سا بقہ امتوں کی طرح آج ہم بھی اپنے فائدے کے لیے دینی احکام کی تشریح اپنی مرضی سے

سا بقہ امتوں کی طرح آج ہم بھی اپنے فائدے کے لیے دینی احکام کی تشریح اپنی مرضی سے کر رہے ہیں یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔
آج من حیث القوم صاحب اختیار سے لے کر عام آدمی تک ہر کوئی دوسرے کو نصیحت کرتا ہے لیکن خود اس حکم پر عمل پیرا نہیں ہوتا۔ہم نے دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے ہر اُٹھتے قدم میں کس کا حکم مقدم رکھ رہے ہیں۔اللہ کریم نے کیا پسند فرمایا ہے یہ جاننے کے لیے دنیاوی علم کے ساتھ ساتھ دینی علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب
انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح جسے اللہ کریم نے علم عطا فرمایا اُس کا اس علم کو آگے مخلوق تک پہنچانا اس کے علم کا صدقہ ہے اور اس عمل میں اس کی نظر صرف رضائے باری تعالی پر ہو لوگوں کی واہ واہ کے لیے نہ کرے۔سابقہ امتوں کی طرح آج ہم بھی اپنے معمولی فائدے کے لیے دینی حل اپنی مرضی کا بتاتے ہیں جو کہ سراسر منافقت ہے یہ بہت گھاٹے کا سودا ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں خشوع و خضوع ہے وہ اپنے آپ کو ایسے عمل سے روک لیتے ہیں جو دین سے باہر ہو۔خشوع سے مراد ہے سکون،ٹھہراؤ وہ کیفیت اور حال جو اپنے اللہ کی طرف نصیب ہو اور یہ اپنی کم آئیگی کا احساس دلائے اور امید اور خوف اس کے حال پر وارد رہے اس کیفیت کو حاصل کرنے کے لیے اس بحر میں اترنا پڑتا ہے۔یعنی حصول برکات کے لیے ذکر قلبی اختیار کرنا پڑے گا۔یہ عین دین ہے۔اور قرآن کریم میں براہ راست حکم ہے کہ اللہ کا ذکر کریں اور اس نسبت کی تلاش کی جائے کہ کیفیات کا حامل کون ہے۔اس کا تسلسل قلب اطہر سے جا کر ملے گا۔
یاد رہے کہ اتوار مورخہ 24 اکتوبر دن گیارہ بجے ایبٹ آباد میں ایک عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جہاں بعثت رحمت عالم ﷺ کے موضوع پر امیر عبدالقدیر اعوان خطاب فرمائیں گے۔



