جامعہ کراچی نے ٹرانسپورٹ سیفٹی اسسمنٹ، کمپلائنس اور رسک میٹیگیشن منصوبہ کا آغاز کر دیا

*جامعہ کراچی نے ٹرانسپورٹ سیفٹی اسسمنٹ، کمپلائنس اور رسک میٹیگیشن منصوبہ کا آغاز کر دیا
*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی نے باقاعدہ طور پر ”کے یو ٹرانسپورٹ سیفٹی مینجمنٹ پلان” کا آغاز کردیا ہے، جس کا مقصد جامعہ کی ٹرانسپورٹ سسٹم کو قومی و بین الاقوامی معیارات کے مطابق بہتر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ ورٹیکس ایچ ایس ای (پرائیویٹ) لمیٹڈ کی نگرانی میں ترتیب دیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام حال ہی میں منعقدہ ٹرانسپورٹ سیفٹی مینجمنٹ کے اجلاس میں منظوری کے بعد شروع کیا گیا، جس کی صدارت جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کی۔ اجلاس میں وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کو بتایا گیا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے میں جامعہ کے ٹرانسپورٹ نظام کا مفصل جائزہ لیا جائے گا تاکہ موجودہ خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے موثر حکمتِ عملی تیار کی جاسکے۔ اس منصوبے کا مقصد جامعہ کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو زیادہ محفوظ بنانا، خطرات میں کمی لانا اور قومی و بین الاقوامی معیارات خصوصاً ISO 39001:2012 کے مطابق مکمل ہم آہنگی یقینی بنانا ہے۔ اس موقع پر جامعہ کے فیکلٹی ممبر اور سیفٹی اسسمنٹ منصوبے کے فوکل پرسن ڈاکٹر وقار احمد نے بتایا کہ اس جائزے میں جامعہ کی بسوں کی حالت و فٹنس، روٹس، ٹرمینلز، کنٹرول پوائنٹس، ڈرائیورز کے رویے، گاڑیوں کی تکنیکی حالت، سیفٹی مینجمنٹ پریکٹسز اور آپریشنل طریقہ کار شامل ہوں گے۔ روٹ میپس، ریکارڈز اور مینٹیننس ڈاکیومنٹس کا جائزہ بھی لیا جائے گا تاکہ ہائی رسک علاقوں اور اہم خامیوں کی نشاندہی کی جاسکے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ کمپلائنس کا جائزہ مقامی ٹرانسپورٹ قوانین، نیشنل ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے معیارات اور بین الاقوامی رہنما اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔ اس میں ڈرائیور کی کوالیفیکیشن، لائسنس اور میڈیکل فٹنس، سیٹ بیلٹ کے استعمال اور اسپیڈ لمٹ کی پابندی کا جائزہ شامل ہوگا۔ ڈائریکٹر ورٹیکس ایچ ایس ای سید حسن حبیب نے اجلاس کو بتایا کہ ممکنہ خطرات جیسے حادثات، ڈرائیور تھکن اور مینٹیننس کی ناکامیوں کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے کے لیے جامع رسک میٹیگیشن پلان تیار کیا جائے گا، جس میں انجینئرنگ، انتظامی اور طرزِ عمل سے متعلق کنٹرول اقدامات شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دوسرے مرحلے میں عملی اقدامات شروع کیے جائیں گے، جن میں ڈرائیورز اور ٹرانسپورٹ سپروائزرز کے لیے ڈیفینیٹو ڈرائیونگ اور سیفٹی آگاہی ٹریننگ سیشنز شامل ہوں گے۔ حادثات کی رپورٹنگ، گاڑیوں کے معائنے اور ایمرجنسی ریسپانس سے متعلق ورکشاپس بھی منعقد کی جائیں گی۔ انتظامیہ کو بہتر مانیٹرنگ اور سیفٹی سسٹمز کی مسلسل بہتری کی تربیت بھی فراہم کی جائے گی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی کو یہ بھی بتایا گیا کہ جامعہ کراچی کا ٹرانسپورٹ یونٹ ISO 45001 اور ISO 39001 کے اصولوں پر مبنی ٹرانسپورٹ سیفٹی مینجمنٹ سسٹم (TSMS) قائم کرنے پر بھی کام کررہا ہے، جس میں سیفٹی پرفارمنس کے لیے موزوں KPIs کی تیاری، حادثات کے رجحانات کا جائزہ اور ایک ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کا قیام شامل ہوگا تاکہ پائیدار کمپلائنس یقینی بنائی جاسکے۔ منصوبے کی تکمیل پر جامعہ کراچی کو ایک جامع اسیسمنٹ رپورٹ، کمپلائنس گیپ تجزیہ، رسک رجسٹر، رسک میٹیگیشن پلان، ٹریننگ ریکارڈز، پالیسیاں اور SOPs، ٹرانسپورٹ سیفٹی مینجمنٹ فریم ورک اور آخری ایگزیکٹو سمری فراہم کی جائے گی۔



