پنجاب

قرض در قرض کی حکومتی پالیسیاں ملک کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

قرض در قرض کی حکومتی پالیسیاں ملک کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں:انجینئر ندیم ممتاز قریشی

پاکستان 7 ارب 61 کروڑ ڈالر قرض کیساتھ آئی ایم ایف کا پانچواں بڑا مقروض ملک بن چکا ہے:چیئر مین

ملک2026 تک اپنی مجموعی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد سرکاری قرضوں پر سود کی ادائیگی میں خرچ کرے گا:گفتگو

وسائل کے باوجود ملکی مسائل میں اضافے کی وجہ قابل اور اہل قیادت کا فقدان ہے،اہل افراد کو آگے لانے کی ضرورت ہے

چیئر مین مستقبل پاکستان انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ قرض در قرض کی حکومتی پالیسیاں ملک کی تباہی کا باعث بن رہی ہیں،پاکستان 7 ارب 61 کروڑ ڈالر قرض کیساتھ آئی ایم ایف کا پانچواں بڑا مقروض ملک بن چکا ہے مگر اس کے باوجود ملکی معیشت بحالی کی راہ پر گامزن ہونے کی بجائے مزید بدحالی کا شکار ہے،انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل فنانس کی رپورٹ کے مطابق پاکستان 2026ء تک اپنی مجموعی آمدنی کا 50 فیصد سے زائد سرکاری قرضوں پر سود کی ادائیگی کی مد میں خرچ کرے گا جبکہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران حکومت نے مقامی بینکنگ سیکٹر سے 5996 ارب روپے قرض لیا جو کہ گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران لئے گئے 2666 ارب روپے قرض کے مقابلے میں 124 فیصد زیادہ ہے،حکومتی سطح پر قرض لینے کی یہ روش انتہائی پریشان کن ہے اگر قرضوں کے بوجھ سے فوری طور پر جان نہ چھڑائی گئی تو پاکستان کیلئے مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گی۔ان خیالات کا اظہار قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ وسائل سے مالا مال ملک صرف اس وجہ سے مسائل کی دلدل میں گرا ہوا ہے کیونکہ اہل و نیک نیت قیادت نہیں ملی۔انجینئر ندیم ممتاز قریشی نے کہا کہ قرضوں بوجھ سے نکلنے کیلئے ضروری ہے کہ برآمدات میں اضافہ کے ساتھ ملک میں انڈسٹری کو فروغ دینا ہوگا تاکہ ملکی معیشت بہتری کی راہ پر گامزن ہو اور عوام کو بھی روزگار کے وسیع مواقع میسر ہوں۔

Mehr Asif

Chief Editor Contact :03315456655 03005441090

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button

I am Watching You