رنگ، برنگی تتلیاں

خصوصی تحریر (کاشف شمیم صدیقی)
زندگی میں کچھ لمحے ایسے بھی آتے ہیں جو دلوں کو چُھو لیتے ہیں، بُھلائے نہیں بھولتے اور امر ہو جاتے ہیں، پچھلے دنوں ایسا ہی کچھ کراچی کی "خواتین جیل "میں بھی دیکھنے میں آیا، ہوا یوں کہ لیگل ایڈ سوسائٹی کی سی ای او حیا ایمان زاہد اپنے کچھ مہمانوں کے ہمراہ Women Prison کے دورے پر تھیں، مہمانوں کے وفد کی جیل انتظامیہ سے تفصیلی ملاقات ہوئی اور چائے پیتے ہوئے ہلکے، پھلکے انداز میں خیالات کا تبادلہ بھی،، خواتین قیدیوں کو جدید تعلیمی طریقوں اور اسکلز سے متعارف کروانے کے سلسلے میں ٹیک ویلی کے عمر فاروق او ر ثوبیا کی گفتگو اہم تھی، بات چیت کا یہ سلسلہ کافی دیر جاری رہا۔ ۔ ۔ پھر دوسرے حصے میں مہمان بمعہ انتظامیہ، جیل کے اندرونی حصوں کو دیکھنے کی غرض سے آگے بڑھے۔ ۔ ۔ صاف ستھرے راستوں پر کھلےِ ترو تازہ پھول، چیدہ چیدہ جگہوں پر اُگی ہری سرسبز گھاس، خوشنمائی میں حد درجے اضافہ کر ر ہی تھی، نظروں کو تمانیت بخش رہی تھی ۔ ۔ ۔ مہمان راہ گزر پر چلتے، سب سے پہلے میڈیکل کیمپ گئے، کمپیوٹر کلاس کو دیکھا، ا ساتذہ سے ملے۔ ۔ ۔ یہ سب کام ہوتے کافی وقت بیت گیا تھا، لیکن مجال ہے جو کسی کے چہرے پر تھکن کے آثا ر نمودار ہوئے ہوں، اُس دن د وپہر میں دھوپ کی حدّت نسبتاََ زیادہ تھی لیکن تپش محسوس ہی نہیں ہوئی، ہوتی بھی کیسے،، شوق اور جذبوں کی صداقت احساسات پر غالب آچکی تھی۔ ۔ ۔ پھر بالآخر وہ لمحہ بھی آگیا جسے قلم کی نوک نے سادہ سے صفحے پر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لیا اور جسے کیمرے کے لینس نے اپنے اندر صدیوں کے لیے قید کرلیا تھا، مہمان Early Learning Centre میں داخل ہوئے تو نھّنے، مُنے بچے کتابیں کھو لے، پڑھنے میں مشغول تھے، کاپیوں پر کچھ لکھ رہے تھے، فرشتوں سی مسکان چہروں پر سجائے، کسی نے ہاتھ میں پینسل پکڑی ہوئی تھی تو کسی نے اسکیل، کچھ رنگ برنگی تتلیاں بنانے میں مصروف تھے تو کچھ بچے بند آنکھوں سے دیکھے، اپنے سنہرے خوابوں کو دوہرا رہے تھے۔ ۔ ۔
” السلام و علیکم، کیا حال ہیں ” حیا نے شفقت بھرا ہاتھ بچوں کے سر پر رکھا تھا
” بچوں نے سلام کا جواب دیا، مہمانوں کو ایک نظر اُٹھا کر بھی دیکھا،، مسکراہٹ ہنوز برقرار تھی ”
تم کیسے ہو؟ ایمان نے قدرے نیلی آنکھوں والے ایک بچے سے پوچھا تھا
"اچھااب آپ سب سے ایک سوال ہے۔ ۔ ۔ یہ بتائیے کہ تتلی کو انگریزی میں کیا کہتے ہیں ”
مہمانوں کو لگا جیسے بچے شاید اپنی ہی دُھن میں مصروف ہیں اور پوچھی جانے والی باتوں پر دھیان کم ہے
دوسرے ہی لمحے معصوم بچوں نے جھٹ سے کہہ دیا "Butterfly” ۔ ۔ ۔ ایک لمحے کو سب نے اُن کی جانب دیکھا تھا۔ ۔ ۔ کمرہ تالیوں سے گونج اُٹھا تھا، احساسات نے ایک نیا روپ اختیار کر لیا تھا، آنکھوں میں کچھ نمی سی اُمڈ آئی تھی، دلوں میں کچھ اضطراب پیدا ہو ا تھا، پھر تالیوں کے شور میں ایک خاموش سے احساس نے یہ سوال بھی پوچھنا چاہا تھا کہ کیا قصور ہے ان بچوں کا جو یہاں اس حال میں ہیں؟ کیا انہیں اپنی زندگی جینے کا حق نہیں،، یہ بھی اپنے خوابوں کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتے ہوں گے، آزاد فضاؤں میں سانسیں لینا چاہتے ہوں گے، پھولوں سے مہکتے کسی باغ میں تتلیوں کے رنگوں کو اُن کے پنکھ کو چُھو کر اُن
سے باتیں کرنا چاہتے ہوں گے، لیکن یہ احساس، یہ سوال دل کے نہاں خانوں میں ہی قید رہا اور شام ڈھلے جیل کی دروں،دیواروں پر اندھیرا سا چھانے لگا۔ ۔ ۔ ایک خاموش سوال کا تعاقب کرتا اک خاموش سا اندھیرا !!



