باجوڑ: جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں دھماکا، 5 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی

باجوڑ: باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام کے ورکرز کنونشن میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
خیبرپختونخوا کے ضلع باجوڑ کے صدر مقام خار میں دھماکا اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے اسلام (ف) کے زیر اہتمام ورکرز کنونشن جاری تھا، کنونشن میں ایم این اے جمال الدین اور سابق سینیٹر عبدالرشید سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جمال الدین اور عبدالرشید محفوظ رہے۔
زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کیلئے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، دھماکا کس نوعیت کا ہے تحقیقات کے بعد پتا چلے گا، ضلع انتظامیہ نے شہر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی۔
جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے جلسے میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ملک کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں، جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ پرامن سیاسی سیاسی جہدوجہد کا راستہ اپنایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دھماکے میں شہید کارکنان کے خبر سے صدمہ پہنچا ہے، جماعتی کارکن ہمارے قیمتی نظریاتی اثاثہ ہیں، زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہوں، انصار الاسلام کے رضاکار خون دینے کیلئے فوری ہسپتال پہنچیں۔
تحریک انصاف کراچی نے بھی باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکرز کنونشن میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کی اور کہا کہ دھماکے میں قیمتی جانوں کے ضیاع اور 50 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات پر دلی افسوس ہے، کے پی کے کی مقامی حکومت زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرے۔



