پنجاب

راولپنڈی (افتخار خٹک )سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا نے منافرت پھیلانے

راولپنڈی (افتخار خٹک )سول جج جوڈیشل مجسٹریٹ ڈاکٹر محمد ممتاز ہنجرا نے منافرت پھیلانے کے مقدمہ میں گرفتارصحافی کو مقدمہ سے خارج کرتے ہوئے فوری رہا کرنے کا حکم دیا ہے قومی انگریزی روزنامے کے صحافی اسرار احمد راجپوت کو گزشتہ روزپیرودھائی پولیس نے عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوانے کی استدعا کی اس موقع پراسرارکے وکیل مسعود الحسن شاہ ایڈووکیٹ صحافیوں کی بڑی تعداد بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی عدالت نے مقدمہ کے تفتیشی سے استفسار کیا کہ اس بات کی تصدیق کیسے کی گئی کہ یہ ٹوئٹ پیغام ملزم کا تھاجس پر تفتیشی نے بتایا کہ وہ خود ٹویٹر پر ملزم کا فالوور ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ فالور تو کوئی بھی ہو سکتا ہے جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ٹویٹ کو فرانزک کے لئے بھجوایا جا سکتا ہے اس دوران عدالت کے استفسار پر اسرار راجپوت نے بتایا کہ وہ گزشتہ20سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہے اورصحافی خبر کے لئے مختلف ذرائع استعمال کرتے ہیں جن میں کبھی غلطی کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس خبر کی صحت کی تصدیق نہ ہونے پر میں نے نہ صرف ٹوئٹر پیغام ڈیلیٹ کر دیا بلکہ معذرت بھی کر لی تھی جس پر عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ اس کیس میں نہ تو کوئی ٹھوس شواہد موجود ہیں اور نہ ہی کوئی درخواست دہندہ موجود ہے لہٰذا اگر ملزم کے خلاف کوئی اور مقدمہ موجود نہیں تو اسے اس مقدمہ سے ڈسچارج کیا جائے عدالتی احکامات کے تحت اسرار احمد راجپوت کو کمرہ عدالت سے ہی رہا کر دیا گیایاد رہے کہ تھانہ پیرودھائی کے اہلکار مبین ضیا کی مدعیت میں 24مارچ کوتعزیرات پاکستان کی دفعہ513-Aکے تحت مقدمہ درج کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرار احمد راجپوت نے ٹویٹر کے ذریعے ویڈیو کے ساتھ ایک خبر نشر کی جس سے علاقے میں اشتعال پھیل گیاامن و امان کی صورتحال خراب ہو گئی اور لوگ مشتعل ہو کر مظاہرین کی صورت میں جمع ہونے لگے حالانکہ حقیقت میں ایسا کوئی واقعہ نہ ہو ا جبکہ پولیس نے اس مقدمہ میں اسرار کو 24مارچ کی شام گھر سے گرفتار کیا تھا۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You