سندھ

پیپلز پارٹی کو خود احتسابی اور عوامی حقوق پر توجہ دینی چاہیے، جاوید صدیقی

*پیپلز پارٹی کو خود احتسابی اور عوامی حقوق پر توجہ دینی چاہیے، جاوید صدیقی*

*سیاسی اختلافات کا حل تصادم نہیں، آئینی دائرے میں افہام و تفہیم ہے، سندھ میں تمام قومیتوں کے حقوق کے احترام کی ضرورت ہے*

کراچی (اسٹاف رپورٹ) کراچی کے معروف سینئر جرنلسٹ و کالمکار جاوید صدیقی نے پاکستان پیپلز پارٹی کی سیاسی تاریخ، موجودہ کردار اور سندھ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت کے لیے طویل سیاسی جدوجہد کرنے والی جماعت کو وقتاً فوقتاً اپنے سیاسی سفر، طرزِ حکمرانی اور موجودہ مقام کا خود بھی جائزہ لینا چاہیے۔ جاوید صدیقی نے کہا کہ سیاسی مخالفین پر تنقید کرنا آسان ہوتا ہے، تاہم کسی بھی سیاسی جماعت اور رہنما کے لیے ضروری ہے کہ وہ اختلافِ رائے، تنقید اور عوامی ردعمل کو بھی جمہوری عمل کا حصہ سمجھتے ہوئے تحمل، بردباری اور سیاسی حکمتِ عملی کا مظاہرہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کا دور قریب سے دیکھا اور ان کے متعدد جلسوں اور تقاریر میں شرکت کی۔ ان کے مطابق بھٹو کے سیاسی دور میں سندھ میں مختلف لسانی و سماجی طبقات کے درمیان سیاسی اشتراک اور باہمی تعلقات کی ایک مختلف فضا موجود تھی، جس کے باعث اردو بولنے والے شہریوں سمیت مختلف طبقات کے افراد بھی پیپلز پارٹی سے وابستہ رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد بینظیر بھٹو نے مشکل سیاسی حالات میں پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی اور اپنی سیاسی جدوجہد کے ذریعے جماعت کو ملک گیر سطح پر متحرک رکھا۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو خاندان کے مختلف افراد کی سیاسی جدوجہد پاکستان کی سیاسی تاریخ کا اہم باب ہے، تاہم اس خاندان کو پیش آنے والے المناک واقعات نے ملکی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ جاوید صدیقی نے بلاول بھٹو زرداری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں پیپلز پارٹی کی قیادت کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے تدبر، صبر، برداشت، سیاسی بصیرت اور عوامی مسائل کو ترجیح دے۔ ان کے مطابق سندھ سمیت پورے پاکستان میں تمام شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام اور بلاامتیاز انصاف سیاسی جماعتوں کی بنیادی ذمہ داری ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سندھی اور اردو بولنے والی آبادی سمیت تمام شہریوں کو مساوی حقوق، بنیادی سہولیات، روزگار، تعلیم، صحت، امن و امان اور مؤثر بلدیاتی نظام کی فراہمی ریاستی و صوبائی حکمرانی کا بنیادی تقاضا ہے۔ سیاسی قیادت کو قومیت یا گروہی تقسیم کے بجائے عوامی فلاح اور آئینی مساوات کو ترجیح دینی چاہیے۔ جاوید صدیقی نے آصف علی زرداری کے سیاسی کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک زرداری پاکستانی سیاست میں مفاہمت اور سیاسی مذاکرات کی پالیسی کے حوالے سے نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ان کے بقول مختلف سیاسی قوتوں کے درمیان مذاکرات اور اتفاقِ رائے پیدا کرنا جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ انہوں نے سنہ 2008 ء کے بعد کے سیاسی دور اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے اہم آئینی تبدیلیاں ہوئیں۔ ان کے مطابق صوبائی خودمختاری کے ساتھ یہ بھی ضروری تھا کہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جاتے تاکہ شہریوں کو مقامی سطح پر بہتر انتظامی سہولیات میسر آتیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک موجودہ سیاسی و انتظامی مسائل کی ایک بڑی وجہ اختیارات کے ارتکاز، کمزور بلدیاتی نظام، بدانتظامی، کرپشن کے الزامات، اقربا پروری اور عوامی اداروں کی کمزور کارکردگی جیسے مسائل ہیں۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ان معاملات کا جائزہ سیاسی الزام تراشی کے بجائے شفاف احتساب، قانون کی بالادستی اور مؤثر ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔ جاوید صدیقی نے حالیہ عرصے میں اٹھائیسویں آئینی ترمیم سے متعلق سامنے آنے والی سیاسی بحث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئینی ترامیم کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنے سے قبل ان کے متن، دائرۂ کار اور ممکنہ اثرات کو عوام اور ماہرین کے سامنے واضح کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی آئینی تبدیلی کا بنیادی مقصد عوامی فلاح، وفاقی و صوبائی توازن، مؤثر حکمرانی اور اختیارات کی منصفانہ تقسیم ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی، معاشی اور انتظامی مسائل کا حل سیاسی قوتوں کے درمیان تصادم میں نہیں بلکہ آئین، قانون، پارلیمان، مذاکرات اور افہام و تفہیم میں ہے۔ ان کے بقول کسی بھی سیاسی جماعت یا حکومت کو عوام کے آئینی حقوق نظرانداز نہیں کرنے چاہئیں اور اختلاف رکھنے والی قوتوں کے لیے بھی جمہوری و آئینی راستے کھلے رہنے چاہئیں۔ جاوید صدیقی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ایک دوسرے کو سیاسی دشمن سمجھنے کے بجائے جمہوری حریف تصور کریں اور عوامی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سمیت ملک کے تمام صوبوں میں امن، انصاف، بنیادی سہولیات، شفاف حکمرانی اور شہریوں کے مساوی حقوق کو یقینی بنانا ہی مضبوط جمہوریت کی بنیاد بن سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات میں سیاسی قیادت، ریاستی اداروں، سول سوسائٹی، میڈیا اور عوام سب کو ذمہ دارانہ طرزِ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن قومی یکجہتی، آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے بنیادی حقوق پر اتفاقِ رائے وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You