سندھ

*کے یو جے، کے پی سی اور اے سی پی*

*کے یو جے، کے پی سی اور اے سی پی*

*تحریر: جاوید صدیقی جرنلسٹ کراچی*

کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے تمام اراکین اپنی بنیادی رکنیت کے اعتبار سے مساوی حیثیت رکھتے ہیں۔ البتہ سینیئرٹی، تجربے اور مختلف عہدوں کی ذمہ داریوں کے باعث بعض اراکین کو اعزازی طور پر نمایاں مقام حاصل ہوتا ہے، لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کسی ایک رکن کا مرتبہ، عزت یا بنیادی حیثیت دوسرے رکن سے زیادہ ہے۔ اگر ان اداروں میں اراکین کی مساوات، جمہوری اقدار اور شفافیت موجود نہ ہوتیں تو یہاں باقاعدگی سے جمہوری، منصفانہ، عادلانہ اور شفاف انتخابات کا سلسلہ قائم نہ رہتا۔ یہی وہ بنیادی اصول ہیں جو ان اداروں کی شناخت اور وقار کو برقرار رکھتے ہیں۔ غیر اراکین کے لیے یہ بات قابلِ فخر اور قابلِ توجہ ہے کہ کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی رکنیت محض ایک اعزاز نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے۔ رکنیت کا حصول آسان نہیں ہوتا، کیونکہ امیدوار کی اہلیت، پیشہ ورانہ وابستگی اور دیگر قانونی و آئینی تقاضوں کو جانچنے کے بعد ہی رکنیت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ان اداروں میں رکنیت کے حصول اور جانچ پڑتال کے مراحل میں حتی الامکان باریک بینی سے کام لیا جاتا ہے۔ کسی بھی قسم کے دباؤ یا سفارش کو اصول و ضابطے پر ترجیح نہ دینا ہی ان اداروں کی ساکھ، وقار اور اعتبار کا بنیادی سبب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں سالانہ اسکروٹنی کا عمل بھی محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ شفافیت، احتساب اور ادارہ جاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ اس عمل سے اداروں کی خوبصورتی، جاذبیت اور اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔ ملک بھر میں کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں صحافتی، ادبی اور ثقافتی اداروں میں میرٹ، اہلیت اور قابلیت کی روایت کو بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ کراچی پریس کلب، کراچی یونین آف جرنلسٹس اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی اسی روایت کے اہم نمائندہ ادارے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کی جمہوری روایات، میرٹ، شفافیت، باہمی احترام اور رکنیت کے اصولوں کو مزید مضبوط کیا جائے، کیونکہ اداروں کی اصل طاقت ان کے عہدوں میں نہیں بلکہ ان کے اراکین کے مساوی احترام، قانون کی بالادستی اور شفاف نظام میں پوشیدہ ہوتی ہے۔۔۔!!

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You