کالم/مضامین

عنوان:اسلامی صدارتی نظام کے فوائد۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک

عنوان:اسلامی صدارتی نظام کے فوائد۔۔۔!!

کالمکار: جاوید صدیقی

مسلم دنیا کی تاریخ کہتی ھے کہ مسلم سپہ سالار ھوں یا سلطان یا پھر مسلم بادشاہوں نے اپنی ریاست کے نظام کو خلافت کے نظام سے جدا نہ کیا، وہی طرز عمل طرز زندگی اور طرز حکومت قائم رکھی گویا اپنے اپنے اقتدار میں نظام مصطفیٰ کو رائج رکھا ایسے مسلم سپہ سالار، سلطان اور بادشاہ اسلامی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھے گئے ھیں جن کی طویل تفصیلات ھیں اور اسی اسلامی تاریخ میں اسلامی ریاستوں کے سپہ سالار سلطان بادشاہ اور حکمران ایسے بھی گزرے جنھوں نے نظام اسلام یعنی شریعت محمدی ﷺ سے منہ موڑا اور وہ سب تاریخ پر سیاہ دھبہ بن کر رہ گئے۔ چودہ ویں صدی سے ایک ایسا نظام اسرائیل و امریکہ سمیت برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے اپنی چالاکیوں سازشوں مکاریوں اور دھوکہ دہی کے ذریعے بیشتر مسلم ممالک میں جمہوریت کو نافذ کروایا دراصل جمہوریت نفی ھے اسلامی نظام کی اور یہ کفار و مشرکین اور لادین چاہتے بھی یہی تھے کہ اسلامی ریاستیں کمزور سے کمزور رہیں اور ان پر ھم غالب رہیں۔ اس کیلئے انھوں نے لالچی، بےظرف و بے ضمیروں کا انتخاب کرتے رھے اور انہیں منصب اعلیٰ پر پہنچاتے رہے تاکہ اقتدار کی دوڑ ان کے ہاتھ میں ہمیشہ رھے۔ آج جو کچھ پاکستان کی صورتحال ھے اسی جمہوریت کا سبب ھے۔۔ معزز قارئین!! آج ملک بھر میں صدارتی نظام حکومت کے بارے میں بحث ہورہی ہے جو کہ لائق تحسین ہے۔ ماہرین سیاسیات نے اسلامی صدارتی اور پارلیمانی نظام ہائے حکومت کی خوبیوں اور خامیوں پر طویل بحثیں کر رکھی ہیں۔ اعداد و شمار کی رو سے دنیا کے پچھہتر فیصد جمہوری ممالک میں صدارتی طرز حکومت رائج ہے۔ یہ امر واضح کرتا ہے کہ بیشتر ملکوں میں صدارتی نظام کو فوقیت حاصل ہے۔ اس نظام میں صدر حکومت اور مملکت دونوں کا سربراہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں پارلیمانی نظام کے تحت ہر سیاسی جماعت موروثی سیاست کررہی ہے، باپ کے بعد بیٹا پھر پوتا نسل در نسل اپنوں کو نوازنے والا واحد ملک ہے جہاں غریب کبھی بھی سیاست کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا، دنیا بھر میں جس ملک میں بھی پارلیمانی نظام ہے وہ ملک گو نا گوں مسائل کا شکار ہے، اب آپ دیکھیں کہ ہمارے ملک میں گزشتہ کئی عشروں سے پارلیمانی نظام ہے۔ اسی نظام کی بدولت آج لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں، غربت اور مہنگائی کے تناسب میں ہر روز اضافہ ہوتا جارہا ہے، ٹیکس دینے والی عوام اور اس پر عیاشیاں کرنے والے دس فیصد اشرافیہ ہے، غریب کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں جبکہ کہ سیاستدانوں کے کتوں کی بھی غذا بیرون ممالک سے آرہی ہوتی ھیں تو پھر ہم کس طرح پارلیمانی نظام کی سپورٹ کریں، میں پارلیمانی نظام کی مخالفت پاکستان میں اس لئے لکھتا اور تحریر کرتا ہوں کیوں کہ ہم ترقی پذیر ملک ہیں ہمارے ملک میں تعلیم کا تناسب ساٹھ فیصد سے بھی کم ہے۔ ووٹ دینے والے کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کس کو اور کیوں ووٹ دے رہا ہے اور ہم ایسی قوم کے باشندے ہیں جہاں ووٹوں کو نوٹوں کے بدلے بھی دیا اور لیا جاتا ہے اور زور زبردستی تو کہیں خوف اور بدمعاشی سے ووٹ چھینا جاتا ھے، اس ملک میں آئی ٹی کے ماہر ھونے کے باوجود جدید خطوط پر ووٹنگ نظام کی پروگرامنگ بنانے سے معزرت نظر آتے ھیں یقیناً یہ بھی کسی بڑی طاقت ور کی دھمکی کی نظر ھوں۔ اس تمام بدترین صورتحال کو سدھارنے کا ایک ہی طریقہ ھے کہ سپریم کورٹ اسلامی صدارتی نظام کی شنوائی روزانہ کی بنیاد پر کرے اور جلد تیجہ پر پہنچے تاکہ پاکستان کی بقاء و سلامتی کیلئے اسلامی صدارتی نظام مروج کیا جاسکے آمین۔۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You