سندھ

اپنی ذاتی غرض کو پانے کے لئے ملک کو بھینٹ چڑھانے سے گریز کرناچاہیئے۔رکن صوبائی اسمبلی نثارکھوڑو

*اپنی ذاتی غرض کو پانے کے لئے ملک کو بھینٹ چڑھانے سے گریز کرناچاہیئے۔رکن صوبائی اسمبلی نثارکھوڑو*

*اپنی انااورذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کو مقدم، آپس میں اُلجھنے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور الزامات لگانے کے بجائے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔صوبائی وزیر یونیورسٹیزاینڈ بورڈزمحمد علی ملکانی*

کراچی (رپورٹ: جاوید صدیقی) رکن صوبائی اسمبلی سینیٹر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ اپنی ذاتی غرض کو پانے کیلئے ملک کو بھینٹ چڑھانے سے گریز کرنا چاہئے، بینظیر بھٹو صرف ایک سیاستدان نہیں بلکہ اس ملک کو راستہ دکھانے والی خاتون تھیں۔ہمیں مفاہمت کے ذریعے مسائل حل اور ایک دوسرے کی بات سننے اور برداشت کرنے کی ضرورت ہے یہ ہی بینظیر کا ویژن اور پیپلز پارٹی اسی پر عمل پیرا ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے بے پناہ مسائل اور مشکلات کا سامنا کیا لیکن جمہوریت کا راستہ نہیں چھوڑا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بینظیر بھٹو کے جو کارنامے ہیں اس کو اجاگر کیا جائے اور اس حوالے سے لوگوں کو آگاہی فراہم کریں یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔محترمہ نہ صرف جمہوریت کی سب سے بڑی علمدار تھیں بلکہ ایک قابل رشک اور ذمہدار شہری، بہترین مصنفہ، شاندار مقرر اور سول سوسائٹی کی رکن تھیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر جامعہ کراچی کے زیر اہتمام چائنیز ٹیچرز میموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقدہ کانفرنس بعنوان:”مفاہمت: شہیدمحترمہ بینظیربھٹو کا وژن“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ نثار کھوڑو نے مزید کہا کہ اسمبلیاں پانچ سال کیلئے بنتی ہیں لیکن بدقسمتی سے یہاں پر عوام کی اسمبلیاں دو سال، اٹھارہ ماہ اور ڈھائی سال میں ہی توڑ دی جاتی ہیں، 1988 تا 1998 ء چار اسمبلیاں توڑی گئیں اور یہ پاکستانی عوام کو بھونچال اور غصے میں ڈالنے کیلئے کیا گیا۔ پاکستان میں صرف ایک زبان کو درجہ دیا گیا جبکہ انڈیا میں ایک سے زائد زبانوں کو درجہ دیا گیا۔ پاکستان میں ایک سے زائد زبانوں کو درجہ نہ دینے کی وجہ سے مشرقی اور مغربی پاکستان کی خلیج پیدا ہوئی اور اس سے کتنی دوریاں پیدا ہوئیں اور کتنا نقصان ہوا۔ مفاہمت کے نتیجے میں ہی اٹھارہ ویں ترمیم، صوبائی خودمختاری اور صوبوں کو انکے حقوق ملنا شروع ہوئے جو مفاہمت کے بغیر ممکن نہ تھے۔ پیپلز پارٹی روزِ اول سے ہی مفاہمت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ صوبائی وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈز محمد علی ملکانی نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے انتہائی کٹھن حالات میں بھی صبر کا دامن نہیں چھوڑا اور جمہوریت کو بہترین انتقام کہا۔ وہ اپنے تمام دکھ بھول کر قوم کے زخموں پر مرہم لگاتی رہیں، وہ زخموں سے چُور ہوکر بھی مُسکراتی رہیں۔ یہی انداز اور سوچ اُنہیں بینظیر بناتی ہے، انہوں نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ وہ محض نام کی نہیں بلکہ واقعی میں بینظیر تھیں اور بینظیر ہی رہیں گی۔ محمد علی ملکانی نے مزید کہا کہ ویسے تو پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک مزاحمتی جماعت کے طور دیکھا جاتا ہے کیونکہ اس جماعت نے سبھی آمروں کے ظلم و ستم برداشت کیئے اور ثابت قدم رہتے ہوئے جمہوریت کی بحالی اور مضبوطی کیلئے کام کرتی رہی مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب جب اس ملک کو ضرورت پڑی پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنے تمام ذاتی دکھ اور نقصان ایک طرف رکھ کر مفاہمت کی بات کی۔ وہ مفاہمت ذاتی مفاد کیلئے نہیں تھی بلکہ قومی مفاد کی خاطر تھی اور سیاسی قوتوں سے ڈائیلاگ، مشاورت اور مل کر چلنے کی سوچ شروع سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنائے رکھی۔ اس سوچ کا یقیناً پاکستان پیپلز پارٹی کو بحیثیت جماعت بہت بار نقصان بھی اُٹھانا پڑا مگر ملک کو بحرانوں سے نکالنے میں ضرور مدد ملی۔ محمد علی ملکانی نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ آصف علی زرداری نے تمام، اپنی کردار کشی، ناحق پابندِ سلاسل رہنے اور اپنی شریکِ حیات کو کھونے کے بعد بھی ”پاکستان کھپے” کا نعرہ لگایا اور پورے ملک میں نفرت کی بھڑکتی ہوئی آگ کو بُجھایا۔ یہی ویژن ہمارے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ہے۔ یہ ملک سب کا ہے اور سب نے مل جل کر مفاہمت کے ذریعے ہی اس ملک کے تمام مسائل کو حل کرنا ہے۔ اپنی انا اور ذاتی مفاد کو بالائے طاق رکھ کر ملکی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔ ہمیں آپس میں اُلجھنے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور الزامات لگانے کے بجائے آگے بڑھنا ہے، اس ملک اوریہاں کے عوام کا سوچنا چاہئے۔ قائم مقام وائس چانسلر جامعہ کراچی جسٹس ریٹائرڈ حسن فیروز نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ شہید بینظیر بھٹو کی شخصیت پر تحقیق ہو اور لوگ انکی شخصیت پر ایم فل اور پی ایچ ڈی کریں، انکی پاکستان میں جمہوریت کیلئے لازوال جدوجہد ہے اور دنیا بھر میں اس کو سراہا جاتا ہے۔ بینظیر بھٹو ایک جمہوری ذہن والی رہنما تھیں، اسکی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی سیاست کو غور سے دیکھا۔ بینظیر بھٹو شہید دنیا کے ان عظیم رہنماؤں میں شامل ہیں جنہوں نے پوری زندگی جمہوریت کی بحالی کیلئے وقف کی۔ رئیس کلیہ فنون و سماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہا کہ بینظیر بھٹو ایک عظیم وژنری لیڈر تھیں جو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کی خواتین کیلئے ایک متاثرکن مشعل راہ ہیں، وہ ایک دلیر جید اور ایک بہادر خاتون تھیں۔
قبل ازیں ڈائریکٹر شہید محترمہ بینظیر بھٹو چیئر جامعہ کراچی محمد ابراہیم شیخ نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے پاکستان کے تمام مسائل کا حل جمہوریت کو قرار دیا اور جمہوریت مفاہمت کے بغیر نامکمل ہے۔ شہید بی بی نے نہ صرف جمہوریت کیلئے جدوجہد کی اور بیشمار قربانیاں دیں بلکہ مفاہمتی سوچ کو اپناتے ہوئے ملکی مسائل کو حل کرنے کی کوششیں بھی کیں۔ بینظیر بھٹو چیئر جامعہ کراچی کے قیام کا مقصد ہی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے فکر و فلسفے پر تحقیق اور اس کے فروغ کیلئے کام کرنا ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You