بین الاقوامی غیر اخلاقی اسرائیلی عمل لیکن امت مسلمہ خاموش

*ٹائٹل: بیدار ھونے تک*
*بین الاقوامی غیر اخلاقی اسرائیلی عمل لیکن امت مسلمہ خاموش ۔۔۔!!*
*کالمکار: جاوید صدیقی*
بل گیٹس وہ یہودی ھے جس نے یہودی و عیسائی زائینسٹوں کی نہ صرف پشت پناہی جاری رکھی بلکہ مالی اعانت کی بھرپور مثال قائم کردی یہی وجہ ھے کہ دنیا بھر میں انسانی قتل کا براہ راست ذمہدار بل گیٹس ھے اور اس نے اپنے ھم خیالوں کو بداخلاقی بین الاقوامی قوانین کے برخلاف صف بندی کرتے ھوئے ہر وہ منفی عمل کیا جس سے امت مسلمہ تباہ و برباد ھوجائے، امریکی نژاد یہودیوں نے پہلے پہل دنیا کی دولت پر قبضہ جمالیا اور خاص کر مسلم دنیا کو اپنے قرض میں جگڑ کر مکمل طور پر مفلوج کردیا اور اپنی غلامی کے بدترین درجہ پر فائز کیا جنھوں نے سر اٹھایا انہیں سازشوں اور مکارہوں کے ذریعے رسوا و ذلیل کروایا اور کئی شخصیات کو جھوٹے الزام لگا کر شہید کروادیا۔ اس وقت پاکستان سمیت امت مسلمہ میں 90 فیصد اجناس و دیگر اشیاء یہود و نصاریٰ زائینسٹوں کی کمپنیوں کی ھیں جنکے ترک کرنے سے ان کا دیوالیہ نکل سکتا ھے لیکن افسوس صد افسوس پاکستان سمیت مسلم ممالک ان کے کاروبار کا بائیکاٹ کرنے سے انکاری دکھائی دیتے ھیں اس میں جہاں حکومت ریاست تاجر ذمہدار ھیں وہیں عوام کا عمل قابل افسوس اور شرم ھے۔ آج دنیا بھر میں سب سے زیادہ مسلم آباد ھیں بلکہ دولت و وسائل میں بھی کسی سے کم نہیں لیکن دنیا پرستی حرص و لالچ اور دین سے دوری نے اندھا کردیا ھے۔ میں نے شوشل میڈیا میں چلنے والی خبروں پر جب نظر دوڑائی تو خون کے آنسو ؤں کو روک نہ سکا اور دل و کلیجہ منہ کو آنے لگا۔ معزز قارئین تازہ ترین صورتحال یہ ھے کہ اسرائیل غزہ میں لاشوں سے ‘اعضاء چرا رہا ہے۔ سب سے پہلے جانتے ہیں کے اعضاء کی اسمگلنگ کیا ہے؟ جب کوئی مریض اعضاء کی خرابی کا شکار ہوتا ہے اور تمام طبی مداخلتوں کی کھوج کی جاتی ہے، تو اعضاء کی پیوند کاری ہی زندہ رہنے کا واحد طریقہ ہوسکتا ہے۔ گلوبل آبزرویٹری آن ڈونیشن اینڈ ٹرانسپلانٹیشن، سنہ دو ہزار بیس کے مطابق اعضاء کی موجودہ عالمی ضرورت فراہمی سے کہیں زیادہ ہے۔ دنیا بھر میں سالانہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ ٹرانسپلانٹ کئے جاتے ہیں، تاہم، یہ عالمی ضرورت کا دس فیصد سے بھی کم ہے۔ کچھ بیمار مریض قانون کو توڑنے اور اعضاء کی پیوند کاری کیلئے ادائیگی کرنے کو تیار ہیں، چاہے اس میں کمزور اور غریب لوگوں کا استحصال شامل ہو۔ اعضاء کی تجارت، جس میں اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری شامل ہے، نمایاں آمدنی پیدا کرتی ہے، جس میں قدامت پسندانہ سالانہ تخمینہ آٹھ سو چالیس ملین امریکی ڈالر سے ایک اعشارہ سات بلین امریکی ڈالر ہے۔ سب سے مہنگا عضو کون سا ہے؟ گردہ ٹرانسپلانٹ سب سے زیادہ مطلوب عضو ہے، جس کی قیمت امریکی تیرہ سو ڈالر سے لے کر ڈیڑھ لاکھ امریکی ڈالر تک ہے۔ رپورٹس کا تخمینہ ہے کہ تمام غیر قانونی اعضاء کی تجارت میں سے پچھہتر فیصد میں گردے شامل ہیں۔ معزز قارئین!! اسرائیل حماس کے ساتھ جنگ میں۔ پہلے ہی اربوں ڈالر کا نقصان کر چکا ہے ۔ شاطر دشمن اب اپنا نقصان پورا کرنا کیلئے مسلمانوں کی لاشوں کی بے حرمتی کر رہا ہے۔ یورو میڈ ہیومن رائٹس مانیٹر کی طرف سے مردہ فلسطینیوں کے اسرائیلی فورسز کی طرف سے ‘اعضاء کی چوری’ کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔ جس نے آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اسرائیل پر طویل عرصے سے انسانی اعضاء کی کٹائی کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ رپورٹیں گردش کر رہی ہیں کہ اسرائیل فلسطینیوں کی لاشوں کو غیر قانونی طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اپنی کتاب اوور دی ڈیڈ باڈیز میں، اسرائیلی ڈاکٹر میرا ویس نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ انیس سو چھیانوے اور سنہ دو ہزار دو کے درمیان مردہ فلسطینیوں کے اعضاء لیے گئے اور اسرائیلی یونیورسٹیوں میں طبی تحقیق میں استعمال کیے گئے اور اسرائیلی مریضوں کے جسموں میں ٹرانسپلانٹ کیے گئے۔ یہودی تعلیمات اعضاء کی پیوند کاری اور کٹائی کی اجازت دیتی ہیں. امریکی یہودی چینل سی این این نیٹ ورک کی سنہ دق ہزار آٹھ کی تحقیقات کے مطابق اسرائیل کو انسانی اعضاء کی غیر قانونی عالمی تجارت کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یورو میڈ مانیٹر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل ‘سیکیورٹی ڈیٹرنس’ کے بہانے انسانی اعضاء کی غیر قانونی تجارت کیلئے دنیا کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک ہے۔
غزہ کے مقامی حکام نے اسرائیل پر فلسطینیوں کی لاشوں سے اعضاء چرانے کا الزام لگایا اور اس کی بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ ایک بیان میں، غزہ میں قائم سرکاری میڈیا آفس نے کہا کہ لاشوں کے معائنے سے معلوم ہوا ہے کہ لاشوں سے اہم اعضاء کی چوری کی وجہ سے ان کی شکلیں نمایاں طور پر بدل گئی ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا کہ اسرائیلی فوج نے غزہ پر جاری جنگ کے دوران اس طرح کی کارروائی دہرائی اور قبرستانوں سے لاشیں بھی نکالیں۔
اسرائیلی حکام نے ابھی تک ان الزامات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ سوال پیدا ھوتا ھے کہ کیا عالم اسلام کے لیڈران اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں، بچوں اور عورتوں کی لاشوں کی بے حرمتی برداشت کر سکے ۔ یہودی پیسا کمانا کا کوئی موقع نہیں چھوڑتے لیکن اتنا ذلالت بھرا کام کرنے پر بھی اقوام متحدہ خاموش ہے کیوں سوال تو بنتا ہے؟؟ کچھ محققین کا کہنا ھے کہ اقوام متحدہ کیونکہ یہودیوں کے زیر تسلط ھے اور یہاں کے فیصلوں پر براہ راست یہودی و عیسائی زائینسٹوں کا عمل دخل ھے اسی لئے سوائے چند ایک بیان بازی کے کوئی عملی اقدام نہیں ھوتا۔ اب بھی اگر امت مسلمہ بلخصوص مسلم ممالک کے حکمران بھنگ پی کر مدہوش رہیں گے تو یہ شیطانی و دجالی طاقتیں مسلمانوں کو بڑے پیمانے پر ناتلافی نقصان سے دوچار کرتے رہیں گے اور ایک وقت وہ بھی آئیگا جب یہ خبیث امت مسلمہ کو مکمل طور پر ایمان سے خالی کردیں گے تو بھیانک عذاب سر پر آں پہنچے گا اب بھی وقت ھے کہ امت مسلمہ یہودی و عیسائی زائینسٹوں کے ان خطرناک حملوں سے بہادری سے مقابلہ کریں اور انکے چنگل سے نکل باہر آئیں یہ اسی وقت ممکن ھوسکتا ھے جب مسلمان جہاد کیلئے بیدار ھوجائیں، حماس ھو یا حزب اللہ صرف انکی ہی ذمہداری نہیں کہ وہ اس فتنہ اور دجالی سازشوں کے خلاف جہاد کریں یہ ہر ذی شعور اور بالغ مسلمان کا فرض ھے کہ وہ اس جہاد میں حصہ لیکر دین محمدی ﷺ سے اپنی وفا اور محبت کا تقاضا پورا کریں بصورت روز محشر ھم اللہ اور اسکے حبیب ﷺ کے سامنے رسوا و ذلیل ھوکر رہ جائیں گے۔




