شائد یہ سپیس کی سب سے زیادہ دہشت زدہ کرنے والی تصویروں میں سے ایک تصویر ہے

شائد یہ سپیس کی سب سے زیادہ دہشت زدہ کرنے والی تصویروں میں سے ایک تصویر ہے.
خلاباز جب بھی خلا میں خلائی شٹل یا سپیس سٹیشن سے باھر آتے ہیں تو ایک مخصوس رسہ یا بیلٹ سے خود کو باندھے رکھتے ہیں تاکہ اپنے سٹیشن سے زیادہ دور نہ نکل جائیں. زیادہ دور نکل جانے کی صورت میں واپسی کے امکانات تقریبا صفر ہوتے ہیں اور موت کے امکانات یقینی ہوتے ہیں. اس کے علاوہ ناسا "مینڈ منیوورنگ یونٹ” کو بھی استمال کرتا ہے جو خلاباز کو خلا میں کسی رسے یا بیلٹ کے بغیر بھی خاطر خواہ حرکت کرنے میں مدد کرتا ہے . اس تصویر میں خلاباز بروس مک کنڈلیس بغیر کسی چیز سے بندھے ہوئے شٹل سے دور خلا میں صرف "مینڈ منیوورنگ یونٹ” کی مدد سے خود کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور تیرتا ہوا شٹل سے دور نکل جاتا ہے . ایک ذرا سے غلطی اسے لامحدود خلاؤں میں دھکیل سکتی ہے جہاں سے کبھی واپسی ممکن نہیں ہوتی. ایسا کرنے والا وہ تاریخ کا پہلا انسان ہے .
Picture by NASA
Courtesy: iflscience.com



