راولپنڈی : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لیاقت باغ راولپنڈی میں جیالوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا
کہ یہ وہی شہر ہے جہاں ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا تھا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ اس شہر دوبارہ اس وجہ سے آئے ہیں کہ ملک خطرے میں ہے۔ ایک طرف ہم شدید معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور دوسری طرف انہیں معاشرے کے بحران کا سامنا ہے۔ ان بحرانوں کے ساتھ ساتھ وہ دہشتگرد جنہیں قوم نے قربانی دے کر شکست دی تھی وہ ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دھرتی ایک مرتبہ پھر خطرے میں ہے اور ہمیں آواز دے رہی ہے اور اس بچانے کے لئے ہمیں آگے آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائد عوام نے ہمیں "روٹی، کپڑا اور مکان” کا نعرہ دیا تھا جس میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنی آخری انتخابی مہم میں اضافہ کیا تھا کہ "علم، صحت سب کو کام، دہشت سے محفوظ عوام، اونچا ہو جمہوریت کا نام”۔ پاکستان پیپلزپارٹی نے اسی فلسفے کی بنیا پر 2024ءکے انتخابات کے لئے منشور دیا ہے اور ساتھ ہی دس نکاتی معاہدہ بھی دیا ہے تاکہ لوگوں کے مسائل سے نمٹا جا سکے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ہی وہ واحد پارٹی ہے جو ملک کو اس معاشی، معاشرتی اور سکیورٹی کے بحرانوں سے نکال سکتی ہے۔ معاشرہ نفرت اور تقسیم کی سیاست کا شکار ہے اور پیپلزپارٹی وہ واحد پارٹی ہے جو اس سیاست کے لئے ہمیشہ کے لئے دفن کر سکتی ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی ملک کو متحد کرنے کے لئے "سچائی اور مفاہمت کا کمیشن” قائم کرنا چاہتی ہے تاکہ ہم سوچ سمجھ کر آگے بڑھ سکیں۔ پیپلزپارٹی ہی سب کو ساتھ لے کر آگے چل سکتی ہے۔ جہاں تک دہشتگردی کا معاملہ ہے ضروری ہے کہ اسے آج ہی ختم کیا جائے۔ ہمارا یہ وطیرہ ہوگیا ہے کہ ہم کام کو موخر کر دیتے ہیں اور بہانہ بنا لیتے ہیں اور ہم صرف اس وقت دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں جب وہ کوئی بہیمانہ حملہ کر دیتے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم فیصلہ کرلیں کہ کوئی اچھا اور برا طالبان نہیں اور ہمیں دہشتگردی کی ہر شکل کو ختم کرنا ہے۔ ہمیں صرف ان لوگوں سے بات کرنی چاہیے جو شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دئیے ہوئے آئین پر یقین رکھتے ہیں اور اپنے شہریوں کی حفاظت کے لئے دہشتگردی کو منہ توڑ جواب دینا چاہیے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انتخابات 8فروری کو ہونے والے ہیں اور ایک سیاسی پارٹی نے وہی وطیرہ اختیار کر لیا ہے جو اس نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے بعد کیا تھا۔ اب وہ پارٹی ‘ووٹ کو عزت دو” کے نعرے پر نہیں کھڑی، یہ پارٹی لوگوں کو تقسیم کرنا چاہتی ہے اور نفرت کی سیاست حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔ یہ پارٹی عوام کو گمراہ کرنا چاہتی ہے اس لئے شہریوں کا فرض ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر ووٹ دینے کا فیصلہ کریں اور تیر پر مہر لگائیں اور ملک کے خلاف ساری سازشوں کو ناکام بنادیں۔ جیالوں کو چاہیے کہ عوام کو یہ بتائیں کہ یہ وقت جذبات میں بہنے کا نہیں اور انہیں اپنا ووٹ ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ پی ایم ایل ن کے کارکنوں کو بتانا چاہیے کہ ان کی پارٹی ووٹ کو عزت نہیں دے رہی بلکہ ووٹ کی بے عزتی کر رہی ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکروں کو پاکستان پیپلزپارٹی کی جدوجہد کے متعلق بتانا چاہیے جو تین نسلوں سے جاری ہے۔ انہیں اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ عمران خان انتخابات میں نہیں اور وزیراعظم نہیں بن سکتا۔ عمران خان کی پارٹی کے سارے عہدیدار "پلانٹیڈ”ہیں اور ان کا انتخابی نشان بلا بھی انہیں لوگوں کی وجہ سے چھینا گیا ہے۔ اب یہ عہدیدار مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں اس لئے آزاد امیدواروں پر اپنا ووٹ ضائع کرنے کی بجائے عقلمندی سے کام لیتے ہوئے تیر پر مہم لگائیں۔ ملک کی اکثریت ایک شخص کو چوتھی مرتبہ وزیراعظم نہیں دیکھنا چاہتی اور لوگ اسے وزیراعظم کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 8فروری تک جیالوں کو ملک کے سخت محنت کرنی چاہیے۔ پاکستان پیپلزپارٹی عوام کے مسائل حل کرنے کا تجربہ رکھتی ہے۔ صرف پیپلزپارٹی ہی سیاسی استحکام لا سکتی ہے اور انتخابات کو جواز مہیا کر سکتی ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے وعدے پورے کرکے ملک کو ایک خوشحال سمت میں گامزن کرے گی۔ پاکستان پیپلزپارٹی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ نئی سوچ کا انتخاب کرے وہ شہید ذوالفقار علی بھٹو، شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور پاکستان پیپلزپارٹی کے کے نشان تیر پر مہم لگائیں۔




