کالم/مضامین

حقیقت تو یہ ھے کہ ھمارے ملک میں کوئی نظام ہی نہیں آپ سب پڑھے لکھے سلجے سمجھدار

حقیقت تو یہ ھے کہ ھمارے ملک میں کوئی نظام ہی نہیں آپ سب پڑھے لکھے سلجے سمجھدار باشعور ھیں آپ سب جانتے ھیں کہ جنگل میں بھی ایک قانون ھوتا ھے جو فطرت کے مطابق چلتا ھے ہر جاندار میں اتنا شعور ھوتا ھے کہ وہ باہم شیر و شکر اتحاد و اتفاق اور باہمی تعاون سے رہتے ھیں ان جانوروں میں نہ عصبیت تعصب اقربہ پروری اور نفرت نہیں ھوتی ہر جانور اپنے اپنے کنبہ میں اکھٹے رہتے اکھٹے کھاتے پیتے اور ساتھ ھوتے ھیں جنہیں ھم عام زبان میں جھنڈ اور ریوڑ بھی کہتے ھیں مگر افسوس یہ ملک اور اس ملک کا نظام جنگل سے بھی بدتر ھے جسے آپ سروں پر بیٹھاتے تھکتے نہیں جن کے جلسہ جلوسوں کو بھرتے رکتے نہیں جب کے نعرے لگاتے باز نہیں آتے کیونکہ ھم سب دین سے دور ھوچکے ھیں ھمارا ایمان کمزور سے کمزور ھوتا چلا جارھا ھے یاد رھے ھماری بقاء و سلامتی اور ھماری نسل کا مستقبل اب صرف اور صرف اسلامی صدارتی نظام سے مشروط ھے ھمیں جمہوریت نہیں ھمیں اسلامی صدارتی نظام چاہئے
جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You