*جامعہ کراچی: شعبہ کیمیکل انجینئرنگ میں لکی سیمنٹ ریسرچ لیب کا افتتاح وایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد*


*جامعہ کراچی: شعبہ کیمیکل انجینئرنگ میں لکی سیمنٹ ریسرچ لیب کا افتتاح وایک روزہ قومی سیمینار کا انعقاد*
*ہم اپنی تدریس وتحقیق کا موازنہ مغرب ودیگر ترقی یافتہ ممالک سے کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن تعلیم پر ان کی طرح سرمایہ کاری کرنے کو تیارنہیں۔وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
*ہم تعلیم پر خرچ کو بوجھ جبکہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم پر خرچ کو سرمایہ کاری سمجھتے ہیں۔ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ ہم اپنی تدریس و تحقیق کا موازنہ مغرب و دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کرنے کی باتیں کرتے ہیں لیکن تعلیم پر انکی طرح سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں۔ تعلیم و صحت ہماری ترجیحات میں شامل نہیں اور اس میں خرچ ہونے والی رقم کو بوجھ سمجھا جاتا ہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک تعلیم پر خرچ کو بوجھ نہیں بلکہ سرمایہ کاری سمجھتے ہیں اور وہ آج اس کا پھل کھا رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں جدت طرازی اور تخلیقی سوچ پر مبنی تعلیمی نظام کو ڈیزائن کیا گیا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انکا اور انکی آنے والی نسلوں کے مستقبل کا دارومدار اسی میں ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ آبادی میں تواتر کیساتھ اضافے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح کے باوجود وفاقی ایچ ای سی کی جانب سے جامعات کی گرانٹ میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ ترقی یافتہ ممالک ماحولیاتی تحفظ اور ماحول دوست پالیسیوں کا ادراک رکھتے ہیں اور انکے پاس وسائل بھی موجود ہیں جبکہ ترقی پذیر ممالک میں معاملات اسکے برعکس نظر آتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں شعبہ کیمیکل انجینئرنگ کے زیر اہتمام ایک روزہ قومی سیمینار بعنوان:”پائیدارسبزعمل کی صنعتیں“ اور شعبہ ہذا میں لکی سیمنٹ ریسرچ لیب کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمیں اربنائزیشن اور انڈسٹریلائزیشن کیساتھ اسکے منفی اثرات سے ماحول کو بچانے کیلئے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ اربنائزیشن اور انڈسٹریلائزیشن کے فوائد ہیں لیکن اس کیساتھ ساتھ اسکے کچھ منفی اثرات بھی ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل ایچ ای سی ریجنل سینٹر کراچی نذیر حسین نے کہا کہ ہم سنگین ماحولیاتی چیلنجز کا شکارہیں، جدت طرازی، کاروباری اور اقتصادی ترقی کیلئے اکیڈیمیاء انڈسٹریز اشتراک ناگزیر ہے لیکن اسکے ساتھ ساتھ ہمیں یہاں ایک تیسرے پارٹنر کی ضرورت ہے اور وہ ہے حکومت، اس ماڈل کو ٹرپل ہیلکس ماڈل کہا جاتا ہے اور ہم ٹرپل ہیلکس ماڈل پر کام کررہے ہیں۔ چونکہ ٹرپل ہیلکس ماڈل آپکو پائیداری فراہم کریگا۔ اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز کام کریگی لیکن اسمیں پائیداری نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور نالج بیسڈ اکانومی کا ہے اور ہمیں نالج بیسڈ اکانومی کو فروغ دینے اور اپنے نوجوانوں میں صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے وفاقی ایچ ای کیجانب سے کی جانے والی اصلاحات و دیگر اقدامات پر بھی تفصیلی روشنی ڈالی۔ رئیس کلیہ علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر مسرت جہاں یوسف نے کہا کہ ہمیں ماحول پر منفی اثرات مرتب کرنے والے عوامل سے نہ صرف گریز بلکہ اس حوالے سے آگاہی کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اتنے اہم موضوع پر سیمینار کے انعقاد پر شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی کے کردار کو سراہا اور اس طرح کے سیمینار کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ ڈائریکٹر آپریشنز لکی سیمنٹ لیمٹڈ اسلم بلوچ نے لیب کے قیام اور اس کے اغراض و مقاصد پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اکیڈیمیاء اور انڈسٹریز اشتراک سے ماحول دوست پالیسیاں مرتب کی جاسکتی ہیں۔ ویسٹرن یونیورسٹی سڈنی کے پروفیسر ڈاکٹر محفوظ سومرو نے بھی سیمینار سے خطاب کیا اور اسطرح کے سیمینار کے تواتر کیساتھ انعقاد پر زور دیا۔
صدر شعبہ کیمیکل انجینئرنگ جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شگفتہ اشتیاق نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جبکہ ڈاکٹر عدیل الرحمن نے سیمینار کے اغراض و مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔




