرکین اور یہودیوں قادیانیوں سے جہاد کرتے ہوئے جام شہادت نصیب فرمادے آمین یا رب العالمین۔۔۔۔۔ معزز قارئین!! ایرانی و فلسطینی رہنما اسمٰعیل ہنیہ شہید سلام ھو تمہیں اور اے شہیدو غزہ اور فلسطین کے مجاہدو، تم نے سپہ سالار طارق بن زیاد، سپہ سالار نورالدین زنگی، سپہ سالار صلاح الدین ایوبی، سلطان عبدالحمید، سپہ سالار ارتطغل غازی، سپہ سالار محمود غزنوی، سپہ سالار قطب الدین ایبک، سپہ سالار حیدر علی اور سپہ سالار ٹیپو سلطان، سپہ سالار محمد بن قاسم اور بیشمار ولی صفت سپہ سالاروں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے رسول پاک ﷺ کی خوشنودگی اور اللہ کی محبتیں سمیٹ لی ہیں تم نے کفار و مشرکین اور یہود و نصاریٰ سے جہاد کرکے دین محمدی ﷺ کی عظمت کو بلند رکھا ھے۔ آج کے زمانے میں ایک کھرب سے زائد مسلمان ہیں ایک اندازے کے مطابق دنیا کا پچھتر واں حصہ مسلمانوں پر مشتمل ھے اور اس ارض زمین پر ستاون مسلم ممالک کا وجود ھے مگر صرف فلسطین، افغانستان اور مقبوضہ جموں کشمیر میں ہی اسلام کے داعی اور سرفروشان اسلام و مجاہدین نظر آتے ہیں انکے علاوہ دیگر مسلم ممالک اور ریاستیں دین محمدی ﷺ کے بنیادی اراکین سے کوسوں دور یہ مسلم ریاستیں دولت، شہرت، منصب اور طاقت رکھنے کے باوجود راہ حق اور شریعتی نظام میں چلنے کے بجائے نام نہاد مسلم ریاست ہوکر رہ گئے ہیں کیونکہ ان سب میں دنیا کی محبت رچ بس گئی ھے اور شوق جذبہ جہاد مٹ چکا ھے گویا جذبہ جہاد سے عاری ہوچکے ھیں لیکن فلسطین کے عظیم مجاہدوں بلخصوص اسمٰعیل ہنیہ شہید کو تاریخ اسلام اور دنیا کی تاریخ کبھی بھی فراموش نہیں کرسکیں گے کیونکہ دو تین ماہ پہلے انکے پورے خاندان کو غزہ میں شہید کردیا گیا تھا اور اب انہیں بھی شہید کردیا۔ مہذب دنیا انہیں ایک عسکریت پسند کہے گی کیونکہ شہید اسمٰعیل ہنیہ نے اپنی قوم کیلئے یہ راستہ اختیار کیا تھا لیکن کل کا مورخ اسے ایک ہیرو کی حیثیت سے پیش کرتا رہے گا۔ ایک عظیم مسلمان جو قرآن کے عاشق تھے، جس نے اپنی جوانی سے بڑھاپے تک کا سفر غلامی سے انکار میں گزار دیا۔ آج سے بیس سال پہلے انکے بانی احمد یاسین کو بھی ایسے ہی شہید کیا گیا تھا، یہ عزم و استقلال کا وہ راستہ ہے جس پر صرف مرد آزما ہی چل سکتے ہیں۔ یہ دنیا ہے، کوئی پچاس سال جئے گا تو کوئی ساٹھ ستر سال، دوام کسی کو نہیں لیکن ایک چیز کو دوام ہے کہ اس نے زندگی کیسے گزاری،
اس کارگاہ حیات میں غزنوی آتے رہینگے، وادی فرات کے کنارے کوئی حسین پڑاؤ ڈالتا رہے گا، ” اے نفس مطمئنہ، چل اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی ہے اور وہ تجھ سے راضی ہے، القرآن ” یہ تسلسل آخری امام زمانہ حضرت مہدی علیہ السلام و حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک جاری رہیگا اس سفر کے کاروان خوش نصیب و خوش قسمت ہیں جنہیں یہ سفر عظیم نصیب ھوتا ھے۔ دعا ھے کہ اللہ مجھ ناچیز ایک ادنیٰ سے امتی محمد الرسول ﷺ کو بھی منتخب کرلے اور اس سعادت سے بہرہ مند کردے آمین یا رب العالمین ۔۔۔۔معزز قارئین!! ھم پاکستانی یاد رکھیں کہ روئے زمین پر جہاد نہ ختم ھوا ھے نہ ختم ھوگا البتہ وہ وقت قریب ترین ھوچکا ھے کہ جب مسلمان بلخصوص خطہ فلسطین شام اردن لیبیا مصر عراق ایران افغانستان اور پاکستان ایک کڑی کی مانند کفار و مشرکین شیطان و ابلیس اور دجالی کارفرماؤں کیساتھ بہت جلد جہاد عظیم میں داخل ھوتے نظر آرھے ہیں۔ پاکستانی حکمران ہوں یا سپہ سالار اگر سمجھتے ہیں کہ وہ شیطانی ابلیسی دجالی کارفرما "امریکہ” جوکہ یہود کا دوسرا نام ھے اس کے سائے میں پرسکون اور مطمعین زندگی بسر کرلیں گے تو یاد رکھیں کہ رب العزت نے قرآن میں فرمایا ھے اسکا مفہوم کچھ اس طرح سے ھے "ھم منصبوں عہدوں اور امور کیلئے بندے تبدیل کردیتے ہیں” ۔ اب توجہ طلب بات یہ ھے کہ ان سب اشرفیہ ایلیٹ جماعت بااختیار و مقتدر قوتوں کو سجھنا ھوگا کہ انکے افعال کیا حکم ربانی کے تحت ہیں یا برخلاف جان لیجئے ایک دن موت بھی آنی ھے اور تمام زندگی کا حساب و کتاب اللہ واحد لاشریک کے سامنے ہی پیش کرنا ھے۔ یہ جنرل کرنل کے بڑے بڑے جزیرے، یہ حکمرانوں کی لوٹی ہوئی نربوں دولت کسی کام نہ آئیگی سوائے جہنمی بنانے کیلئے۔ استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ ۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You