سندھ

برطانیہ سے تشریف لائی پاکستانی نژاد ادیبہ و شاعرہ نجمہ عثمان کے مجموعہء کلام نئی رت کی خوشبو

*برطانیہ سے تشریف لائی پاکستانی نژاد ادیبہ و شاعرہ نجمہ عثمان کے مجموعہء کلام نئی رت کی خوشبو کی تقریب رونمائی و پذیرائی*

*نجمہ عثمان کی ذات میں وہ انکساری ہے جوفن پر دسترس کے باوجود فنکار کو مطمئن نہیں ہونے دیتی. ڈاکٹر فاطمہ حسن*

*عارف باحلیم کے نام سے یو ٹیوب چینل پر جلد نجمہ عثمان کی کتابیں آڈیو بکس کی شکل میں میسر ہوں گی. عارف باحلیم*

*نجمہ عثمان کی شاعری سچے جذبوں کی عکاس ہے. نسیم انجم*

*بے لوث محبت کرنے والےآج کے دور میں عنقا سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ عارف باحلیم کی شکل میں موجود ہیں. نجمہ عثمان*

کراچی ( رپورٹ : جاوید صدیقی) کاتب پبلشرز کے زیر اہتمام برطانیہ سے تشریف لائی پاکستانی نژاد ادیبہ اور شاعرہ نجمہ عثمان کے اعزاز میں تقریبِ پذیرائی اور ان کے مجموعہء کلام نئی رت کی خوشبو کی تقریب رونمائی کا انعقاد مقامی بینکویٹ میں کیا گیا. نجمہ عثمان کا شمار دیار غیر میں آباد اردو کی نئی بستیوں کی نمائندہ شاعرات میں ہوتا ہے. نئی رُت کی خوشبو ان کا چوتھا مجموعہ کلام ہے، جو سورتی اکادمی ، کراچی کے زیر اہتمام شائع ہوا ہے. اس سے قبل نجمہ عثمان کے تین شعر مجموعے شاخِ حنا سنہ انیس سو نواسی 1989 میں کڑے موسموں کی زد پر سنہ انیس سو ننانوے میں اور خیال کی خوشبو سنہ دو ہزار تیرہ میں منظر عام پر آچکے ہیں. ان کے نثری سرمائے میں افسانوں کا مجموعہ پیڑ سے بچھڑی شاخ کے نام سے سنہ دو ہزار آٹھ میں اور سفر نامہ حج کتاب دل سنہ دو ہزار بائیس میں زیور طباعت سے آراستہ ہوچکے ہیں، جبکہ سفر نامے کا انگریزی ترجمہ دی پرل آف ہارٹ کے نام سے کاتب پبلشرز کے زیر اہتمام شائع کیا گیا. نجمہ عثمان کے تخلیقی سفر کی پذیرائی اور نوطبع شدہ کتاب کی رونمائی کی منعقدہ اس تقریب میں ڈاکٹر فاطمہ حسن مہمان خصوصی کی حیثیت سے جلوہ گر ہوئیں. تقریب کا آغاز حسبِ روایت و دستور تلاوتِ کلام ربانی سے ہوا جس کی سعادت سیلم احمد نے حاصل کی. اس کے بعد خطبہ استقبالیہ نامور مصور وصی حیدر کے فرزند ، ناشر کتاب اور سورتی اکادمی کے روح و رواں حمزہ ابن وصی نے پیش کیا. انھوں نے اس موقع پر کتاب میں شامل اپنا مضمون بھی حاضرین کو پڑھ کر سنایا. مہمان مقررین میں ڈاکٹر عمیر احمد ، ڈاکٹر عابد جاوید شیروانی ایڈووکیٹ، ڈاکٹر سلمان ثروت، خالد معین اور نسیم انجم نے بھی تقریب میں اپنے خیالات کا اظہار کیا. ڈاکٹر عمیر احمد نے نجمہ عثمان کے کلام میں موجود سیاسی شعور کی جانب اشارہ کیا اور منتخب کلام بھی حاضرین کی سماعت کی نذر کیا. انھوں نے تنقیدی زاویے سے فقط اتنا کہا کہ نجمہ عثمان نے کتاب میں شامل اپنے مضمون میں اس کو چوتھا اور شائد آخری مجموعہ لکھا ہے جس پر انھیں تحفظ ہے اور خواہش ہے کہ نجمہ عثمان کی مزید کتب بھی منظر عام پر آئیں اور اسی حسن اہتما م سے ان کی تقریب رونمائی و پذیرائی بھی منعقد ہو. شارح اقبال ڈاکٹر عابد جاوید شیروانی ایڈووکیٹ نے نجمہ عثمان کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی. انھوں نے اپنی گفتگو میں مختصر اور جامع انداز سے مثالوں کے ساتھ نجمہ عثمان کی شعری لفظیات پر اس طرح روشنی ڈالی کہ جس کی مدد سے ان کےادبی قد کا تعین باآسانی کیا جاسکتا ہے. معروف شاعر ثروت حسین کے فرزند ، شعری مجموعے میں استعاروں میں جی رہاہوں کے خالق ڈاکٹر سلمان ثروت نے اپنی گفتگو میں شعر و ادب سے متعلق فلسفیانہ افکار کا تذکرہ کرتے ہوئے ارسطو کے تصورات کی روشنی میں نجمہ عثمان کی شاعری کا تجزیہ پیش کیا اور اس میں موجود طرب و الم کے زاویوں کو نمایاں کیا. دبستان کراچی کے نمائندہ شاعر و ناول نگار خالد معین نے اپنی گفتگو میں ادبی گروہ بندیوں کا ذکر کیا، لیکن اس کے باوجود تمام حلقوں میں نجمہ عثمان کی پذیرائی کو ان کے کلام کی قبولیت سند اور مقام کی دلیل قرار دیا. انھوں نے اس موقع پر زبان کے درست استعمال کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ زد کے ساتھ درست لفظ پر ہے جیسا کہ نجمہ عثمان کے مجموعے کا نام ہے۔ کڑے موسموں کی زد پر.آج کل لوگ زد میں لکھتے اور بولتے ہیں جو کہ درست نہیں ، اور اس بات پر مہمان خصوصی ڈاکٹر فاطمہ حسن کی تائید بھی حاصل کی. خالد معین نے زبان و بیان کے پیرائے میں گفتگو کرتے ہوئے کتاب کی پشت پر موجود تاثراتی تحریر کے عنوان پورے قد پر کھڑی ہوئی شاعرہ کے بارے میں بھی اپنے نکتہ ء نظر کو بیان کیا. معروف کالم نگار اور افسانہ نگار نسیم انجم نے اپنی گفتگو میں نجمہ عثمان کو نئی رُت کی خوشبو کی اشاعت پر مبارک باد پیش کی اور اس سلسلے میں روزنامہ ایکسپریس کیلئے اپنے تحریر کردہ کالم کے اقتباس بھی حاضرین کے سامنے پیش کئے. انھوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نجمہ عثمان کی شاعری سچے جذبوں کی عکاس ہے، چونکہ وہ برطانیہ میں رہتی ہیں اس وجہ سے یہاں کی ادبی نشستوں میں تواتر سے شریک نہیں ہوتیں لیکن وہ جب بھی پاکستان آتی ہیں ، ان کی بھرپور پذیرائی کی جاتی ہے. مہمان مقررین کی گفتگو کے بعد رونق ِبزم نجمہ عثمان نے بھی اپنے احساسات کا اظہار کیا اور اپنے تمام محبت کرنے والوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے بالخصوص حالیہ بیماری میں ان کو اپنی دعاوں میں یاد رکھا. اس کے ساتھ ہی انھوں نے کتاب کا سرورق بنانے پر نامور مصور وصی حیدر کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وصی حیدر نے تجرید کی زبان کو اپنے فنکارانہ اظہار کا ذریعہ بنایا ہے اور اس میں کمال رکھتے ہیں. نجمہ عثمان نے خود کو کاتب پبلشر کے روح و رواں، آواز پاکستان کہلانے والے صدا کار، ہدایت کار و اداکار عارف باحلیم کی محبتوں سے زیر بار کہا اور ان کے حلقہء احباب بالخصوص ڈاکٹر عمیر احمد سے اپنے قلبی تعلق کا ذکر کرتے ہوئے اسے اٹوٹ رشتہ قرار دیا. انھوں نے مزید کہا کہ بے لوث محبت کرنے والے آج کے دور میں عنقا سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ عارف باحلیم اور ڈاکٹر عمیر کی شکل میں موجود ہیں۔ اس موقع پر حاضرین کی پُر زور فرمائش پر نجمہ عثمان نے اپنا منتخب کلام بھی پیش کیا۔ تقریب کی مہمان خصوصی نامور شاعرہ، تنقید نگار و تحقیق کار ڈاکٹر فاطمہ حسن نے اپنے کلیدی خطاب میں اولاََ جستہ جستہ تمام مقررین کی گفتگو پر اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور تمام مقررین کی جانب سے نجمہ عثمان کے کلام پر پیش کی گئی تعریفی آراء پر صاد کیا، انھوں نے اس موقع پر تقریب کے نظامت کار طارق بن آزاد کی صلاحیتوں کی تحسین کی اور ناشر کتاب حمزہ ابن وصی و دیگر جواں سال مقررین کا تذکرہ کرتے ہوئے خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا کہ ادب کی باگ ڈور نئی نسل نے بہت اچھی طرح سنبھال لی ہے اور آج اس تقریب میں شرکت کے بعد وہ زبان و ادب کے مستقبل کےبارے میں بہت پُرامید ہیں. ڈاکٹر فاطمہ حسن نے کہا کہ نجمہ عثمان سے ان کا تعلق قریباََ چار پانچ دہائیوں پر محیط ہے، ان کی ذات میں وہ انکساری ہے جوفن پر دسترس کے باوجود فنکار کو مطمئن نہیں ہونے دیتی. انھوں نے مزید کہا کہ وہ کتاب میں شامل اپنا مضمون یہاں پڑھ کر نہیں سنا رہیں ، نئی رُت کی خوشبو میں شامل ان کے مضمون کا ضرور مطالعہ کریں البتہ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اردو ادب میں نسائی شعور کے گزشتہ سو برس کا تذکرہ نجمہ عثمان کے ذکر کے بغیر نامکمل رہے گا. یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی تنقید نگار نجمہ عثمان کا ذکر نہ کرے، یہ بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ آپ کی کتابوں کو نظر انداز نہ کیا جاسکے. تقریب کے اختتام پر کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے کاتب پبلشر کے روح و رواں عارف باحلیم نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور منکسرانہ انداز میں قرطاس و قلم کی خدمت کے سلسلے میں اپنی کاوشوں کا ذکر کیا. انھوں نے کہا کہ والد گرامی جناب حفیظ باحلیم مرحوم کی جانب سے جو ورثہ ملا ہے یہ اسی کا ثمرہ ہے کہ ایمازون پر ان کی آواز میں آڈیو بکس موجود ہیں ، بولتی کتابوں کے نام سے ریڈیو پر مستقل وہ سامعین کو اردو کتابیں پڑھ کر سناتے رہے اور عارف باحلیم کےنام سے یو ٹیوب چینل پر بھی وہ اردو آڈیو بکس پیش کر رہے ہیں، اسی تسلسل میں جلد ہی نجمہ عثمان کی کتابیں بھی آڈیو بکس کی شکل میں صاحبانِ ذوق کیلئے میسر ہوں گی. عارف باحلیم نے نجمہ عثمان کی فرمائش پر ان کا کلام تحت اللفظ میں پیش کیا اور خوبصورت طرز ادا پر داد سمیٹی. ناظم محفل نے تقریب کے مکمل ہونے کا اعلان کرنے سے قبل مہمان خصوصی ڈاکٹر فاطمہ حسن سے کتاب کی رونمائی کیلئے درخواست کی، اس موقع پر کاتب پبلشرز کی جانب سے نجمہ عثمان اور مہمان خصوصی کی خدمت میں گلدستے بھی پیش کئے گئے. تقریب میں معروف مصور وصی حیدر، نامور مجسمہ ساز کلیم کاظمی، پی ٹی وی کے سینئر فوٹو گرافر احمد منصور، ڈائریکٹر نادر شاہ خان، فلم رائٹر و ڈائریکٹر شاہد نظامی ، ایکٹر و اسٹیج پرفارمر نعمان خان، معروف انسان دوست شخصیت عاطف صاحب، انجینئر جواد ، معروف بزنس مین اظہار ، رائٹر شارق نقوی، شاعر و ادیب مختار حیات ، شاعرہ وضاحت نسیم ، سینئر لیکچرر و شاعر محمد فراز سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی اور دیگر ادبی ذوق رکھنے والے لوگوں کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You