صحابِ ثروت ذرا ہوش کے ناخن لیں

*صحابِ ثروت ذرا ہوش کے ناخن لیں*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
اللہ کے نیک اور صاحب ثروت بندوں اور بندیوں کی سب سے بڑی خوبصورت عادت اور عمل یہ ھوتا ھے کہ وہ اپنے بہن بھائی اور انکی اولاوں کیلئے معاون بن جاتے ھیں کیونکہ عبادات و ریاضت میں اللہ کو سب سے زیادہ عزیز یہی عمل اور عبادت پسند ھے یہی سبب ھے کہ اللہ نے اس عمل کا درجہ و مقام اراکین اسلام سے بھی زیادہ دیا ھے۔ ھمارے معاشرے کا المیہ ھے کہ معاونین بننے کے بجائے مخالفت رکاوٹ اور ضد سے باز نہیں آتے ان اعمال کے سبب خود تو جہنمی بنتے ھیں اور پریشان رہتے ھیں ساتھ ساتھ اپنے ہی خونی رشتوں کیلئے تکالیف اور اذیت کا سبب بنتے ھیں اور خام خیالی میں رہتے ھیں کہ ان تکلیف دہ عمل کے باوجود اللہ اور اسکا حبیب ﷺ راضی رہیگا۔ زندگی بہت مختصر ھے جتنا ھوسکے اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کو راضی کرلیا جائے وگرنہ بچھتاوے کے سوا کچھ میسر نہیں ھوگا۔ حسن اخلاق، نرم دلی، سخاوت اور انصاف یہی چار عناصر بہشت کی جانب لے جاتے ھیں۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکواة صرف آپکی ذات تک محدود ھے اگر اللہ کو یہ بہت ہی عزیز ھوتیں تو رسول خدا کو گوشہ نشینی کیلئے رب کہتا لیکن رب کو سب سے پیاری عبادت اور عمل ایک دوسرے کا سہارا بننا مددگار ثابت ھونا اور دل و تکلیف میں ساتھ کھڑا ھونا بہت محبوب ھے، صاحب ثروت لوگوں کے اس عمل پر اللہ اور مزید بے پناہ اپنی ثروت سے عنایتوں سے نوازتا ھے جو بخیل پن اختیار کرتے ھیں اللہ ان سے دی ھوئی ثروت واپس چھین لیتا ھے اگر ڈھیل دیتا ھے تو نہ سدھرنے پر بعد موت کچھ حاصل نہیں ھوتا دعا ھے اللہ ھم سب کو صاحب ثروت بنائے اور ساتھ ساتھ معاونین و مددگار بھی بنائے تاکہ اس کی برکتیں رحمتیں اور کرم کی نوازشیں تا حیات جاری رہیں اور بعد موت اچھا پھل نصیب ھو آمین یا رب اللعالمین۔



