سندھ

جامعہ کراچی کے شعبہ جینیات، سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی آ ف ہیلتھ سائنسز کے

*جامعہ کراچی کے شعبہ جینیات، سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی آ ف ہیلتھ سائنسز کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط*

*تینوں ادارے مشترکہ طور پر سندھ اور بالخصوص تھرپارکر و دیگر اضلاع میں خود کشی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے حوالے سے تحقیق کریں گے*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ جینیات، سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب جمعرات کے روز وائس چانسلر سیکریٹریٹ جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی۔ مفاہمتی یادداشت کے مطابق دیہی سندھ اور بالخصوص تھرپارکر و دیگر اضلاع میں خود کشی کے تیزی سے بڑھتے ہوئے رجحان کے جینیاتی پہلوؤں کی وجوہات جاننے، سمجھنے اور اس کے روک تھام/ سدباب کے لئے تینوں ادارے مشترکہ طور پر تحقیق کی روشنی میں سفارشات مرتب کریں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر، صدر سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ، صدر شعبہ جینیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مقصود علی انصاری اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈاکٹر اشعر آفاق نے دستخط کئے۔ تفصیلات کے مطابق جامعہ کراچی کا شعبہ جینیات سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ساتھ مل کر ڈی این اے کا تجزیہ اور خودکشی کرنے والے یا اس کی کوشش کرنے والے افراد کے پورے خاندان کا جینیاتی مطالعہ کریں گی تاکہ اس کی خودکشی کی جینیاتی وجوہات و دیگر جس میں ذہنی صحت کے مسائل جیسے ڈپریشن اور نشہ آور چیزوں کے استعمال وغیرہ کے بارے میں معلومات کی جاسکیں۔ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی خاندانوں میں دماغی صحت کے مسائل کی نشاندہی جبکہ جامعہ کراچی کا شعبہ جینیات جمع کئے جانے والے حیاتیاتی نمونوں کا جینیاتی مطالعہ کرے گا اور ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کا شعبہ نفسیات کیسز کی نشاندہی کرنے میں مدد اور ڈیٹا اکٹھا کرنے، شناخت کرنے میں سہولت فراہم کرے گا۔ تینوں ادارے متاثرہ خاندانوں اور افراد تک پہنچنے سے پہلے تفصیلی سروے سوالنامہ بھی تیار کریں گے۔ اس موقع پر سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے صدر سینیٹر ڈاکٹر کریم خواجہ نے حاضرین کو بتایا کہ سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی گزشتہ سات سالوں سے ذہنی صحت کے مسائل پر کام کر رہی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ تھرپارکر اور صوبے کے دیگر اضلاع میں خودکشی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے اور اسی لئے وہ سندھ کے متعلقہ محکموں اور اداروں کے ساتھ مل کر اس سنگین مسئلے پر کام کرنا چاہتے ہیں تاکہ خودکشی کے واقعات، وجوہات اور عوامل کا پتہ لگایا جا سکے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومتیں اور حتیٰ کہ عوام بھی صحت اور بالخصوص دماغی صحت کے معاملات کو سنجیدگی سے نہیں لیتی اور ملک میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لئے بہت کم کوششیں کی جاتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسمانی صحت کی طرح ذہنی صحت بھی انسان کی فلاح و بہبود کے لئے بہت ضروری ہے اور امید ظاہر کی کہ اس تحقیق سے معاشرے کو ضرور مدد ملے گی کیونکہ اس سے خودکشی کے واقعات کے پیچھے جینیاتی اور دیگر عوامل کو جاننے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ خیالات، وسائل اور مہارتوں کے اشتراک سے مثبت اور دور رس نتائج برآمد ہوتے ہیں۔
پراجیکٹ کی کوآرڈینیٹر اور شعبہ نفسیات جامعہ کراچی کی استاد پروفیسر ڈاکٹر فرح اقبال نے حاضرین کو ذہنی تندرستی کی اہمیت کے بارے میں آگاہ کیا اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ خاندان کے کسی ایک فرد کی خودکشی سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے اور اس کا اندازہ صرف متاثرہ خاندان ہی کو ہوتا ہے۔ صدر شعبہ جینیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مقصود علی انصاری نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس تحقیق کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور تھرپارکر کے اضلاع و قریبی علاقوں میں خودکشی کے واقعات میں کمی واقع ہوگی۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے رجسٹرار ڈاکٹر اشعر آفاق نے کہا کہ ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی ذاتی طور پر اس منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور سلیکشن بورڈ کے عمل میں مصروف ہونے کی وجہ سے وہ آج کی تقریب میں شرکت نہیں کرسکے۔ ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر وش دیو نے بتایا کہ کوویڈ نائن ٹین کی وبا کے بعد سندھ کے کئی اضلاع سمیت پوری دنیا میں خودکشی کی شرح میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوا ہے۔ صدر شعبہ نفسیات جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر انیلہ امبر ملک نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ تینوں اداروں کے اشتراک سے ہونے والی تحقیق خودکشی کی بلند شرح کی وجوہات جاننے اور اس کی روک تھام/ سدباب میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیو ٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر صائمہ سلیم نے کہا کہ جینز کے مطالعے اور اس پر تحقیق سے معاشرے میں خودکشی کی وجوہات جاننے میں مدد ملے گی۔ رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہا کہ مذکورہ اداروں کی مشترکہ تحقیق سے خودکشی کے مزید عوامل اور وجوہات کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ اس تحقیق سے ان خاندانوں پر پڑنے والے اثرات کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی جنہوں نے خودکشی کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھودیا ہے۔ جامعہ کراچی کے رجسٹرار پروفیسر ڈاکٹر عبدالوحید نے بتایا کہ سندھ کے بائیس اضلاع میں اپنی دو سالہ طویل تحقیق کے دوران انہوں نے کئی اضلاع میں خودکشی کے واقعات دیکھے۔ تقریب میں قائم مقام رئیس کلیہ نظمیات و انتظامی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر زعیمہ اسرار محی الدین، شعبہ جینیات جامعہ کراچی کے اساتذہ، سابق صوبائی سیکرٹری ہیلتھ سریش کمار، سندھ مینٹل ہیلتھ اتھارٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر سید ظفر مہدی، ڈائریکٹر آفس آف ریسرچ اینوویشن اینڈ کمرشلائزیشن جامعہ کراچی ڈاکٹر سیدہ حورالعین، ٹیم و دیگر بھی موجود تھے۔

{"remix_data”:[],”remix_entry_point”:”challenges”,”source_tags”:["local”],”origin”:”unknown”,”total_draw_time”:0,”total_draw_actions”:0,”layers_used”:0,”brushes_used”:0,”photos_added”:0,”total_editor_actions”:{},”tools_used”:{},”is_sticker”:false,”edited_since_last_sticker_save”:false,”containsFTESticker”:false}

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You