تحریر:بریگیڈیٸر(ریٹائر) بشیرآراٸیں 1984 میں میری پوسٹنگ ہیڈ کوارٹر چترال اسکاٶٹس

تحریر:بریگیڈیٸر(ریٹائر) بشیرآراٸیں
1984 میں میری پوسٹنگ ہیڈ کوارٹر چترال اسکاٶٹس میں ہوٸی اور دروش آفیسرز میس میں جا ڈیرے ڈالے ۔
غضب کی سردی ہوتی تھی اور سال میں 3-4 مہینے تو ہر طرف برف باری ۔ بجلی ہوتی نہیں تھی ۔ یونٹ کا جینریٹر وقت مقررہ تک ہی چلتا ۔ ہماری تو دوپہر کو ہی شام ہوجاتی تھی اور ہم کمروں میں مٹی کے تیل والے چاٸینیز گول ہیٹر جلا کر بیٹھ جاتے اور 18 گھنٹوں کی رات گزارنا مشکل ہوجاتا۔
گھر میں بی بی جی ، میاں جی سے بات کرنی ہوتی تو اپنی ٹیلیفون ایکسچینج میں نوابشاہ کا نمبر لکھواتے ۔ آپریٹر بالا حصار کی ایکسچینج میں نمبر لکھواتا اور ہم کال ملنے کے انتظار میں ٹھٹھرتے رہتے ۔
چترال اسکاٶٹس سگنل کے ایک حوالدار سلطان الدین کو فکر رہتی تھی کہ میری بات ہوسکی کہ نہیں ۔ اکثر محبت سے پوچھتا کہ ”ہے صاحب تا دورو فون ملاٶں“
(اے صاحب آپکے گھر کا فون ملاٶں)
پھر 1990 میں ہم عراق کویت وار میں چلے گٸے مگرکبھی چترالیوں سے ناطہ نہ ٹوٹا ۔ بھلا ہو سوشل میڈیا کا کہ سب سے ہی دوبارہ جڑتے گٸے ۔ سلطان الدین ترقی پاتے پاتے صوبیدار میجر بن کر ریٹاٸر ہوٸے ۔ بات چیت ہوتی رہتی تھی مگر کل مجھے اچانک ایک خوشگوار فون کال ملی ۔ صوبیدار میجر سلطان الدین کی آواز تھی کہ سر میری کمر میں درد رہتا ہے میں علاج کیلیے کراچی آیا ہوں ۔ آپکا ایڈریس چاہیے تاکہ ایک دو دن میں آپ سے ملنے آٶں ۔ میں نے اپنا ایڈریس بھیج دیا مگر خود بھی پوچھا کہ آپ کہاں ٹھہرے ہو ۔ اس نے صرف یہ بتایا کہ لسبیلہ کے پاس رحمانیہ گارڈن میں ماموں زاد بہن کے پاس مگر فلیٹ نمبر اور بلڈنگ بلاک کا پتہ نہیں اور گھر میں بھی کوٸی نہیں جو بتاٸے ۔
مجھ سے انتظار نہ ہوا اور میں اسے ڈھونڈنے خود ہی نکل پڑا ۔ ڈیڑھ گھنٹے کی تلاش کے بعد میں صوبیدار میجر سلطان الدین کو 34 سال بعد جپھی ڈالے کھڑا تھا ۔
34 سال بعد اسے زور کی جپھی ڈالی تو چترالیوں کی محبت کا وہی جوش خروش پایا ۔
میں نے بھی سلطان الدین کو سندھی ٹوپی اور اجرک پہنا دی تاکہ وہ بھی ہم سندھیوں کی محبت کو چترال پہنچ کر نہ بھول پاٸے ۔
کہہ رہا تھا سر میں کراچی سے چترال تک آپکی دی ہوٸی یہ سندھی اجرک اور ٹوپی پہن کر سفر کرونگا ۔
چترالیو تمہیں سلام





