اہم خبریںپنجاب

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور سٹی پولیس کے درمیان قانونی امور کے بروقت نہ ہونے کا تنازعہ

راولپنڈی بار ایسوسی ایشن اور سٹی پولیس کے درمیان قانونی امور کے بروقت نہ ہونے کا تنازعہ سٹی پولیس سے مذاکرات کے بعد حل جوڈیشنل کملکیس راولپنڈی بار کے پولیس کے لیے بند دروازے کھل گئے

سٹی پولیس کی مذاکراتی ٹیم میں ایس ایس پی سیکورٹی طارق ,ایس پی پوٹھوہار رانا عبد الوھاب شامل تھے جبکہ بار ایسوسی ایشن کی طرف سے صدر بار ارشد مجید ملک سیکرٹی بار ملک مبشر فاروق جوائنٹ سیکرٹری محمد شعیب جاوید شامل تھے دوران مذکرات سٹی پولیس راولپنڈی کی طرف سے مری میں وکلا خاندان پر فائرنگ و دیگر مطالبات پیش کیے گئے صدر بار ایسوسی ایشن ارشد مجید ملک کے مطابق پولیس ٹیم نے ان کو جائز قرار دیا اور ان کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے
صدر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ارشد مجید ملک، جنرل سیکرٹری ملک مبشر فاروق نے مزید کہا ہے کہ تھانہ مری میں دلشاد بی بی نامی خاتون کا عدالت میں آراضی کا زیر سماعت تھا جس پر عدالت نے بیلف کو قبضہ لینے کا حکم دیا جس کے بعد مزکورہ بیلف عدالتی کارروائی کےلیے مری پہنچ گئے تاہم موقع پر دوسرے فریق نے ہنگامی آرائی شروع کردی اور بیلف نے پولیس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا ہے آج وزیراعلی پنجاب مری میں موجود ہے جس کی وجہ سے نفری کہ کمی ہے تو اس کیس کے حوالے سے اگلے دن کہ تاریخ رکھ دی گئی جس پر تمام بیلف عملہ واپس آرہا تھا جس کے ساتھ اس کیس کے وکیل خواجہ ندیم بھی موجود تھے کہ اسی دوران راستے میں مخالفین نۓ راستہ روک کر فائرنگ کردی جس سے وکیل خواجہ ندیم کگ ڈرائیور قیصر شاہ زخمی ہوگئے جس پر متعلقہ تھانہ مین درخواست دائر کردی گئی جس پر پولیس نے کراس ورژن میں وکیل خواجہ ندیم کے بیٹے جو بھی مقدمہ میں شامل کردیا جس لاء کا طالب علم ہے۔ جس پر ڈسٹرکٹ بار راولپنڈی نے ہڑتال کی کال دی تو سی پی او راولپنڈی شہزاد ندیم بخاری، ایس ہی ہیڈ کواٹر محمد طارق، ایس پی پوٹھوہار رانا عبدالوہاب و دیگر آئے اور تمام مذاکرات خوش اسلوابی سے طے ہوئے جس پر سی پی او نے یقین وکلاء کے مطالبہ پر مکمل انکوائری کی یقین دہانی کروائی اور تمام تر معاملہ حل ہوگیا۔ اس موقع پر صدر باد اور سیکرٹری بار کا کہنا تھا کہ وکلا قانون کی بالا دستی ہر یقین رکھتی ہے اور اس معاملے میں سی پی او راولپنڈی کا کردار انتہائی مثبت رہا جو ایک بہتریں افسر کی نشانی ہے تاہم اس معاملے کو مس ہینڈل کرنے والے پی اس او کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔ مذاکرات سے قبل بار ایسوسی ایشن نے گذشتہ روز پولیس کے لیے جوڈیشنل کمپلیکس کو بند کردیا دروازے پر پوسٹر نصب ردئیے کہ پولیس کا داخلہ بند ہے جس سے درجنوں ملزمان عدالتوں میں پیشہ نہ ہو سکے وکلا نے احتجاج بھی کیا اور پولیس کے ناروا روئیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور سڑک پر دھرنا دیکر اس کو بھی بند کردیا تھا جس کے بعد سی پی او مذاکراتی ٹیم نے بار ایسوسی ایشن سے مذاکرات کر کے مسئلہ کو فوری حل کردیا اور وکلا نے اپنا جاری احتجاج ختم کر کے پر امن منتشر ہوگئے

رپورٹ : افتخار خٹک سے

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You