
مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے حملے اور 27 سیاحوں کی ہلاکت پر بھارت کی جانب سے اٹھائے گئے یکطرفہ جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دینے کیلئے قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہونے والے قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت، وفاقی وزراء اور دیگر سینئر افسران شریک ہیں، اجلاس میں پہلگام فالس فلیگ کے بعد کی داخلی و خارجی صورتحال پر غور ہوگا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم بھارت کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات پر اعلیٰ عسکری قیادت کے ساتھ مشاورت کریں گے جبکہ سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے سمیت دیگر بھارتی اقدامات پر ردعمل دیا جائے گا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی بھارتی اقدامات کا موثر جواب دے گی۔
وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خاطر خواہ جواب کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے جو معاملات اٹھائے ہیں ان پر اجلاس میں تبادلہ خیال کریں گے، بھارت سندھ طاس معاہدے کو اس طرح معطل نہیں کرسکتا، معاہدے میں صرف پاکستان اور بھارت شامل نہیں دیگر بھی شامل ہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ بھارتی اقدامات کا پاکستان کی طرف سے جامع جواب دیا جائےگا، جس طرح ابھینندن کے وقت جواب دیا تھا اس بار بھی 100 فیصد جواب دینے کی پوزیشن میں ہیں۔



