کالم/مضامین

اساتذہ کا احتجاج ، تعلیمی عمل جاری رہتے ہوئے ممکن بنایا جائے

اساتذہ کا احتجاج ، تعلیمی عمل جاری رہتے ہوئے ممکن بنایا جائے

تحریر – شوکت لاشاری نواب شاہ

استاد، معلم یا ٹیچر یہ سب ایک ہی مقدس اور معتبر پیشے کے مختلف نام ہیں۔ یہ وہ طبقہ ہے جسے دنیا بھر میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے اساتذہ کو عزت دی اور انہیں وسائل فراہم کیے، وہی قومیں ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کر پائیں۔ قوموں کی ترقی اور معاشرتی شعور کے فروغ میں اساتذہ کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو آنے والی نسلوں کی ذہنی، اخلاقی اور عملی تربیت کرتا ہے اور انہیں ایک کارآمد اور ذمہ دار شہری بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے ، اساتذہ کی محنت، اخلاص اور کردار معاشرے کے مستقبل کی ضمانت ہے۔ اس لیے ان کی خدمت دراصل قوم کی خدمت ہے۔ ریاست اور معاشرے کا فرض ہے کہ وہ ان معمارانِ قوم کے جائز مطالبات کو عزت و احترام کے ساتھ سنے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کرے۔ اگر ریاست تعلیمی اداروں کے معیار کو بلند کرنا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اساتذہ کے مسائل حل کرنا ناگزیر ہے۔ ان کے مالی، انتظامی اور بنیادی ضروریات کا خیال رکھے بغیر نظامِ تعلیم میں بہتری ممکن نہیں ، لیکن اس سچائی کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ اگر اساتذہ احتجاج اور مطالبات کے طریقۂ کار میں ایسی حکمت نہ برتیں جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو تو اس کا نقصان براہِ راست معاشرے اور آنے والی نسلوں کو پہنچتا ہے۔ خصوصاً وہ صوبے یا علاقے جو پہلے ہی تعلیمی پسماندگی کا شکار ہوں، وہاں اسکولوں کی تالابندی اور تدریسی عمل کی بندش حالات کو مزید خراب کر دیتی ہے ، اسی لیے ضروری ہے کہ مطالبات کے لیے احتجاج کرتے وقت ایسی حکمتِ عملی اپنائی جائے جس میں تدریسی عمل جاری رہے اور صرف دفتری و انتظامی امور کو نشانہ بنایا جائے۔ مثال کے طور پر اساتذہ اپنے دفاتر یا انتظامیہ کے مراکز میں تالابندی یا علامتی احتجاج کرسکتے ہیں، لیکن کلاس رومز کو بند نہ کریں۔ وہ تدریسی عمل جاری رکھتے ہوئے سرکاری افسران کو آفیشل لیٹرز ، رپورٹس اور دیگر کاغذی کارروائی سے انکار کرکے بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کروا سکتے ہیں۔ اس طریقۂ کار سے نہ صرف طلبہ اور ان کے والدین اساتذہ کے ساتھ ہمدردی اور حمایت کا اظہار کریں گے بلکہ ریاست پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ پرامن مگر مؤثر احتجاج کرنے والے اساتذہ کے مسائل حل کرے ، اساتذہ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی تنظیموں کے پلیٹ فارم سے ایسا لائحۂ عمل تشکیل دیں جو جمہوری اور آئینی دائرۂ کار میں ہو اور عوامی ہمدردی حاصل کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔ ایسا احتجاج جس میں معاشرے کے سب سے نازک طبقے یعنی طلبہ کو نقصان نہ پہنچے، زیادہ دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے اور عوامی حمایت بھی حاصل ہوتی ہے ، ریاست کو چاہیے کہ وہ نہ صرف اساتذہ کے مسائل حل کرے بلکہ ان کے لیے پیشہ ورانہ ترقی (Professional Development) کے مواقع بھی فراہم کرے۔ ان کی تنخواہوں اور مراعات میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ تدریسی ماحول کو بھی جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے۔ جب استاد معاشی طور پر مطمئن اور انتظامی طور پر بااختیار ہوگا تو یقیناً تعلیم کے میدان میں بھی بہتری آئے گی ، مزید برآں، محکمۂ تعلیم کو بھی اپنے اندر اصلاحات لانی چاہییں۔ اساتذہ کی کارکردگی جانچنے کے ساتھ ساتھ ان کی رہنمائی کے لیے تربیتی ورکشاپس اور جدید تدریسی طریقوں پر مشتمل پروگرامز مرتب کیے جائیں۔ طلبہ کی کارکردگی کا معیار بہتر کرنے کے لیے اساتذہ کو جدید ٹیکنالوجی، تدریسی مواد اور تحقیقی مواقع فراہم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ اگر استاد خود علمی اور پیشہ ورانہ طور پر مضبوط ہوگا تو وہ طلبہ کو بہتر اور جدید تعلیم دے سکے گا۔
اساتذہ کو بھی یہ یاد رکھنا چاہیے کہ ان کا پیشہ صرف نوکری نہیں بلکہ ایک مشن ہے۔ یہ وہ پیشہ ہے جس میں قربانی، صبر اور ایثار کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ اگر استاد اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دے، حتیٰ کہ مشکل حالات میں بھی طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہونے دے، تو یہ اس کے کردار اور اخلاقی عظمت کی علامت ہے۔
آخر میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ اساتذہ کا احترام اور ان کے جائز حقوق کی فراہمی ریاست اور معاشرے دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی کے ساتھ اساتذہ کا یہ اخلاقی فرض بھی ہے کہ وہ احتجاج اور مطالبات کے ایسے طریقے اپنائیں جس سے نئی نسل کا مستقبل متاثر نہ ہو۔ ہم سب اساتذہ کے جائز مطالبات کے حامی ہیں مگر ساتھ ہی یہ بھی چاہتے ہیں کہ تعلیمی عمل بغیر رکاوٹ جاری رہے تاکہ قوم کے معمار اپنی خدمات معاشرے اور ریاست دونوں کے حق میں جاری رکھ سکیں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You