کالم/مضامین

آﺅ خوشیاں بانٹیں،،کیا کبھی اُن معصوم چہروں کو

( بچوں میں غذائی قلّت کے مسئلے سے منسوب پہلی پاکستانی نظم)

کیا کبھی اُن معصوم چہروں کو

دیکھا ہے تم نے

رنگ ہیں ۔۔۔ نہ ہی ہنسی

نہ آنکھوں میں چمک ہے ،،

نہ دلوں میں بسی کو ئی خوشی

جسم خالی ہیں اُنکے "قوّتوں ” سے

ناتوانیوں کے طوفاں میں

ہے ناﺅ زندگی کی پھنسی

اور تمہیں تو معلوم ہی ہے نہ۔۔۔،،

کہ کچھ خواب ہیں ان بچوں کے بھی

کچھ سپنے پورے ہونے ہیں

ابھی اک زیست اُنہیں جینی ہے

بن کھلے ِ پھول کھلنے ِ ہیں

لیکن پھر جب۔۔۔،،

چھوٹی ، چھوٹی قبروں میں

یہ ننھّے پھول سماتے ہیں

ہر دل پر تیر سے چلتے ہیں

ہر آنکھ میں آنسو آتے ہیں

اچھا خیر۔۔۔،،

اب چھوڑو پرُانی باتوں کو

چلو آﺅ کچھ ایسا کرتے ہیں

خوشیاں بکھیر دیتے ہیں

آنسو چُرا لیتے ہیں

ننّھے مُنے پھولوں کو

سے مرُجھانے بچا لیتے ہیں

بچوں کو بتا دیتے ہیں

کہ ہاتھوں میں تھامے ہاتھ

ہم سب اُنکے ساتھ ہیں

ایک زندگی کو جو بچا لیا ہم نے

سمجھو ایک فرض اپنا،،

نبھا دیا ہم نے

اُداس آنکھوں میں بسے سپنوں کو

ہم مل ِکر سچ کر دیتے ہیں

چلو آﺅ کچھ ایسا کرتے ہیں

چلو آﺅ۔۔۔ ،،

کچھ ایسا کرتے ہیں !

***

شاعر ِامن

کاشف شمیم صدیقی

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You