*جامعہ کراچی میں سیمینار بعنوان ”قائد کا پاکستان: ماضی، حال اور مستقبل“*

*جامعہ کراچی میں سیمینار بعنوان ”قائد کا پاکستان: ماضی، حال اور مستقبل“*
*دنیا صرف ان حقائق کو تسلیم کرتی ہے جو جانچے اور پرکھے گئے ہوں، لہٰذا حقیقت پسندی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔بیرسٹر شاہدہ جمیل*
*آج ہماری قوم سیاسی مباحثوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، ہم افراد کی شکلیں دیکھ کر مکالمہ شروع کرتے ہیں، ان کے خیالات اور دلیل پر توجہ نہیں دیتے۔وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی فکر اور نظریات پر حقیقی معنوں میں عمل پیرا ہوکر پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی*
*کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی سطح پر ہوتا ہے، مگر افسوس کہ ہم خود اپنی تعلیم سے بدظن ہوچکے ہیں۔ ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) معروف قانونی ماہر اور دانشور بیرسٹر شاہدہ جمیل نے کہاکہ حال اور مستقبل ایک تسلسل کی لڑی میں جڑے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لڑی ایسی ہے کہ اگر اس میں خلل پیدا کیا گیا تو نہ صرف آپکا مکمل منصوبہ متاثر ہوسکتا ہے بلکہ آپکا راستہ اور منزل بھی نظروں سے اوجھل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا صرف ان حقائق کو تسلیم کرتی ہے جو جانچے اور پرکھے گئے ہوں، لہٰذا حقیقت پسندی کو اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔تقریب میں بیرسٹر شاہدہ جمیل کی جانب سے دو قومی نظریہ کی اہمیت اور اغراض و مقاصد پر ایک تفصیلی پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی، جس میں بیرسٹر شاہدہ جمیل نے اس نظریہ کی تاریخی بنیادوں اور آج کے دور میں اسکی افادیت پر روشنی ڈالی۔ بیرسٹر شاہدہ جمیل نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ کتب بینی کو اپنی عادت بنائیں۔ معتبر اور معیاری کتب کا مطالعہ کریں اور خود شناسی کو فروغ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس سے نہ صرف انفرادی ترقی ممکن ہے بلکہ پاکستان بھی حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے دفتر رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی کے زیر اہتمام اور سینٹر آف ایکسلینس فارویمنز اسٹڈیز، شعبہ ابلا غ عامہ، سیاسیات اور شعبہ ویژول اسٹڈیز جامعہ کراچی کے اشتراک سے چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ سیمینار بعنوان: ”قائد کا پاکستان:ماضی، حال اور مستقبل“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا ہے کہ اگر ہم بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی فکر اور نظریات پر حقیقی معنوں میں عمل کریں، تو پاکستان کو ترقی، استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے آج ہماری قوم سیاسی مباحثوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہے، اور ہم افراد کی شکلیں دیکھ کر مکالمہ شروع کرتے ہیں، نہ کہ انکے خیالات اور دلیل پر توجہ دیتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ سیاسی برداشت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ معاشرے میں مکالمے اور مثبت مباحثے کے کلچر کو فروغ دیے بغیر درپیش مسائل کا دیرپا حل ممکن نہیں۔ ہماری مشکلات انفرادی سطح پر نہیں بلکہ نظامی اور انتظامی سطح پر ہیں، جن کا حل صرف اس وقت ممکن ہے جب ہم اپنے نظام کو بہتر بنائیں اور اداروں کو مضبوط کریں۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہم اپنے بچوں کو وہ تاریخ پڑھا رہے ہیں جو ہم نے خود لکھی ہے، ہمیں چاہیئے کہ مختلف اور مستند کتب کا مطالعہ کریں اور خود احتسابی کے عمل کو فروغ دیں، تاکہ ہم ایک بہتر معاشرہ تشکیل دے سکیں۔ ممتاز محقق، دانشور اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے کہا ہے کہ آج کا پاکستان وہ پاکستان نہیں رہا، جس کا خواب قائداعظم محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار اس کی تعلیمی سطح پر ہوتا ہے، مگر افسوس کہ ہم خود اپنی تعلیم سے بدظن ہوچکے ہیں۔ آج وہ طبقہ جو مالی استطاعت رکھتا ہے، وہ اپنے بچوں کو حصولِ علم کے لیے بیرونِ ملک بھیج دیتا ہے، جو اس بات کا مظہر ہے کہ ہمیں اپنے تعلیمی نظام پر اعتماد نہیں رہا۔ پروفیسر ڈاکٹر عارفہ سیدہ زہرہ نے زور دیا کہ اگر ہمیں ایک باوقار اور مضبوط قوم بننا ہے تو ہمیں نہ صرف اپنے تعلیمی نظام پر اعتماد بحال کرنا ہوگا بلکہ تعلیم کو قومی ترقی کا بنیادی ستون تسلیم کرتے ہوئے اس کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ قبل ازیں رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم، جامعہ کراچی، پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ سعید نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ہمیں عظیم قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہوا۔ یہ پاک سرزمین، جس پر آج ہم آزادی کے سانس لے رہے ہیں، اپنے دین پر آزادانہ عمل کر رہے ہیں اور اپنی شناخت کو قائم رکھے ہوئے ہیں، ماضی کی ان ناقابلِ فراموش قربانیوں کا نتیجہ ہے جو ہمارے بزرگوں نے دی تھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے آج کا پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خوابوں کی مکمل تعبیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ بدعنوانی، کرپشن اور ناانصافی جیسے سنگین مسائل نے ہمارے معاشرتی ڈھانچے کو کمزور اور ملک کی ترقی کو متاثر کیا ہے۔ ہمیں بطور قوم خود احتسابی اور اصلاحِ احوال کی ضرورت ہے تاکہ پاکستان کو ایک مثالی ریاست بنایا جاسکے۔ تقریب کے دوران ایک معلوماتی ڈاکومنٹری پیش کی گئی، جس میں تحریکِ آزادی کی جدوجہد اور قربانیوں کو اُجاگر کیا گیا۔ اس کے علاوہ ایک ڈیجیٹل پکٹوریل ایگزیبیشن کا بھی اہتمام کیا گیا، جس میں طلبہ و طالبات اور اساتذہ نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔




