راولپنڈی(افتخار خٹک سے )ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس

راولپنڈی(افتخار خٹک سے )ہائی کورٹ راولپنڈی بنچ کے جسٹس صداقت علی خان اور جسٹس عبدالعزیز پر مشتمل دو رکنی بنچ نے امریکی نژاد خاتون وجیہہ فاروق سواتی کے اغوا و قتل کے مقدمہ میں سزا یافتہ مقتولہ کے سسر کی درخواست ضمانت میں درخواست گزار کے وکیل سے قانونی وضاحت طلب کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ہے عدالت نے قرار دیا کہ ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات کے ملزمان کو رعائت دینے کی بجائے تمام قانونی تقاضے پورے کئے جائیں گے وجیہہ سواتی کے سسر حریت اللہ نے عدالت میں دائر درخواست ضمانت میں موقف اختیار کیا تھا کہ ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل
کے فیصلے تک درخواست گزار کو ضمانت پر رہا کیا جائے گزشتہ روز سماعت کے موقع پر
ملزمان کی جانب سے طلعت زیدی ایڈووکیٹ اور مقتولہ کی جانب سے شبنم نواز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئیں اس موقع پر ایف بی آئی کی تین رکنی ٹیم بھی کمرہ عدالت میں موجود تھی دوران سماعت عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ملزم حریت اللہ صرف وقوعہ کے ثبوت مٹانے میں ملوث نہیں بلکہ ریکارڈ کے مطابق سارے واقعہ کا ماسٹر مائنڈ ہے اور اس کا مرکزی کردار ہے کیس کی نوعیت اور موجودہ صورتحال میں جب کہ ٹرائل مکمل ہوئے بھی کوئی زیادہ وقت نہیں گزرا ملزم کی ضمانت کیسے منظور کی جا سکتی ہے عدالت نے مقتولہ کی وکیل شبنم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آپ نے مقدمہ میں بری ہونے والے ملزمان کی بریت کے خلاف اور سزا یافتہ ملزمان کی سزاؤں میں اضافے کے لئے کوئی اپیل دائر کیوں نہیں کی جس پر مقتولہ کی وکیل نے موقف اختیار کیا کہ انہیں مقتولہ کے قانونی ورثا کی جانب سے کوئی ہدایات نہیں دی گئیں تھیں اس کے باوجود ہم نے اپیل کا ڈرافٹ تیار کرلیا تھا لیکن اپیل دائر دائر کرنے کا وقت ختم ہو چکا تھا جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسے سنگین نوعیت کے مقدمات میں عدالتوں کو ملزمان کی ضمانتوں کی کوئی جلدی نہیں لیکن آپ لوگوں نے اس اہم مسئلے کو سیریس نہیں لیا عدالت کو کیس کے ریکارڈ اور فائل کے مطابق چلتی ہے لیکن بعد میں الزام عدالتوں پر اجاتا ہے جس پر مقتولہ کی وکیل نے معذرت خواہانہ انداز میں موقف اختیار کیا کہ اس حوالے سے سٹیٹ کو بھی اپیل دائر کرنا چاہئے تھی لیکن ایسا نہیں کیا گیا عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا آپ بتائیں کہ اس کیس اور موجودہ صورتحال میں ضمانت کیسے لی جا سکتی ہے عدالت نے مزید کاروائی کے لئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج راولپنڈی نے گزشتہ سال 12 نومبر کو وجیہہ سواتی قتل کیس میں نامزد مرکزی ملزم و مقتولہ کے شوہر کوجرم ثابت ہونے پر3مختلف دفعات کے تحت سزائے موت، مجموعی طور پر17سال قید اور7لاکھ روپے ہرجانے کی سزا سنائی تھی عدالت نے مقتولہ کے سسر حریت اللّٰہ اور اس کے ڈرائیور سلطان احمد کو7،7سال قید اور 1لاکھ روپے فی کس ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ عدالت نے مقدمہ میں نامزد گھریلو ملازمین یوسف مسیح اسکی اہلیہ زاہدہ یوسف اور رشید احمد پر مشتمل 3دیگر ملزمان کو شک کا فائدہ دے کر بری کر دیا ہے تھا یاد رہے کہ وجیہہ سواتی گزشتہ سال 16 اکتوبر کو پاکستان آنے کے بعد پراسرارطور پر لاپتہ ہو گئی تھیں تھانہ مورگاہ پولیس نے وجیہہ سواتی کے اغوا و قتل کے الزام میں گزشتہ سال 2 نومبر کو مغویہ کے بیٹے عبداللہ مہدی کی مدعیت میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 365، 302، 201 اور 34کے تحت مقدمہ نمبر577درج کیا تھا جس میں الزام تھا کہ اس کے شوہر رضوان حبیب نے اسے جائیداد کی خاطر اغوا کیا اور بعد ازاں 17اکتوبرکو قتل کر دیاتھا وقوعہ کے2 ماہ بعد گزشتہ سال 22دسمبر کو پولیس نے مقتولہ کے شوہر رضوان حبیب کو باضابطہ طور پر گرفتار کیا تھا۔



