محبتِ رسول ﷺ — دعوے سے وفا تک

محبتِ رسول ﷺ — دعوے سے وفا تک
تحریر: سعد محمد مدنی
فاضل مدینہ یونیورسٹی، مدینہ منورہ، سعودی عرب
محبت انسان کی زندگی کا سب سے طاقتور جذبہ ہے۔ انسان جس سے محبت کرتا ہے، اس کے لیے اپنی آسائشیں قربان کرتا ہے، اس کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتا ہے، اس کی پسند کو اپنی پسند بنانے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے راستے پر چلنے کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے بھی محبت کو محض ایک جذباتی کیفیت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایمان، اطاعت، وفاداری اور کردار کے ساتھ جوڑ دیا ہے۔
اور جب بات رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کی ہو تو معاملہ اور بھی عظیم ہو جاتا ہے۔ آپ ﷺ سے محبت مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ یہ محبت ایسی ہونی چاہیے جو انسان کی ترجیحات بدل دے، اس کے اخلاق سنوار دے، اس کے معاملات درست کر دے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقے پر چلنے والا بنا دے۔
محبتِ رسول ﷺ صرف زبان سے یہ کہہ دینے کا نام نہیں کہ ’’ہمیں نبی ﷺ سے محبت ہے‘‘۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہماری زندگی اس محبت کی گواہی دیتی ہے؟
ایمان اور محبت کا تعلق
قرآن مجید نے اہلِ ایمان کی محبت کا معیار بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ بعض لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو اپنا شریک بنا لیتے ہیں اور ان سے ایسی محبت کرتے ہیں جیسی محبت اللہ کے لیے ہونی چاہیے، لیکن ایمان والے اللہ تعالیٰ سے سب سے بڑھ کر محبت کرتے ہیں۔
(سورۃ البقرۃ: 165)
یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کا نام نہیں بلکہ دل کی ترجیحات کا نام بھی ہے۔ مومن کے دل میں سب سے بلند مقام اللہ تعالیٰ کی محبت کا ہونا چاہیے۔ دنیا کی کوئی شخصیت، کوئی رشتہ، کوئی مال، کوئی منصب اور کوئی خواہش اللہ تعالیٰ کی محبت سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی۔
اور جب اللہ کی محبت دل میں مضبوط ہوتی ہے تو اس کا لازمی تقاضا رسول اللہ ﷺ کی محبت، اطاعت اور اتباع کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی محبت ایمان کی علامت ہے
رسول اللہ ﷺ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت شدہ حدیث میں فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
(صحیح البخاری: 15، صحیح مسلم: 44)
یہ الفاظ محبتِ رسول ﷺ کے مقام کو واضح کرنے کے لیے کافی ہیں۔
والدین انسان کے لیے کتنے محبوب ہوتے ہیں، اولاد کتنی عزیز ہوتی ہے اور انسان خود اپنی ذات سے کتنی محبت کرتا ہے، لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک آپ ﷺ کی محبت ان تمام محبتوں پر غالب نہ ہو جائے۔
یہاں محبت کا مطلب انسانی فطری محبتوں کو ختم کرنا نہیں بلکہ ان سب کو اللہ اور رسول ﷺ کی محبت کے تابع کرنا ہے۔
اگر کسی موقع پر ہماری خواہش ایک طرف ہو اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیم دوسری طرف، تو سچی محبت یہ ہے کہ ہم اپنی خواہش کو چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو اختیار کریں۔
یہی محبت کا امتحان ہے۔
ایمان کی مٹھاس کہاں سے ملتی ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی مٹھاس کا راز بھی بیان فرمایا۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گی وہ ایمان کی مٹھاس محسوس کرے گا: پہلی یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اسے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہوں؛ دوسری یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت کرے تو صرف اللہ کی خاطر کرے؛ اور تیسری یہ کہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹنا اسے اتنا ناپسند ہو جتنا آگ میں ڈالے جانے کو ناپسند کرتا ہے۔
(صحیح البخاری: 16، صحیح مسلم: 43)
غور کیجیے! رسول اللہ ﷺ نے ایمان کو محض احکام اور پابندیوں کا مجموعہ نہیں بتایا بلکہ ’’مٹھاس‘‘ قرار دیا۔
یہ مٹھاس کہاں سے آتی ہے؟
جب دل میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت دنیا کی ہر چیز پر غالب ہو جاتی ہے۔ جب محبت مفاد سے آزاد ہو جاتی ہے۔ جب انسان اللہ کی رضا کے لیے محبت کرتا ہے اور اللہ کی خاطر اپنی نفرتوں کو بھی قابو میں رکھتا ہے، تب ایمان ایک زندہ حقیقت بن جاتا ہے۔
محبت کی سب سے بڑی خوشخبری
ایک مرتبہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے ایسے شخص کے بارے میں پوچھا جو ایک قوم سے محبت کرتا ہے لیکن اپنے اعمال کے اعتبار سے ابھی ان کے مقام تک نہیں پہنچا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
یہ مختصر جملہ محبت کرنے والوں کے لیے کتنی بڑی خوشخبری ہے!
انسان اپنے اعمال میں کامل نہ ہو، اس کا مقام بلند نہ ہو، وہ نیک لوگوں کے درجے تک نہ پہنچ سکا ہو، لیکن اگر وہ ان سے سچی محبت رکھتا ہے اور ان کے راستے کو محبوب سمجھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ان کی رفاقت عطا فرما سکتا ہے۔
یہ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ محبت کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ انسان قیامت میں اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا رہا۔
تو سوال یہ ہے کہ ہم کن لوگوں سے محبت کرتے ہیں؟
ہماری محبتوں کے مرکز کون ہیں؟
ہماری پسندیدہ شخصیات کون ہیں؟
ہم کس کے نقشِ قدم پر چلنا چاہتے ہیں؟
اگر ہمارا دل رسول اللہ ﷺ، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم، اہلِ بیت اور صالحین کی محبت سے آباد ہے تو یہ ہمارے لیے آخرت کا عظیم سرمایہ ہے۔
جنت کی رفاقت کا راستہ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا: انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ اور یہ لوگ کتنے بہترین ساتھی ہیں۔
(سورۃ النساء: 69)
یہ آیت محبت اور اطاعت کے درمیان تعلق واضح کر دیتی ہے۔
جنت میں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس رفاقت کا راستہ اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت سے گزرتا ہے۔
یہاں محبت کا ایک نہایت اہم اصول سامنے آتا ہے:
سچی محبت اطاعت پیدا کرتی ہے۔
جس محبت کے نتیجے میں محبوب کی فرمانبرداری پیدا نہ ہو، اس محبت کے دعوے کو انسان کو اپنے دل میں پرکھنا چاہیے۔
محبتِ رسول ﷺ کردار کا نام بھی ہے
محبتِ رسول ﷺ صرف جذباتی وابستگی کا نام نہیں بلکہ کردار کی تعمیر کا نام ہے۔
ایک روایت میں حضرت عبدالرحمن بن ابی قراد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا تو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم آپ کے وضو کے پانی سے اپنے جسموں کو ملنے لگے۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تمہیں یہ کام کس چیز نے آمادہ کیا ہے؟
انہوں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت نے۔
اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرے یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کریں، اسے چاہیے کہ جب بات کرے تو سچ بولے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اسے ادا کرے اور اپنے پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کرے۔
یہ روایت ہمیں محبت کا ایک عملی معیار فراہم کرتی ہے۔
سچائی، امانت داری اور حسنِ معاشرت۔
یعنی محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرنے والے کی زبان جھوٹ سے پاک ہونی چاہیے، اس کے معاملات خیانت سے پاک ہونے چاہئیں اور اس کے پڑوسی اس کے اخلاق سے محفوظ ہونے چاہئیں۔
محبت اگر کردار نہ بدلے تو ابھی اس محبت کو عمل کی ضرورت ہے۔
اُحد کے میدان میں محبت کا ایک منظر
غزوۂ اُحد کے بعد ایک انصاری خاتون کے قریبی رشتہ دار شہید ہوئے۔ اسے اپنے عزیزوں کی شہادت کی خبریں دی گئیں، لیکن اس کا سب سے پہلا سوال یہ تھا:
رسول اللہ ﷺ کیسے ہیں؟
اسے بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ خیریت سے ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کو دکھاؤ تاکہ میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں۔
جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو خیریت سے دیکھا تو اس کے منہ سے نکلا:
آپ کے محفوظ ہونے کے بعد ہر مصیبت معمولی ہے۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک محبتِ رسول ﷺ محض ایک جذباتی کیفیت نہیں تھی بلکہ ان کی پوری زندگی کا مرکز تھی۔
ان کے لیے رسول اللہ ﷺ کی سلامتی اپنی ذات اور اپنے عزیز ترین رشتوں سے بھی بڑھ کر تھی۔
یہی وہ محبت تھی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا: نفرت سے محبت تک
محبتِ رسول ﷺ کے اثرات کا ایک حیرت انگیز نمونہ حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا کی زندگی میں بھی نظر آتا ہے۔
اسلام قبول کرنے کے بعد وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ ایک وقت تھا جب روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کوئی گھرانہ مجھے ایسا محبوب نہیں تھا کہ میں اس کی ذلت دیکھنا چاہتی تھی۔ لیکن آج میرا حال یہ ہے کہ روئے زمین پر آپ کے گھرانے سے بڑھ کر کوئی گھرانہ مجھے ایسا محبوب نہیں جس کی عزت اور سربلندی دیکھنا چاہتی ہوں۔
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
یہ ایمان کی تاثیر تھی۔
وہی دل جو کبھی دشمنی سے بھرا ہوا تھا، اسلام نے اسے محبت سے بھر دیا۔
یہی اسلام کا کمال ہے کہ وہ انسان کے دل کی سمت بدل دیتا ہے۔ وہ نفرت کو محبت، دشمنی کو خیرخواہی اور مخالفت کو وفاداری میں تبدیل کر دیتا ہے۔
محبتِ رسول ﷺ کا اصل ثبوت کیا ہے؟
آج ہم سب محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن اس دعوے کو ایک سوال کے سامنے رکھنا چاہیے:
کیا ہماری زندگی رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق ہے؟
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہماری نماز میں آپ ﷺ کی سنت نظر آنی چاہیے۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے کاروبار میں سچائی نظر آنی چاہیے۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہماری زبان جھوٹ، غیبت اور بدزبانی سے محفوظ ہونی چاہیے۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے گھروں میں حسنِ اخلاق ہونا چاہیے۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمارے پڑوسی ہمارے اخلاق سے خوش ہونے چاہئیں۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں امانت میں خیانت سے ڈرنا چاہیے۔
اگر ہم آپ ﷺ سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اپنی خواہشات کے مقابلے میں آپ ﷺ کی سنت کو ترجیح دینی چاہیے۔
یہی محبت کی سچائی ہے۔
محبت اور اتباع: دو الگ چیزیں نہیں
بعض اوقات ہم محبت کو صرف دل کی کیفیت سمجھ لیتے ہیں اور اتباع کو الگ چیز سمجھتے ہیں، حالانکہ دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
محبت انسان کو محبوب کے قریب لے جاتی ہے اور اتباع محبوب کے راستے پر چلاتی ہے۔
جو شخص رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کرتا ہے وہ آپ ﷺ کی سیرت جاننے کی کوشش کرے گا، آپ ﷺ کے اخلاق اپنائے گا، آپ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی میں جگہ دے گا اور آپ ﷺ کے احکام کو اپنی خواہشات پر مقدم رکھے گا۔
محبت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پسند ہماری پسند بن جائے اور آپ ﷺ کی ناپسند ہماری ناپسند بن جائے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں محبت دعوے سے نکل کر وفا بن جاتی ہے۔
آج ہمیں محبتِ رسول ﷺ کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت ہے
ہم ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں محبت کے دعوے بہت ہیں، مگر وفا کم ہے۔
لوگ شخصیات سے محبت کرتے ہیں، لیکن ان کے کردار کو اختیار نہیں کرتے۔
لوگ اپنے پسندیدہ لوگوں کے اقوال شیئر کرتے ہیں، مگر ان کی تعلیمات پر عمل نہیں کرتے۔
محبت کے نام پر جذبات کا اظہار تو بہت ہوتا ہے، لیکن محبت کے تقاضوں کو پورا کرنے کا جذبہ کم دکھائی دیتا ہے۔
محبتِ رسول ﷺ بھی اگر صرف الفاظ تک محدود ہو جائے تو اس کی حقیقی روح ہم سے پوشیدہ رہ جاتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ سے محبت کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ ہماری زندگی کے رہبر بنیں۔
ہماری عبادت میں آپ ﷺ کا طریقہ ہو۔
ہمارے اخلاق میں آپ ﷺ کی سیرت ہو۔
ہمارے معاملات میں آپ ﷺ کی امانت ہو۔
ہماری زبان میں آپ ﷺ کی سچائی ہو۔
ہمارے گھروں میں آپ ﷺ کی رحمت ہو۔
ہمارے معاشرے میں آپ ﷺ کا عدل ہو۔
اور ہمارے دل میں آپ ﷺ کی محبت ہو۔
محبت کا آخری امتحان
محبت کا اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب محبوب کی بات ہماری خواہش کے خلاف ہو۔
اگر انسان اپنی خواہش چھوڑ کر رسول اللہ ﷺ کی تعلیم کو اختیار کر لیتا ہے تو یہ محبت کی دلیل ہے۔
اگر وہ اپنے مفاد کو قربان کرکے سنت کو ترجیح دیتا ہے تو یہ محبت کی دلیل ہے۔
اگر وہ دنیا کی ملامت برداشت کرکے رسول اللہ ﷺ کے راستے پر قائم رہتا ہے تو یہ محبت کی دلیل ہے۔
اور اگر رسول اللہ ﷺ کی محبت اسے سچائی، امانت، حسنِ اخلاق، عبادت، عدل، رحم اور تقویٰ کی طرف لے جاتی ہے تو یہ اس محبت کی سب سے خوبصورت گواہی ہے۔
ایک سوال، جو ہر مسلمان کو خود سے پوچھنا چاہیے
ہمیں دوسروں سے یہ پوچھنے سے پہلے کہ وہ رسول اللہ ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں، خود سے پوچھنا چاہیے:
کیا میرے دل میں رسول اللہ ﷺ واقعی سب سے زیادہ محبوب ہیں؟
کیا میں آپ ﷺ کی سنت کو اپنی خواہشات پر ترجیح دیتا ہوں؟
کیا میری زندگی آپ ﷺ کی تعلیمات کی عکاسی کرتی ہے؟
کیا میرے اخلاق دیکھ کر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ محمد ﷺ کے امتی کا کردار ہے؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے، اور اگر جواب میں کمی محسوس ہو تو مایوس ہونے کے بجائے آج ہی سے محبت کو عمل میں تبدیل کرنے کا آغاز کرنا چاہیے۔
اختتامیہ
محبتِ رسول ﷺ ایک عظیم نعمت ہے، لیکن اس نعمت کا حق یہ ہے کہ اسے زندگی میں اتارا جائے۔
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں بتایا کہ انسان اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے۔
قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرنے والے انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت پائیں گے۔
اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا جب تک آپ ﷺ انسان کو اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جائیں۔
پس محبتِ رسول ﷺ ہماری زندگی کا صرف ایک خوبصورت جذبہ نہیں، بلکہ ایمان کا تقاضا، کردار کی بنیاد اور آخرت کی امید ہے۔
آئیے! محبت کو صرف لفظ نہ رہنے دیں۔
اسے نماز میں لے آئیں۔
اسے اخلاق میں لے آئیں۔
اسے معاملات میں لے آئیں۔
اسے گھروں میں لے آئیں۔
اسے بازاروں میں لے آئیں۔
اسے ہماری زبان، ہماری عادات اور ہماری ترجیحات میں لے آئیں۔
کیونکہ محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت محبوب کی اتباع ہے۔
اور خوش نصیب ہے وہ شخص جس کے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو، زندگی میں آپ ﷺ کی سنت ہو، کردار میں آپ ﷺ کی تعلیمات ہوں اور قیامت کے دن اسے اپنے محبوب ﷺ کی رفاقت نصیب ہو۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی سچی محبت، رسول اللہ ﷺ کی کامل محبت، سنت کی اتباع، صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت اور قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کی رفاقت نصیب فرمائے۔ آمین۔



