دنیا بھر کی طرح پورے ملک میں یوم عاشورہ مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا

دنیا بھر کی طرح پورے ملک میں یوم عاشورہ مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا
نواسہ رسول کی شہادت پر آج پوری دنیا میں سوگوار ہے، دنیا بھر میں حریت پسندوں کا ملجا ماوی کربلا اور ذات حسین ابن علی ؑہے۔ علامہ آغاسیدحسین مقدسی
گھروں میں عزاداری پر پابندی ایس او پیز اور ایسے اقدامات جو حسینیت سے ٹکرا رہے ہیں کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے
ہم عزاداری امام عالی مقام کو محدود نہیں ہو نے دینگے اورہم سب کچھ قربان کر دینگے لیکن عزاداری پر حرف نہیں آنے دینگے
وطن عزیز پاکستان تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کاوشوں اور قربانیوں کا ثمر ہے، آئین تمام مکاتب کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے، کسی سے امتیازی سلوک آئین شکنی ہے
سامراج سے ٹکرانے کا درس کربلااور حوصلہ حسینیت ؑسے ملتا، کشمیر و فلسطین میں خسینی جذبہ کارفرما ہے، کہ مسلم ممالک میں عرب وعجم کی تفریق کو ختم کیا جائے
موسموں کا تغیر عزاداری کو متاثر نہیں کرسکتا،کربلا میں امام حسین ؑکی لازوال قربانی نے حق و باطل کے مابین دائمی حد فاصل قائم کر دی۔ مرکزی جلوس عاشورہ میں میڈیااور عزاداروں سے خطاب
بانیان مجالس، عزاداروں کو پریشان کرنے کے واقعات کی تحقیقات کی جائیں، انتظامیہ کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کی سرکوبی کی جاے
وفاق اور بالخصوص پنجاب میں عزاداری پر پابندی کے حکومتی قواعد و ضوابط مذہبی حقوق میں رخنہ اندازی ہے، عزاداری کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں
امن کمیٹیوں میں کالعدم جماعتوں کے عناصر کو بے دخل کیا جائے، عشرہ محرم الحرام کے دوران شیعہ سنی یکجہتی کو خراج تحسین پیش کیا گیا، قراردادیں
علامہ آغا سید حسین مقدسی نے جلوس عاشورہ کی قیادت کی اور تبرکات علم مبارک اور ذوالجناح کی زیارت کی اور عالم اسلام اور وطن کی سربلندی کیلئے کی دعاکی
نواسہ رسولؐ کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے زنجیر و قمہ کا ماتم،فوارہ چوک میں علامہ قمر زیدی کا خطاب،شیعہ سنی سوگواران حسین ؑ کی شرکت
راولپنڈی( ) نواسہ رسول ؐ،دلبندِ علی ؑ و بتول ؑ حضرت امام حسین علیہ السلام اور اُنکے 72جانثاروں کی یاد میں یوم عاشوراتوارکودنیا بھر کی طرح پورے ملک بشمول آزاد کشمیر میں روایتی مذہبی جذبے اور عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔راولپنڈی کا مرکزی جلوس عاشورہ امامبارگاہ عاشق حسین تیلی محلہ،امامبارگاہ حفاظت علی شاہ اور امامبارگاہ کرنل مقبول حسین سے برآمد ہوا۔ جس میں شبیہ ذوالجناح، علم عباس، تعزیہ، تابوت اور گہوارہ شہزادہ علی اصغر سمیت دیگر تبرکات شامل تھے۔ اس موقع پرتحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے سربراہ علامہ آغاسیدحسین مقدسی کمیٹی چوک میں میڈیا اور عزاداران سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج دنیا بھر میں حریت پسندوں کا ملجا ماوی کربلا اور ذات حسین ابن علی ؑہے، امام عالی مقام ؑکے نزدیک شہادت محترم ہے لیکن یزید کے ساتھ چلنا گوارا نہیں،آج طاغوت سے مبارز قوتوں کا منبع درس کربلا ہے،سامراج سے ٹکرانے کا درس کربلااور حوصلہ حسینیت سے ملتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیاآج دس محرم کو اجر رسالت ادا کرنے پرسہ دے رہے ہیں،نبی معظم نے معروفات کا حکم دینے اور منکرات سے منع کرنے تشریف لائے،یزید کے طلب بیعت پر حسین نے فرمایا مجھ جیسا تجھ جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ہے،ہم اہل بیت نبوت ہیں ہمارے گھر فرشتے نازل ہوتے ہیں،حدیث کے مطابق حسین منیت کی منزل پر تھے،یزید دین و قرآن و وحی کا انکار کر رہا تھا، ایسے میں حسین علیہ السلام نے مبارزت فرمایی۔ میرے مبارزت کا مقصد امت محمد کی اصلاح ہے،میں حسین ایسی قربانی دے گا کہ تا قیامت انبیاء کی محنتیں بچا کر دم لوں گا،کشمیر و فلسطین میں خسینی جذبہ کارفرما ہے۔ انہوں نے حکومت پنجاب نے گزشتہ حکومت کیاجانب سے جاری کردہ عزادای مخالف ایس او پیز کو لاگو کر رکھا ہے جو بنیادی حقوق کے خلاف ہیں اسے ختم کرنے کا مطالبہ ہیں انہوں نے کہاکہ ہماراآقا امام حسین کے نزدیک عہد ہے ہم عزاداری کو محدود نہیں ہو نے دینگے اورہم سب کچھ قربان کر دینگے لیک عزاداری پر حرف نہیں آنے دینگے، انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں میں عزاداری پر قد غن ہیں وہاں تو ہنود قابض ہیں آپ تو کلمہ گو ہیں مسلمان ہیں آپ کیوں پابندی لگا رہے ہیں۔ علامہ مقدسی نے باورکرایاکہ سامراج وطاغوت کو جواب دینا تو کربلا کو عام کرنا ہوگا،حکومت پنجاب نے احسن انتظامات قابلِ تحسین ہیں اور ایس او پیز درست نہیں ہیں، علامہ آغاسیدحسین مقدسی نے واضح کیاکہ موسموں کا تغیر عزاداری کو روک اور متاثر نہیں کرسکتا،کربلا میں امام حسین (ع) کی لازوال قربانی نے حق و باطل کے مابین دائمی حد فاصل قائم کر دی۔ غم حسین منانا سنت رسول ہے، ہر باضمیر انسان امام حسین کی یاد منا کر حق سے وابستگی اور باطل سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔ حسین رب کے ہیں، حسین سب کے ہیں، انہیں مسلک و مکتب میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے باوکرایاکہ وطن عزیز پاکستان تمام مکاتب فکر کی مشترکہ کاوشوں اور قربانیوں کا ثمر ہے۔ آئین تمام مکاتب کو یکساں حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ کسی سے امتیازی سلوک آئین شکنی ہے۔ وفاق اور بالخصوص پنجاب میں عزاداری پر پابندی کے حکومتی قواعد و ضوابط مذہبی حقوق میں رخنہ اندازی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ متعدد فیصلوں میں نئی عزاداریوں پر پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ کی پابندی کو آئین سے انحراف قرار دے چکی ہے، انہوں نے تشویش کااظہارکیاکہ مختلف شہروں میں چاردیواری کے اندر ہونیوالی مجالس عزا کو بھی پولیس کریک ڈاون کا نشانہ بنایا جارہا ہے،پاکستان کو درپیش فتنہ خارجیت و ہندوستانیت سے مقابلے کیلئے حسینیت کو عام کرنا ہوگا،بعض مقامات پر حکومتی انتظامیہ نامکمل ریکارڈ کی بنیاد پر قدیم روایتی مجالس و جلوس کو بھی نیا قرار دے کر روک رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ بیگناہ علماء و ذاکرین پر عائد ضلع بندیاں ختم کی جائیں، ناقص طریقہ کار درست کیا جائے۔علامہ آغا سید حسین مقدسی نے جلوس عاشورہ کی قیادت کی اور تبرکات علم مبارک اور ذوالجناح کی زیارت کی۔مرکزی جلوس عاشورہ نے فوارہ چوک میں بڑے جلسے کی شکل اختیار کر لی جہاں علامہ سید قمرحیدر زیدی نے ہزاروں عزاداران سے خطاب کرتے ہوئے فلسفہ شہادت پر روشنی ڈالی، مصائب عاشورہ بیان کرکئے۔اس موقع پر ٹی این ایف جے ضلعی محرم کمیٹی کے سید ابو نسم بخاری نے اہم عالمی و قومی امور کے بارے میں قرارداد عاشورہ پیش کی قرارداد میں واضح کیاگیاکہ عزاداری سید الشہداء کے ابدی وسرمدی احتجاج کی ہیت وکیفیت اور تقدس کو اندرونی بیرونی سازشوں سے مامون و محفوظ رکھیں گے۔ قراردادمیں مرکزی جلوس عاشورہ کے ماتم داروں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایامِ عزاے حسینی یکم محرم الحرام سے8 ربیع الاول تک بلاناغہ ملک بھر میں عزاداری کے پروگرام جاری رہتے ہیں لہذا سیکورٹی سمیت دیگر انتظامات میں عزاداروں کے لیے آسانیاں پیدا کی اور بانیان مجالس اور عزاداروں کو پریشان کرنے اور ہراسانی کے واقعات کی تحقیقات کی جاییں اور انتظامیہ کی بدنامی کا باعث بننے والے عناصر کی سرکوبی کی جاے۔ قراردادوزارتِ داخلہ اور ہوم سیکرٹری لیول پر صوبوں میں محرم کنٹرول روم بنائے جائیں اور تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کیساتھ مربوط کر کے قیام امن اور باہمی یکجہتی و یگانگت کی فضا کو مستحکم کیا جائے، عزاداری کے جلوسوں اور مجالس کے انعقاد میں بلا جواز روک ٹوک اور رکاوٹیں پیدا کرنے سے اجتناب برتا جائے اور عزاداری کے انعقاد کے لئے موسوی جونیجو معاہدے پر عملدرآمد کیا جائے۔ قراردادمیں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ عزاداری سید الشہداء کے لئے انتظامیہ کی یک بام دو تا ہوا کی پالیسی ختم کی جاے، نواسہ رسول کے پروگراموں کے لئے غیر اعلانیہ ایس او پیز جبکہ دیگر ہر قسم کے اجتماعات کے لئے فری ہینڈ حقوق فراہم کیے جا رہے ہیں، اس امتیازی سلوک کی نہ آئین اجازت دیتا ہے نہ ہی قانون لہذا انتظامی عصبیت کا خاتمہ کیا جائے۔ قراردادمیں ملک میں جاری دہشت گردی کے واقعات کی پرزور مذمت کی، خیبرپختونخوا، بلوچستان اور پنجاب کے کچھ علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر عساکر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، اور قیام امن کے لئے آپریشن فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کی کامیابی کے لئے افواج پاکستان کے لئے دعا کرتا ہے،اور مکمل حمایت کا اعادہ کیاگیا،قرارداد ملک میں معاشی بدحالی کے اسباب کا جائزہ لے کر اصلاح احوال کی سنجیدہ کوششیں کی جاییں، ملک سے سرمایہ کار ادارے پاکستان سے رختِ سفر کیوں باندھ رہے ہیں؟ غریب عوام پہلے ہی کسمپرسی میں گزر اوقات کر رہے ہیں بے روزگاری میں، افراط زر اور معاشی عدم استحکام سے نمٹنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں،استعماری سرغنہ اور اسکے بغل بچے کی عالمی دہشت گردی کی پر زور مذمت کی گئی، اور اقوام متحدہ سے اپیل کی گئی کہ مظلوم فلسطینی عوام پر صیہونی بربریت کو روکا جائے اور اسرائیل کو جنگی جرائم کے ارتکاب پر کڑی سزا دی جائے۔ کشمیر میں قابض بھارتی افواج کے مظالم کی مذمت کی گئی اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیاگیا،قراردادمیں سرزمین امام رضا علیہ السلام پر اسرائیلی جارحیت کو استعماری گٹھ جوڑ اور عالمی صیہونی توسیع پسندانہ عزایم کا شاخسانہ قرار دیتا ہے، برادر اسلامی ملک ایران پر حملے کے بعد حکومت پاکستان کے اصولی موقف کو سراہتا ہے اور زور دیتا ہے کہ مسلم ممالک میں عرب وعجم کی تفریق کو ختم کیا جائے اور اخوت اسلامی کے جذبہ کو فروغ دیا جائے۔ ایک قراردادمیں سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی کے اس موقف کو درست قرار دیاگیاکہ ابراہم ایکارڈ استعماری و صیہونی سازش ہے جس سے اسرائیل کی ناجائز ریاست کو تسلیم کرنے کی راہیں ہموار کی جا رہی ہیں، پاکستان کی اسرائیل بارے وہی پالیسی ہونی چاہیے جو بابائے قوم بانی پاکستان محمد علی جناح نے مرتب کی تھی۔ قراردادمیں علماء وذاکرین پر پابندی کے ہتھکنڈوں سے عزاداری کی راہ میں رکاوٹیں نہ کھڑی کی جائیں، امن کمیٹیوں میں کالعدم جماعتوں کے عناصر کو بے دخل کیا جائے، دہشتگردی میں ملوث جو بھی ہوں انہیں آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور نیشنل ایکشن پلان کو فایلوں سے نکالا جائے اور کاغذی عمل درآمد کے بجائے حقیقی عمل درآمد کیا جائے۔ایک اورقراردادمیں قائد ملت جعفریہ آغا سید حامد علی شاہ موسوی کے تعلیم کردہ رہنما اصولوں ولایت علی ابن ابی طالب، عزاداری سید الشہداء امام حسین علیہ السلام، حرمت سادات، احترام مرجعیت اور مرکزیت پر کاربند رہ کر پاکیزہ مشن کو جاری وساری رکھنے کے عہد کا اعادہ اور ہیڈکوارٹر مکتب تشیع علی مسجد سے سربراہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان علامہ آغا سید حسین مقدسی کے ہر لایحہ عمل پر لبیک کہنے کا عہد کیاگیا۔قرارداد میں عشرہ محرم الحرام کے دوران شیعہ سنی یکجہتی کو خراج تحسین پیش کیا گیا. چوہدری مشتاق حسین، حسن کاظمی نےبھی مجلس سے خطا ب کیا۔ہزاروں سوگورانِ حسین نے قمہ و زنجیر زنی کر کے امام عالی مقام سے اپنی عقیدت کا اظہار کیا۔ بعد ازاں جلوس عاشورا راجہ بازار،پرانا قلعہ پہنچا تو امام بارگاہ شہیدان کربلا ٹائر بازار اور شاہ چن چراغ سے برآمد ہونے والے ذوالجناح کے جلوس بھی شامل ہوگئے۔جلوس عاشورا جامع مسجد روڈ اور پل شاہ نذر دیوان سے گزر کر امام بارگاہ قدیم میں اختتام پذیرہوا۔مختار سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع راولپنڈی کی جانب سے فوارہ چوک میں عزاداری کیمپ لگایا گیا تھا جہاں مختارایس او اور ایم اوکے کارکنان کے ساتھ مختار جنریشن کے بچوں نے سبیل حسینی پر ڈیوٹیاں سرانجام دیں جبکہ ابراہیم سکاؤٹس نے حبیب بینک چوک راجہ بازار اور جامع مسجد روڈ پر ماتمیوں کو طبی سہولت فراہم کرنے کیلئے میڈیکل کیمپ لگائے۔ضلعی انتظامیہ کی معاونت کیلئے ٹی این ایف جے کی ریجنل اور ضلعی محرم کمیٹیوں کے عہدیداران،مختارفورس کے رضا کارپولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ تمام راستے جلوس کے ہمراہ تھے۔



