
خصوصی ٹرانسمیشن میں گفتگو کرتے ہوئے معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ کسی کو مفت بجلی نہیں ملنی چاہیے، جو بجلی مفت دی جارہی ہے اس پر شرائط لگنی چاہیے ،سرکاری ملازمین کو بھی قربانی دینی چاہیے تاکہ عوام کے دکھوں میں ساتھ ہونے کا پیغام جائے۔
معاشی تجزیہ کارفرخ سلیم نےکہا کہ بجلی کے بل میں 30 فیصد ٹیکس اور 50 فیصد حکومتی نااہلی ہے، بجلی بنانے کی لاگت اتنی نہیں لائن لاسز، عدم ریکیوری اور دیگر مسائل ہیں، عوام کو سستی بجلی نہیں مل رہی تو اچھے پیغام کے لیے سرکاری ملازمین بھی فری بجلی نہ لیں۔
کسی کا 10ہزار روپے بل ہے تو بجلی کی کھپت2 ہزار اور ٹیکس 3 ہزار روپے ہے، 10 ہزار میں سے 5 ہزار روپے حکومتی نااہلی کے ہیں،کسی کو بجلی کا بل ادا کرنے پر اعتراض نہیں یہاں حکومت کی نااہلی ہے۔
معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد نے کہا کہ بل جلانے اور احتجاج کرنے سے حل نہیں نکلے گا، حل نجکاری میں نکلےگا، وفاق بجلی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو صوبوں کے حوالے کرے۔



