کالم/مضامین

آنکھوں سے آنسو چُرا کر کسی کی،، چلو منائیں عید ایسی

عید آئی ہے

کیسی دُھوم دَھام سے

مناتے ہیں مسلمان،

اسےِ بڑی شان سے

کہیں بنتی ہیں سوّیاں،

تو کہیں شیر خُرما

سجتا ہے دسترخوان پر،

بریانی اور قورمہ

نِت نئے رنگوں کی،

پوشاک ہے پہنی جاتی

رنگِ حنا ہاتھوں کی،

زینت بھی ہے بڑھاتی

ہنسنا ہنسانا، ملنا ملانا

پر دیکھو،

یہ نہ بھول جانا

رکھنا خیال اُنکا،

جو ہیں نادار

بے بس ومجبور،

اور لاچار

دے دینا، دسترخوان پر

تھوڑی سی جگہہ اُنکو

دینا تحفے میں کچھ کپڑے،

ہو ضرورتِ لباس جِنکو

بُھلا کے ساری ناراضگیاں،

پہل کرکے مِل لینا

جو چاہو خود کی معافی،

تو سیکھو معاف کرنا،

دیکھا جو عید کا ہلال،

آیا دل میں خیال،

مِٹ جائے ہر دُکھ زمانے سے

جو کرلیں سب،

سب کا خیال

***

کاشف شمیم صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You