اہم خبریں

عارضی وزیر ریوینیو سندھ نے ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں "ڈھاگا رجسٹریشن سسٹم” کا نفاذ کر دیا

*(رپورٹ: اشتیاق سرکی، اے پی این اے)*

*عارضی وزیر ریوینیو سندھ نے ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں "ڈھاگا رجسٹریشن سسٹم” کا نفاذ کر دیا۔*

*ڈھاگا سسٹم کو "ای رجسٹریشن” کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت سائلین کی تمام تر رجسٹریاں روک دی گئی ہیں اور لوگوں کو بتایا جارہا ہے کہ اب سے تمام تر رجسٹریاں اور اندراج "ڈھاگا” سسٹم کے تحت ہوا کریں گی۔*

عارضی وزیر ریوینیو سندھ یونس ڈھاگا نے جاتے جاتے بھی عوام دشمنی کی اپنی رَوِش برقرار رکھی اور ریوینیو ڈپارٹمنٹ سندھ میں صرف اپنی جھوٹی کارکردگی دکھانے کے چکر میں ایک ناقابلِ عمل اور نومولود "ای رجسٹریشن” نظام کو بغیر کسی تیاری اور اہتمام کے عجلت میں نافذ کر دیا گیا۔

"ای رجسٹریشن” کا ایک ایسا نظام نافذ کر دیا گیا ہے کہ جس کی سمج بوجھ نا تو عوام کو ہے اور نہ ہی ریوینیو کی رجسٹریشن کرنے والے اہلکار و افسران کو اس بارے میں کوئی ٹریننگ کروائی گئی ہے۔

اس رجسٹریشن کے نئے نظام کا فائدہ سوائے عارضی وزیر یونس ڈھاگا کے کسی کو نہ ہوسکا۔ یونس ڈھاگا نے ای رجسٹریشن کے نئے نظام کو متعارف کروانے کے چکر میں اربوں روپوں کے فنڈز مختص کروائے۔ جو ناجانے کہاں خرچ ہوئے۔

سائلین کے عرصہ دراز سے پڑے پراپرٹیز کے کاغذات اس "ڈھاگا سسٹم” یعنی ای رجسٹریشن کے نئے شوشے کی نظر ہو گئے اور دفتروں میں پڑے پڑے دھول مٹی کھا رہے ہیں۔ کیونکہ پرانے اور کار آمد طریقہ کار سے اب انکی داخلہ نہیں ہو سکتی اور ڈھاگا رجسٹریشن سسٹم کی سمجھ سوائے یونس ڈھاگا کے کسی ریوینیو ملازم کو نہیں۔

یاد رہے کہ کوئی بھی نیا نظام مکمل طور پر نافذ کرنے سے پہلے اسکو پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر ابتدائی مراحل میں چند مخصوص جگہوں پر نافذ کیا جاتا ہے اور اسکو مسلسل مانیٹر کیا جاتا ہے تاکہ اس میں آنے والے مسائل اور مشکلات کا مشاہدہ کرکے اس نظام کو خامیوں سے پاک کیا جاسکے تاکہ جب اس کا نفاذ مکمل طور پر ہر جگہ کیا جائے تو اس میں نقائص اور جھول نہ ہوں۔

مگر یونس ڈھاگا کو اپنی عارضی وزارت جانے کی اتنی فکر تھی کے اُس نے ان تمام تر مراحل کو یکسر نظر انداز کر کے اپنی جھوٹی کارکردگی دکھانے کے چکر میں پورے رجسٹریشن نظام کا بٹھہ بٹھا دیا۔

عوام الناس کے ساتھ ساتھ ریوینیو رجسٹریشن سے منسلک وکلاء کی بڑی تعداد بھی اس "ڈھاگا رجسٹریشن سسٹم” سے بہت زیادہ متاثر ہوئی ہے اور انہوں نے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کار لاکر کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر عامر نواز وڑائچ کو خصوصی درخواست کی کے وہ اس معاملے میں وکلاء کی مدد اور رہنمائی کریں۔ جس پر عامر نواز وڑائچ نے ہمیشہ کی طرح وکلاء کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لیے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو زاھد عباسی سے رابطہ کر کے فوری طور پر اس ناقابلِ عمل سسٹم کو معطل کروا دیا ہے۔ جس پر بعد میں غور و خوص کرنے اور اسکو مکمل چھان بین اور نقائص سے پاک کرنے کے بعد عمل میں لایا جائے گا۔

عوام الناس اور سائلین نے مطالبہ کیا ہے کہ یونس ڈھاگا کے دور میں ہونے والے تمام تر پروجیکٹس اور منصوبوں کا آڈٹ کروایا جائے اور ان پر آنے والے کثیر اخراجات کا بھی حساب کتاب ہونا چاہیے۔ کیونکہ یہ تمام تر رقم ملک و ملت کی امانت ہوتی ہے نہ کہ یہ یونس ڈھاگا جیسے عارضی وزیروں کی ملکیت ہوتی ہے کہ وہ اس رقم کو اپنی تشہیر اور جھوٹی کارکردگی دکھانے پر خرچ کریں۔

یاد رہے کہ عوام کی طرف سے یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ ان جانے والے نگرانوں کا تعاقب کیا جائے اور انکی کرپشن اور شاہ خرچیوں پر لٹائے جانے والی رقوم کا حساب کتاب لے کر انکا کڑا احتساب کیا جائے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You