*جاوید صدیقی کا موقف مقتول کے لواحقین کو 100 ارب دیئے جائیں*

*جاوید صدیقی کا موقف مقتول کے لواحقین کو 100 ارب دیئے جائیں*
*صحافی و میڈیا پرسن کے ماروائے قتل کا سلسلہ جاری*
*ماروائے قتل پر اب سنجیدگی سے ہماری تنظیمی و کلبز کے رہنماؤں کو عملی مظاہرہ پیش کرنا ھوگا*
*قاتل کو سزا کے طور پر 100 ارب کا حرجانہ کیا جائے*
*سہولتکاروں پر بھی 50, 50 ارب جرمانے عائد کئے جائیں*
*بھاری جرمانے عائد نہ کئے گئے تو یہ مافیاء یونہی حد سے تجاوز ہوتا رہیگا*
کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف صحافی و کالمکار جاوید صدیقی ممبر کراچی پریس کلب و کراچی یونین آف جرنلسٹ نے صحافیوں کی ایک نشست کے درمیان حالیہ واقعات پر اپنا موقف دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا سے تعلق رکھنے والے رجسٹرڈ صحافی، رپورٹرز، اینکرز، اور ایڈیٹرز کے آئے روز ماروائے قتل پر اب سنجیدگی سے ہماری تنظیموں و کلبز کے رہنماؤں کو عملی مظاہرہ پیش کرنا ھوگا یاد رھے کہ تمام میڈیا ہاؤسز کے ملازمین وفاق و صوبائی حکومتوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اسمبلی سے باقائدہ طور پر ایک الگ قانون پاس کرائیں جس میں مقتول میڈیا پرسن کے لواحقین کیلئے 100 ارب معاونت کے طور پر حکومت ادا کرے اور قاتل کو سزا کے طور پر 100 ارب کا حرجانہ کیا جائے اور ساتھ ساتھ سہولتکاروں پر بھی 50, 50 ارب جرمانے عائد کئے جائیں تاکہ اس طرح کے واقعات تھم سکیں اور متاثرین کے لواحقین کو بھی سہارا مل سکے۔ جاوید صدیقی کا کہنا ھے کہ جب تک قاتلوں اور انکے سہولتکاروں پر بھاری بھاری جرمانے عائد نہ کئے گئے تب تک یہ ماروائے قتل کا سلسلہ رک نہ سکے گا اور یہ مافیاء یونہی حد سے تجاوز ہوتا رہیگا۔



