*جامعہ کراچی: انفارمیشن سائنس اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر دو روزہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس*



*جامعہ کراچی: انفارمیشن سائنس اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر دو روزہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس*
*کانفرنس میں برطانیہ، ملائشیاء، اومان، ساؤتھ افریکہ، فن لینڈ، آسٹریلیاء و دیگر ممالک کے 15 اسکالرز نے شرکت کی اور 40 سے زائد ریسرچ پیپر پیش کئے گئے۔*
*جو دنیا نظریہ کی بنیاد پر تقسیم تھی، مشرق اور مغرب لیکن آج صرف ایک نظریہ ہے اور ہم اسے ڈالر، پیسہ یا معاشی خوشحالی کہتے ہیں۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر خالد عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) جامعہ کراچی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس اور ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے زیر اہتمام انفارمیشن سائنس اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجی پر دو روزہ تیسری بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب گزشتہ روز پروفیسر سلیم الزمان صدیقی آڈیٹوریم انٹرنیشنل سینٹر فار کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز جامعہ کراچی میں منعقد ہوئی۔ افتتاحی تقریب ڈی ایچ اے صفا یونیورسٹی میں کچھ روز قبل منعقد ہوئی جبکہ گزشتہ روز دونوں یونیورسٹیوں میں متوازی سیشن منعقد ہوئے۔ شعبہ کمپیوٹر سائنس جامعہ کراچی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر صادق علی خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کانفرنس کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر نوے ریسرچ پیپر موصول ہوئے اور جانچ پڑتال کے بعد چالیس تحقیقی مقالوں کو کانفرنس میں پیش کرنے کے منتخب کیا گیا۔ کانفرنس میں پندرہ بین الاقوامی اسکالرز جن میں برطانیہ، ملائشیاء، اومان، ساؤتھ افریکہ، فن لینڈ، آسٹریلیاء و دیگر ممالک شامل ہیں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور تحقیقی مقالے پیش کئے۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان ہر سال تیس ہزار کے قریب آئی ٹی پروفیشنلز اور ماہرین پیدا کررہا ہے لیکن پھر بھی پاکستان کے تناظر میں عالمی سطح پر آئی ٹی والوں کی کمی ہے۔ انہوں اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنی معیشت کو فروغ دینے کے لئے مزید کمپیوٹر ہنر مند سائنسدان پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں کی دلچسپی ڈیٹا کے لحاظ سے، مختلف مظاہر کو سمجھنے کے معاملے میں ہے۔ ایک عام آدمی ہونے کے ناطے میں کسی قوم کی معاشی ترقی اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک کی معاشی ترقی میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہوں۔
ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ایک دنیا تھی جو نظریہ کی بنیاد پر تقسیم تھی، مشرق اور مغرب لیکن آج صرف ایک نظریہ ہے اور ہم اسے ڈالر یا پیسہ اور معاشی خوشحالی کہتے ہیں۔ دنیا اب سرمایہ دار، کمیونسٹ، مشرق یا مغرب کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہوگی۔ اب معاملہ یہ ہے کہ ہم ملک کی معاشی ترقی میں کس طرح اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے کہا کہ مختلف عوامل ہیں جو کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سنہ دو ہزار تیئس عیسوی میں، آئی ٹی اور متعلقہ کاروبار کی مارکیٹ ویلیو یا شراکت تین اعشاریہ پانچ ٹریلین امریکی ڈالر تھی اور سنہ دو ہزار پچیس عیسوی تک یہ پانچ ٹریلین امریکی ڈالر پہنچ سکتی ہے اور عالمی جی ڈی پی کے لحاظ سے اسکا مجموعی حصہ پانچ فیصد ہے۔ اس طرح کی کانفرنسز کا انعقاد ہماری نوجوان نسل کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہمارے نوجوان طلباء کے پاس مختلف نقطہ نظر ہو تاکہ وہ اس بارے میں سمجھ سکیں کہ لوگ یا سائنسدان ایک ہی وقت میں دنیا کے مختلف حصوں میں کیا کررہے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے حوالے سے صرف ڈگری کا حصول کافی نہیں بلکہ صلاحیتوں سے بھرپور، جدت طرازی اور تخلیقی صلاحیتوں کے حامل گریجویٹس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین سندھ اریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (سیڈا) قبول محمد کھٹیاں نے کہا کہ آئی ٹی کے میدان میں پاکستان اور بھارت میں بڑی خلا ہے اور اس خلا کو ہمارے نوجوان ہی ختم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سالانہ تین سے ساڑے تین ارب ڈالرز کی آئی ٹی برآمدات کرتا ہے جبکہ بھارت سالانہ تین سو پچاس ارب ڈالرز کی آئی ٹی اور اے آئی کی برآمدات کرتا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ گورنمنٹ آئی ٹی کے میدان میں آگے بڑھنے کے خواہشمند طلبہ کو لون دینے کی سہولت فراہم کررہا ہے اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس سے کتنا استفادہ کرتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے جیمز آرتھر سوارٹ نے نوجوان ریسرچرز اور اسکالرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ک آپ نے اپنی تحقیق کے ذریعے جو کچھ شیئر کیا ہے، اس سے ہم بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ آپ اپنی تحقیق جاری رکھیں، اپنی تحقیق کے فوائد حاصل کریں، نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے خاندان، اپنی برادری اور اس خوبصورت ملک پاکستان کو فائدہ پہنچائیں۔ ڈائریکٹر انٹرنیشنل سینٹر فارکیمیکل اینڈ بائیولوجیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر رضا شاہ نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اور کمپیوٹر سائنسز، یہ واقعی اس کرہ ارض کا منظرنامہ بدل رہا ہے اور یہی مستقبل ہے اور مجھے بے حد خوشی ہے کہ جامعہ کراچی اسکو اہمیت دے رہی ہے اور وہ مصنوعی ذہانت کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم یہاں اکٹھے بیٹھے ہیں اور صرف کمپیوٹر سائنسز اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مختلف موضوعات پر گفتگو کررہے ہیں۔ ڈی ایچ اے صوفہ یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر سید ظفر ناصر نے کہا کہ آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کو وسیع پیمانے پر اپنانا اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے، اسکے فوائد اور ممکنہ چیلنجوں کی متوازن تلاش کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ اے آئی بغیر کسی رکاوٹ کے ہماری روزمرہ کی زندگیوں میں ضم ہوگیا ہے۔ یہ ٹرانسفارمیشن ٹرانسلیشن ٹیکنالوجی، تجسس کو جنم دینے کے ساتھ ساتھ خدشات کو بھی جنم دیتی ہے۔ اسکا اثر ہمارے معاشرتی تناظر میں ایک اہم تبدیلی لاتے ہوئے زندگی کے تمام میدانوں میں واضح ہے۔ چیئرمین تابانی گروپ حمزہ تابانی نے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسوں کا سب سے اچھی بات یہ ہے کہ آپکو بہت سارے بین الاقوامی ریسرچر و اسکالرز سے ملنے کے مواقع میسر آتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تجربات شیئر کرنے کے مواقع بھی میسر ہوتے ہیں اور آپ کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع میسر آتا ہے۔




