دنیا بھر میں 540 ملین افراد ذیابیطس میں مبتلاہیں اور 2030 ء تک یہ تعداد 643 ملین تک پہنچ سکتی

*دنیا بھر میں 540 ملین افراد ذیابیطس میں مبتلاہیں اور 2030 ء تک یہ تعداد 643 ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ ڈاکٹر زاہد میاں*
*ہر چھ سیکنڈ میں دو افراد ذیابیطس کا شکار اور ایک شخص مرتا ہے۔ ڈاکٹر زاہد میاں*
*ہمیں من حیث القوم افسانوں سے نکل کر حقیقت کو اپنانے کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
*ہمارے یہاں صحت کا نظام ابتری کا شکار اور سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ڈسپلن کا فقدان ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) معروف ماہر امراض ذیابیطس ڈاکٹر زاہد میاں نے کہا کہ دنیا بھر میں پانچ سو چالیس ملین افراد ذیابیطس میں مبتلا ہیں اور سنہ دو ہزار تیس عیسوی تک یہ تعداد چھ سو تینتالیس ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ ہر چھ سیکنڈ میں دو افراد ذیابیطس کا شکار ہوتے ہیں۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں پانچ میں سے چار افراد ذیابیطس میں مبتلا ہوتے ہیں اور ہر چھ سیکنڈ میں ایک شخص ذیابیطس سے مرتا ہے۔ پاکستان میں اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد تین کروڑ تیس لاکھ ہے جبکہ ماہرین صحت کو خدشہ ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے اور تقریباً اتنے ہی لوگوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ان کو ذیابیطس ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور ڈسکورنگ ڈائیبیٹیز کے اشتراک سے ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر زاہد میاں نے مزید کہا کہ پاکستان میں تیس لاکھ افراد پاؤں کے السر میں مبتلا ہیں، پاکستان میں سولہ سے بیس فیصد افراد آنکھوں کے مسائل کا شکار جبکہ ذیابیطس میں مبتلا اٹھائیس فیصد افراد کو گردے فیل ہونے کی وجہ سے ڈائیلاسز کی طرف جانا پڑتا ہے اور ایک ڈائیلاسز کی قیمت کم ازکم پانچ ہزار روپے ہے اور ہفتہ میں تین ڈائیلاسز کرانے والے کو ہر ماہ ساٹھ ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں جو معاشرے کے ہر طبقہ کے لئے ایک معاشی بوجھ بن جاتا ہے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہمیں من حیث القوم افسانوں سے نکل کر حقیقت کو اپنانے کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ہمارے یہاں صحت کا نظام ابتری کا شکار اور سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے ڈسپلن کا فقدان ہے۔ ہمیں اپنی مرضی کے بجائے ڈاکٹر کی تجویز کردہ نسخے کے مطابق ادویات کے استعمال کو یقینی بنانا چاہئے۔ اگر ذیابیطس کی شرح میں اسی تیزی سے اضافہ ہوتا رہا اور ہم نے اس مرض کی روک تھا م کے لئے سنجیدہ اقدامات نہ کئے، اپنا طرز زندگی تبدیل نہ کیا تو پاکستان ذیابیطس کے شکار افراد کے ممالک کی فہرست میں سرفہرست ہوگا۔ اس مرض سے بچنے اور اس پر قابو کے لئے آگاہی کا فروغ ناگزیر ہے، جامعات اور بالخصوص جامعہ کراچی آگاہی کا بہترین ذریعہ ہے کیونکہ یہاں پر ملک کے طول و عرض سے آئے ہوئے طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ پاکستان میں ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے اور ایک بڑی تعداد کو اس مرض میں مبتلا ہونے کا پتہ ہی نہیں ہوتا، غیر صحتمندانہ طرز زندگی کے باعث صحت کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مرض کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے لئے آگاہی کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم اس کی تجویز کردہ ادویات کے بجائے ٹوٹکوں کا استعمال کرتے ہیں۔ صدر شعبہ نفسیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلا امبر ملک نے کہا کہ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم مرض میں مبتلا ہونے کے بعد طرز زندگی تبدیل کرنے کے بارے میں سوچتے یا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہمارے لئے ذیابیطس بنیادی طور پر نفسیاتی عارضہ ہے جس میں ہمارے پاس نفسیاتی وجہ ہے لیکن ظاہری نوعیت جسمانی ہے۔ جب ہم دماغی صحت کے مسائل کے بارے میں بات کررہے ہیں، تو ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کا تعلق ذیابیطس سے ہے۔ ذیابیطس بنیادی طور پر نہ صرف فرد بلکہ خاندان کے افراد کو بھی شدید طور پر متاثر کررہی ہے۔ سوچ کے ذریعے کردار اور معاشرے کو بدلا جاسکتا ہے اور شعبہ نفسیات سوچ کو بدلنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر انیلا نے مزید کہا کہ بعض اوقات ہمارے ذہن میں منفی خیالات آتے ہیں، آپ کو جس صلاحیت کی ضرورت ہے وہ بنیادی طور پر خود کو کمپوز کرنا ہے۔ ذیابیطس بنیادی طور پر خود پر قابو پانے اور خود کو سنبھالنے کی مشقیں ہیں۔ جامعہ کراچی کے میڈیکل آفیسر ماہر امراض قلب ڈاکٹر اکمل وحید نے کہا کہ ذیابیطس ایک بیماری ہے لیکن اس پر قابو پانا ایک فن ہے۔پاکستان میں ذیابیطس کے مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو ایک خطرناک صورتحال ہے، جس کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات کرنا ناگزیر ہوچکے ہیں۔سیمینار میں روئسائے کلیہ جات، مختلف شعبہ جات کے صدور اور اساتذہ وطلبہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔




