کالم/مضامین

دعوت الی اللہ دیتے وقت میانہ روی کو اختیار کیا جائے اس میں اس حد تک نہ جایا جائے کہ باہم اختلافات

دعوت الی اللہ دیتے وقت میانہ روی کو اختیار کیا جائے اس میں اس حد تک نہ جایا جائے کہ باہم اختلافات پیدا ہوں۔

ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم اپنی پسند کو بالائے طاق رکھ کر احکامات رسول ﷺ کو مقدم رکھیں۔حضور حق کی کیفیت میں کمی کے سبب غفلت بڑھتی ہے اور بندہ دنیاکی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے اس میں دوبتے ہوئے بھی اپنے گناہوں پر فخر کر رہا ہوتا ہے۔ہمیں اپنا رخ اللہ کی طرف کرنے کی ضرورت ہے۔رخ اللہ کی طرف کرنے سے مراد یہ ہے کہ ہر پہلو سے اللہ کریم کی اطاعت کی جائے۔جو اللہ کریم پسند فرمائیں اُسے اپنایا جائے اور ہر اس کام کو رد کیا جائے جس سے اللہ کریم منع فرماتے ہیں۔ یعنی عملی طور پر خود کو اللہ کے سپرد کر دینا تا کہ اقرار کے ساتھ عمل بھی شامل ہو۔آج ہمارے معاشرے میں جو روش پید اہو گئی ہے کہ ہم کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں ہمارا دعوی ہمارے اعمال سے مختلف ہوتا ہے۔یہودو نصاری اپنی کتابو ں سے بھی وہ حصے مانتے تھے جنہیں وہ پسند کرتے تھے جو حصے وہ پسند نہیں کرتے تھے انہیں چھوڑ دیتے۔آپ ﷺ امام الانبیاء ہیں آپ نے اللہ کا پیغام اللہ کی مخلوق تک پہنچایا جو بہت بڑا منصب ہے۔ہم اپنی پسند و ناپسند سے اقرار یا انکار کرتے ہیں ہم یہ خیال نہیں کرتے جس بات کا ہم انکار کر رہے ہیں یہ بات کس کی ہے۔اللہ کریم کی بات ہو محمد الرسول اللہ ﷺ کے لب ہائے مبارک سے ادا ہو رہی ہو اور ہم اس کا انکار کریں یہ کتنی بڑی بد بختی ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب۔
انہوں نے کہا کہ تبلیغ یعنی دعوت حق دینا بنیادی فریضہ ہے اسکے لیے ضروری ہے کہ پہلے خود حق قبول کریں پھر اختیار کریں اس کے بعد مخلوق کو اس کی دعوت دیں۔اس سے آپ کی دعوت میں قوت آئیگی۔آپ کے اعمال سب سے بڑی تبلیغ ہیں۔جو تسلیم کرے گا یقینا وہ سیدھی راہ پائے گا۔دین اسلام دعوت دیتا ہے مسلط نہیں کرتا۔یہاں بات فتح و شکست کی نہیں ہے کافرنے بھی دعوت قبول کی،کلمہ پڑھا وہ سیدھی راہ پا گیا جب کافر و مسلم میں ضد نہیں ہے پھر مسلمان آپس میں کیوں ضد کر رہے ہیں اس لیے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ اپنی ذاتی خواہش پر عمل کر رہے ہوتے ہیں تبلیغ سے مراد کسی کو منوانا نہیں بلکہ لوگوں تک حق پہنچانا ہے اگر کسی کو مجبور کرکے حق پر لائیں گے تو اس کا کیا فائدہ؟ جو عمل کر رہا ہے وہ اللہ کے سامنے ہے جو بے عمل ہے وہ بھی اللہ کے روبرو ہے۔اللہ کریم صحیح شعور عطافرمائیں۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور امت کے لیے خصوصی دعا بھی فرمائی۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You