سندھ

ضلع کورنگی میں زمین کی تاریخ ساز کرپشن

*ضلع کورنگی میں زمین کی تاریخ ساز کرپشن*

تحریر:
محمد کامران زہری
(بیوروچیف فائیو نیوز ایچ ڈی)

*سوال یہ نہیں کہ کارروائی کیوں ہوئی، سوال یہ ہے کہ آدھی کیوں ہوئی؟*

ضلع کورنگی میں زمین کی تاریخ ساز کرپشن بےنقاب ہونے کے بعد ادارہ ترقیات کراچی (کے ڈی اے) میں قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کاشف خان، ڈائریکٹر لینڈ مراد عباسی اور ڈائریکٹر ریکوری عارف شاہ کو عہدوں سے ہٹا کر انکوائری کا آغاز کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک بڑا قدم دکھائی دیتا ہے، مگر اصل سوال یہی ہے کہ کیا واقعی انصاف ہوا ہے یا صرف چند نام قربانی کے لیے چنے گئے ہیں؟

کیونکہ جس زمین پر مبینہ کرپشن ہوئی، اس زمین کا اصل کسٹوڈین کے ڈی اے اکیلا نہیں بلکہ ضلع کورنگی کی انتظامیہ بھی ہے۔ قانون اور قواعد کے مطابق زمین کی نگرانی، تحفظ اور انتظامی کنٹرول اسسٹنٹ کمشنر ضلع کورنگی اور ضلعی ایڈمنسٹریشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔

*اصل سوال: اسسٹنٹ کمشنر کورنگی کہاں ہیں؟*

ضلع کورنگی کے اسسٹنٹ کمشنر محمد علی کھوسو اور ضلعی ایڈمنسٹریشن کے خلاف اب تک:

*نہ کوئی انکوائری*

*نہ کوئی شوکاز*

*نہ کوئی معطلی*

*نہ ہی کسی قسم کی جواب طلبی*

یہ خاموشی خود ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

*کیا یہ انصاف ہے؟*

جب بلدیاتی اداروں کی غفلت سے:

بچے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو جاتے ہیں

حادثات میں قیمتی جانیں ضائع ہوتی ہیں

تو ان واقعات میں صرف بلدیاتی افسران کو عبرت کا نشان نہیں بنایا گیا، بلکہ علاقائی ڈپٹی کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر اور مختیارکار کو بھی سسپینڈ کیا گیا۔

وہاں یہ اصول لاگو ہوتا کہ ضلعی انتظامیہ بھی جوابدہ ہے،
تو پھر یہاں زمین کی کرپشن کے معاملے میں صرف کے ڈی اے افسران کو کیوں ہٹایا گیا؟

کہیں ایسا تو نہیں؟

یہ سوال اب زبان زدِ عام ہے کہ:

*کہیں ہٹائے گئے افسران ایماندار تھے؟*

*کیا وہ سسٹم کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے تھے؟*

*اور کیا انہیں “سسٹم کی فرمائش” پر راستے سے ہٹایا گیا؟*

جبکہ:

*اصل بااختیار*

*اصل کسٹوڈین*

*اور اصل انتظامی ذمہ داروں کو اگلے مرحلے کے لیے سیف پیسج دے دیا گیا؟*

*انصاف یا سلیکٹو اکاؤنٹیبلٹی؟*

*اگر یہ واقعی کرپشن کا کیس ہے تو:*

انکوائری صرف فائلوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے

دائرہ اختیار، ذمہ داری اور اختیارات کی مکمل چین کھولی جائے

*اسسٹنٹ کمشنر کورنگی اور ضلع کورنگی کی پوری ایڈمنسٹریشن کو بھی شاملِ تفتیش کیا جائے*

*کیونکہ آدھا انصاف، مکمل ناانصافی ہوتا ہے۔*

*نتیجہ*

معاملہ جو بھی ہو، حقائق کچھ بھی ہوں،
انصاف کے تقاضے یہی ہیں کہ:

*کے ڈی اے افسران کے ساتھ ساتھ*

*اسسٹنٹ کمشنر کورنگی اور ضلع کورنگی کی انتظامیہ پر بھی واضح، شفاف اور غیر جانبدار کارروائی کی جائے۔*

*اگر ایسا نہیں ہوتا تو یہ انکوائری نہیں، بلکہ ایک اور مثال ہوگی سسٹم کو بچانے اور سچ کو دبانے کی۔*

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You