*اے پاکستان کے مقتدرو ذرا بیدار ہوجاؤ*

*اے پاکستان کے مقتدرو ذرا بیدار ہوجاؤ*
*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی ایسے کئی لوگ تھے جو کمال حد تک منافق تھے انکی زبان تسبیح و تحلیل سے تر رہتی تھی، عبادات و ریاضت میں بھی معاشرے میں مقام رکھتے تھے لیکن دین محمدی ﷺ کی اصل روح سے محروم تھے یہی کچھ حال آج کے ہمارے حکمرانوں وزراء و مشیران و نوکر شاہی طبقہ کا بھی ھے۔ کبھی پرویز مشرف نے خانہ کعبہ کا دروازہ اپنے ہاتھوں سے کھولا تو کبھی نواز شریف، زرداری اور فیلڈ مارشل آصف منیر نے بھی کئی عمرے کئے اور کبھی عمران خان ننگے پیر مدینے کی سڑکوں پر چلا۔ ” آتے ہیں وہی جن کو سرکار بلاتے ہیں” اسطرح کے قصیدے پڑھنے والے مالدار لوگ بھی ذرا ہوش کے ناخن لیں۔ یاد رکھئے کہ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ حکومتی معاملات اور صلیبیوں کے مقابلے میں اتنا مشغول رہے کہ کبھی کعبہ نہ دیکھ سکے، ایوبی ؒ نے حاجیوں پر حملہ کرنے والے صلیبیوں کو ختم کرنے کا وقت تو نکال لیا لیکن اپنی خواہش کے باوجود کبھی جنگ اور کبھی فِتنوں کی وجہ سے حاجی نہ بن سکے۔ کیونکہ مُسلم حکمرانوں و سپہ سالاروں کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے اجتماعی معاملات کا دفاع، اپنی انفرادی عبادات سے بہت پہلے آتا ہے۔ اسی لئے کسی حکمران کو پرکھنے کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ وہ تہجد کتنی پڑھتا ہے یا کعبہ کے دروازے اس کیلئے کتنی بار کھولے گئے،
بلکہ معیار تو یہ ہے کہ حکمران کو جہاں اقتدار ملا ہے وہاں اللّٰہﷻ کا دین غالب ہے یا نہیں؟ مظلوم کو تحفظ حاصل ہے یا نہیں؟
اب اگر کوئی حاکم اپنی رعایا کے معاملات کو بگاڑ دے، دین نافذ نہ کرے، سُودی قرضے لے، ٹیکس لگا لگا کر غریب کو بھوکا مار ڈالے،
کفار کے حملوں سے مسلمانوں کو تحفظ نہ دے، کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر چھوڑ دے، مسجدِ اقصٰی کو یہود کے قبضے میں رہنے دے، اور دوسری جانب اگر وہ حج اور عمرے کرتا رہے، حاجیوں کو زَم زَم پلاتا رہے، رات بھر تہجد وہ بھی مسجد نبویﷺ میں پڑھتا رہے٫ تب بھی وہ نااہل حکمران کہلائے گا فاسق و فاجر رہیگا ایسے حکمران جھوٹے، گمراہ، بے وفا، بے شرم و بے حیاء اور عزت و غیرت سے عاری سمجھے جاتے ہیں، مورخ اور لکھتکار ایسے حکمرانوں، سپہ سالاروں، بیوروکریٹس اور ججز کو ہوس پرست، نفس پرست، دنیا پرست اور ابلیس پرست لکھتی ھے کہتی ھے اور انہی القابات سے یاد بھی رکھتی ھے کیونکہ خلافِ شریعت ہر نظام ریاست چاہے وہ جمہوریت ہی کیوں نہ ہو ناپاک، نجس اور ابلیسی کہلاتا ھے۔ ہماری ریاست ” اسلامی جمہوریہ پاکستان ” ھے۔ سب سے حیرت یہ ھے کہ اسلام میں جمہوریت کا وجود ہی نہیں ھے یہ یہود و کافرین کا نظریہ اور نظام جمہوریت ھے جو ہم پر جبراً لاد دیا گیا ھے جسے آج تک قوم بھگت رہی ھے۔ یاد رکھئے کہ دین محمدی ﷺ صرف قرآن و سنت پر کھڑی ھے اور اللہ واحد لاشریک کو قادر مطلق اور رسول خدا خاتم الانبیاء ﷺ کو ہی رہبر و رہنما عملی طور پر تسلیم کرتی ھے۔ کیا من حیث القوم ھم پاکستانی شریعی نظام کیساتھ زندگی بسر کررہے ہیں ؟؟ کیا ھم سب نے نظام شریعت کیلئے اتحاد و اتفاق پیدا کیا ؟؟ یہ وہ سوالات ہیں جو ہماری کوتاہی، غفلت، سستی اور بے ایمانی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اب بھی وقت نہیں گزرا ھے خدارا اپنے وطن کی سلامتی و کامیابی کیلئے نظام شریعت کو فی الفور نافذ کردیں کیونکہ سود نہ صرف قوم بلکہ ریاست کو بھی تباہ کرسکتا ھے۔


