اہم خبریںبلوچستان

الیکشن آئینی ضرورت ہے جسےکراکر جائیں گے، نتیجے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔نگران وزیراعظم

الیکشن آئینی ضرورت ہے جسےکراکر جائیں گے، نتیجے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔نگران وزیراعظم

الیکشن کے داغدار اور غیر داغدار ہونےکے حوالے سے باتوں کو اہمیت نہیں دیتا۔انوار الحق کاکڑ کی کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو

کوئٹہ(نمائندہ عائشہ اکبر)گلوبل ٹائمز میڈیا یورپ کے مطابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہےکہ اگر ہم الیکشن نہ کراتے تو داغ ہوتا، ہم الیکشن کرائیں گے اور الیکشن کمیشن الیکشن کاانعقاد کرے گا تاہم اس کے نتیجے پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔کوئٹہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ جماعتوں کو اپنے ووٹرز کو کچھ نہ کچھ تو کہنا ہے، لسبیلہ میں جام کے مقابلے میں اگر غیر معروف آدمی الیکشن جیت جائے تو یہ بڑی بات ہوگی، باپ الیکٹیکل تھے جو اکٹھے ہوگئے تھے، صرف نام نیا آیا تھا، بلوچستان میں الیکشن کے حوالے سے ہر حلقے سے متعلق پیشگوئی کی جاسکتی ہے، ہر حلقے میں لوگ ہیں ان کے اثرات ہیں اور لگتا ہے وہی لوگ سامنے آئیں گے۔نگران وزیراعظم نے کہا کہ الیکشن کے داغدار اور غیر داغدارہونےکےحوالے سے باتوں کو اہمیت نہیں دیتا، اگر ہم الیکشن نہ کراتے تو داغ ہوتا، ہم الیکشن کرائیں گے اور الیکشن کمیشن الیکشن کاانعقاد کرے گا، بالکل نارمل پراسیس ہے، انتخابات صاف اور شفاف ہوں گے،الیکشن کےحوالے سے سکیورٹی ان شااللہ اچھی ہوجائےگی۔انوار الحق کاکڑ نے مزید کہا کہ سوئی گیس میں صرف بلوچستان کو استثنیٰ دیا گیا ہے، ہم نے کہا ہے بلوچستان میں سرد موسم میں لوگوں کو تنگ نہیں کرنا، ہمارے پاس نئے منصوبوں کا مینڈیٹ نہیں ہے،  سب دن گن رہے ہوتے ہیں کہ کب کاکڑ جائےگا،ہمارا اور آپ کا احترام کا رشتہ ہے، طنز کرنامناسب نہیں ہے۔نگران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ الیکشن کرانا آئینی ضرورت ہے، اس کے نتیجے کے بارے میں کچھ نہیں کہاجاسکتا جب کہ  ہم نے کوشش کی ہے کہ کسی اسکینڈل کی زد میں نہ آئیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You