راولپنڈی : عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے اغوا کے بعد قتل

راولپنڈی : عدالت عالیہ راولپنڈی بنچ کے جسٹس سردار احمد نعیم نے اغوا کے بعد قتل ہونے والی امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے مقدمہ کے مرکزی ملزم کے والد کی درخواست ضمانت کی سماعت 24مئی تک ملتوی کر دی ہے گزشتہ روز سماعت کے موقع پردرخواست گزار کے وکیل طلعت محمود زیدی اورمدعی کی وکیل شبنم نواز بھی عدالت میں موجود تھیں مدعی کی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ یہ ایک ہائی پروفائل کیس ہے جس میں انہیں تاحال درخواست ضمانت کی نقل فراہم نہیں کی گئی جس وجہ سے وہ درخواست پر بحث کے لئے تیار نہیں ہیں لہٰذا سماعت ملتوی کی جائے رضوان حبیب کے والد اور مقدمہ میں نامزد شریک ملزم حریت اللہ خان کی ضمانت کی درخواست قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی محمد افضل مجوکہ نے 23اپریل کو خارج کر دی تھی حریت اللہ پر الزام تھا کہ اس نے وجیہہ سواتی کی نعش کو پیز کے مقام پر اپنی دوسری اہلیہ کے گھر میں گڑھا کھود کر دفن کیا تھا جس کے بعد درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے رجوع کیا تھا درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ درخواست گزار کو بے بنیاد اور بدنیتی سے مقدمہ میں نامزد کیا گیا ہے درخواست گزار پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی ہیں اگر اس ایف آئی آر پر مکمل اور غیر جانبدار انکوائری کروائی جائے تو اس سے بہت سے شکوک جنم لیں گے جبکہ اس کیس میں پولیس کی تمام تحقیقات مکمل ہو چکی ہیں جس کے بعد درخواست گزار کو حراست میں رکھنا درست نہیں عدالت نے درخواست ضمانت پر بحث کے لئے سماعت 24مئی تک ملتوی کر دی حریت اللہ خان پر الزام تھا کہ اس نے وجیہہ سواتی کی نعش کو پیز کے مقام پر اپنی دوسری اہلیہ کے گھر میں گڑھا کھود کر دفن کیا تھا
رپورٹ :(افتخار خٹک سے)



