شہر کراچی چلتا ہے تو یہ ملک چلتا ہے اور جامعہ کراچی اس شہر کا مرکز ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر

*شہر کراچی چلتا ہے تو یہ ملک چلتا ہے اور جامعہ کراچی اس شہر کا مرکز ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی*
*2008 ء میں اس شہر کا دنیا کے دس اُبھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا اور آج اس کو رہنے کے قابل بنانے کے لئے اقوام متحدہ مدد کرے گا۔ ڈاکٹرخالد مقبول*
*ریاست نے اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے انہیں فلاحی اداروں کے سپرد کردیا ہے۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*معاشرتی رویے، بنیادی سہولیات کی کمی اور حکومتی سطح پرموثر اقدامات کا فقدان معذور افراد کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ سب سے بڑی معذوری غلامی قبول کرنا، لالچ، حرص، نفرت، بدیانتی اور بے ایمانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو نہ صرف آزاد پیدا کیا بلکہ آزاد رہنے کی صلاحیت اور قابلیت بھی عطا کی۔ آپ سب کو آزادی کا یہ مہینہ مبارک ہو اور یہاں پر غالب اکثریت ان لوگوں کی ہے کہ جن کے آباؤ اجداد نے اس ملک کو بنانے کے لئے بیس لاکھ جانوں کی قربانی دی۔ کراچی میں ہم تین یونیورسٹیاں لاچکے ہیں اور حیدرآباد میں ستاتر سال بعد پہلی یونیورسٹی قائم ہوئی ہے۔ ہم اس شہر میں مزید جامعات لائیں گے، تعلیم حاصل کرنے کا حق سب کا ہے لیکن سب سے پہلے ان کا ہے جن کی وجہ سے یہ آزادی ہے، جن کی وجہ سے یہ پاکستان ہے۔
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ یہ شہر چلتاہے تو یہ ملک چلتا ہے اور جامعہ کراچی اس شہر کا مرکز ہے۔ جامعہ کراچی کو اسپیشل ایجوکیشن کا مرکز بنائیں گے۔ یہ ثابت ہوگیا ہے کہ جنہوں نے ملک بنایا تھا وہ ہی ملک چلاسکتے ہیں۔ سنہ دو ہزار آٹھ عیسوی میں اس شہر کی حالت یہ نہیں تھی جو آج ہے، سنہ دو ہزار آٹھ اور سنہ دو ہزار نو عیسوی میں اس شہر کا دنیا کے دس اُبھرتے ہوئے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ آج یہ شہر جو پورے ملک کو پال رہا ہے اس شہر کا شمار دنیا کے ان چند شہروں میں ہوتا ہے جس کو رہنے کے قابل بنانے کے لئے اقوام متحدہ مدد کرے گا جو لمحہ فکریہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور صدر شعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد ندیم اللہ کی زیر نگرانی چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ کانفرنس بعنوان: ”معذور افراد کے لئے پیشہ ور سوشل ورکرز کا کردار“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد مقبول نے مزید کہا کہ آج پاکستان کے ایوانوں میں کسانوں کی نمائندگی جاگیردار کررہے ہیں، مزدور کی نمائندگی سرمایہ دار کررہے ہیں اور میری اور آپ کی نمائندگی خاندان کررہے ہیں۔ اس کراچی شہر کی یہ مہربانی ہے کہ پاکستان کے ایوانوں میں عام پاکستانی کی نمائندگی عام پاکستانی آپ اور میرے جیسے کررہے ہیں۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ معاشرتی رویے، بنیادی سہولیات کی کمی اور حکومتی سطح پر موثر اقدامات کا فقدان معذور افراد کی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ معاشرتی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اپنے تمام شہریوں، بشمول معذور افراد، کو ان کا حق نہ دیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم بحیثیت قوم اس خاموش مگر باہمت طبقے کو وہ مقام دیں جس کے وہ مستحق ہیں۔ یہ امر انتہائی افسوسناک اور تشویشناک ہے کہ ریاست نے اپنی آئینی و اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بجائے انہیں فلاحی اداروں کے سپرد کردیا ہے۔ ایک فعال، ذمہ دار اور عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ریاست ہی ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جامعہ کراچی نے معذور طلبہ و طالبات کے لئے تعلیم کے دروازے مزید وسیع کرتے ہوئے انہیں مکمل فری شپ فیس میں مکمل رعایت کی سہولت فراہم کردی ہے۔ اس اقدام کا مقصد معذور افراد کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں آسانی فراہم کرنا اور انہیں معاشرے کا فعال رکن بنانے کی جانب عملی قدم اٹھانا ہے۔ جامعہ کراچی معذور طلبہ کو نہ صرف فیس میں مکمل رعایت دے رہی ہے بلکہ تعلیمی، جسمانی اور نفسیاتی سہولیات میں بھی بتدریج اضافہ کیا جارہا ہے۔ سابق رکن قومی اسمبلی کشور زہرہ نے کہا کہ معذور افراد کے وجود کو قبول کرنا بہت ضروری ہے۔ معذور افراد کو فیصلہ سازی کے اہم فورمز، بشمول پارلیمنٹ اور دیگر سرکاری ایوانوں تک رسائی حاصل ہونی چاہئے، تاکہ وہ اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کرسکے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ معذوروں کے قوانین کو پاس کرواسکتے ہیں۔ انسانیت کی خدمت ایک ایسا عظیم عمل ہے جو نہ صرف معاشرے میں ہم آہنگی اور ہمدردی کو فروغ دیتا ہے، بلکہ یہ عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بھی ہے۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے کہا کہ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ معذوری کوئی کمزوری نہیں بلکہ ایک مختلف طرزِ زندگی ہے۔ معذور افراد بھی اپنی محنت، ذہانت، اور عزم کے ساتھ ہر شعبہ ہائے زندگی میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں، بشرطیکہ معاشرہ ان کے لئے سازگار ماحول فراہم کرے۔معذور افراد، جو کہ ہماری آبادی کا اہم حصہ ہیں، کو محض ہمدردی یا طنز کا نشانہ بنانے کے بجائے عملی طور پر انکی حوصلہ افزائی، صلاحیتوں کا اعتراف اور حقوق کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہئے۔ قبل ازیں صدر شعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر محمد ندیم اللہ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پیشہ ور سوشل ورکرز نہ صرف معذور افراد کی انفرادی ضروریات کو سمجھتے ہیں بلکہ انکے خاندانوں، برادریوں اور اداروں کے ساتھ مل کر ایسے منصوبے ترتیب دیتے ہیں جو دیرپا بہتری لاتے ہیں۔ وہ معذور افراد کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کیلئے سرکاری اور غیر سرکاری وسائل کے حصول میں معاونت فراہم کرتے ہیں۔



