تحقیق صرف امپیکٹ فیکٹر جرنلز کے لیے نہیں بلکہ قومی مسائل کے حل سے جڑی ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر


*تحقیق صرف امپیکٹ فیکٹر جرنلز کے لیے نہیں بلکہ قومی مسائل کے حل سے جڑی ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال*
*گزشتہ چالیس برسوں سے پاکستان میں بچوں میں نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کی شرح تقریباً 40 فیصد کے قریب ہے۔ پروفیسر احسن اقبال*
*معاشی پالیسیاں سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد اور زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دی جانی چاہئیں۔ وائس چانسلر جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی*
کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب ایک نئے گیم چینجر کے طور پر ابھری ہے اور یہ انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ایجادات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق جس طرح بجلی اور انٹرنیٹ نے دنیا میں انقلاب برپا کیا، اسی طرح اے آئی بھی معیشت اور سماجی ترقی میں گہرے اثرات مرتب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ان تیز رفتار عالمی تبدیلیوں کے پیشِ نظر مؤثر فورسائٹ صلاحیتیں پیدا کرنی ہوں گی، جو مضبوط اور بامقصد تحقیق کے ذریعے ہی ممکن ہیں۔
پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ تحقیق صرف امپیکٹ فیکٹر جرنلز کے لیے نہیں بلکہ قومی مسائل کے حل سے جڑی ہونی چاہیے۔ انہوں نے اس موقع پر جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ملک کے صفِ اول کے اکنامک تھنک ٹینکس میں شمار ہوتا ہے اور معیاری پالیسی ریسرچ فراہم کر رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر کے زیرِ اہتمام سینٹرہذا میں منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان "بدلتے ہوئے عالمی نظام میں پائیدار اور مستحکم پاکستان” کے دوسرے روزخطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چالیس برسوں سے پاکستان میں بچوں میں نشوونما کی کمی (اسٹنٹنگ) کی شرح تقریباً 40 فیصد کے قریب ہے، مگر اسے قومی ایمرجنسی کا درجہ نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی ملک کی 40 فیصد آئندہ نسل جسمانی طور پر کمزور اور ذہنی طور پر متاثر ہو تو وہ کس طرح تخلیقی اور جدت پر مبنی معیشت میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ احسن اقبال نے علاقائی اور عالمی معاشی تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ 1980 میں چین کی فی کس آمدنی تقریباً 200 ڈالر جبکہ پاکستان کی 300 ڈالر تھی، مگر آج چین کی فی کس آمدنی 16 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے جبکہ پاکستان کی تقریباً 1400 ڈالر ہے۔ اسی طرح 1990 میں ویتنام کی برآمدات 2.5 ارب ڈالر اور پاکستان کی تقریباً 5 ارب ڈالر تھیں، جبکہ آج ویتنام کی برآمدات 400 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہیں اور پاکستان کی برآمدات تقریباً 40 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ ترقی میں ذہنی وسائل اور سوچ کی اہمیت مادی وسائل سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کا مستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں ہے اور ان کی سوچ اور رویہ ہی ملک کی سمت کا تعین کرے گا۔ جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے امن بنیادی شرط ہے، تاہم پاکستان کو اس حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پالیسیاں سیاسی مصلحتوں کے بجائے قومی مفاد اور زمینی حقائق کے مطابق ترتیب دی جانی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم سیاسی نظام ناگزیر ہے، جس میں مؤثر اور فعال احتسابی ڈھانچہ موجود ہو۔ ان کے مطابق شفافیت، جوابدہی اور قانون کی بالادستی ہی قومی استحکام اور دیرپا معاشی ترقی کی بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ریزیڈنٹ نمائندے ماہر بینجی نے کہا کہ زراعت اور جائیداد کے شعبے معیشت میں نمایاں قدر پیدا کر سکتے ہیں، تاہم حاصل شدہ محصولات کو صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے جیسے اہم شعبوں پر مؤثر انداز میں خرچ کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے توانائی کے شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور نجی شعبے کی شمولیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
توانائی کے شعبے پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بلند نرخ پالیسی عوامل اور انتظامی نااہلیوں سمیت متعدد وجوہات کا نتیجہ ہیں۔ ان کے بقول، گورننس کی بہتری، ترسیلی نقصانات میں کمی، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافہ اور ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں تاکہ کارکردگی بہتر ہو اور توانائی کی لاگت میں کمی لائی جاسکے۔ معروف ماہرِ معیشت ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ عوامی اخراجات کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی وقت کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کا زیادہ حصہ سماجی خدمات، سماجی تحفظ اور نچلے طبقے کی بھلائی پر خرچ ہو۔ انہوں نے جدید علوم اور ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت میں سرمایہ کاری کو ترقی کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ اختتامی سیشن کے دوران، جس میں بلو اکانومی اور ماحولیاتی تحفظ پر بات کی گئی،بحریہ یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر کمانڈر (ر) ادریس نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کو اپنی بلو اکانومی کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ کمانڈر (ر) ادریس نے کہا کہ پاکستان کے 290,000 مربع کلومیٹر کے ایکسکلوزِو اکنامک زون میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، اور گوادر پورٹ کی ترقی جیسے شعبے تقریباً 4 ارب امریکی ڈالر کی ممکنہ آمدنی پیدا کرسکتے ہیں، جو ملک کی معیشت میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔ تاہم، اس وقت یہ شعبہ صرف 0.4 سے 0.5 فیصد تک ملک کی مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں حصہ ڈال رہا ہے۔ کانفرنس کے دوران قومی اور بین الاقوامی اسکالرز نے تحقیق اور پالیسی پر مبنی مقالہ جات پیش کیے اور ملک کی اقتصادی اور سماجی ترقی کے لیے اقدامات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔




