عنوان: ھم عذاب الہٰی میں مبتلا۔۔۔!!

ٹائٹل: بیدار ھونے تک
عنوان: ھم عذاب الہٰی میں مبتلا۔۔۔!!
کالمکار: جاوید صدیقی
بچپن سے سنا کرتے آرھے ھیں اور کتابوں میں پڑھتے بزرگوں سے کہتے سنتے آرھے ھیں کہ جب قوم سے ایمان نکل جاتا ھے تو ان پر اللہ کا عذاب نازل مختلف انداز میں آتا رہتا ھے تاوقتکہ وہ قوم اپنی سرکشی بے ایمانی اور شرانگیزی سے باز نہ آجائے وہ عذاب نااہل حکمرانوں، بے ایمان مذہبی رہنماؤں، شدید ترین بارشوں، سیلابوں، طوفانوں، زلزلوں، فتنہ و فساد پھیلانے والے گروہوں، قتل و غارت گری کرنے والے غنڈوں کی شکل و صورت میں وارد ھوتے رہتے ھیں۔ آج کے دور میں ھم یہ سب کچھ دیکھ رھے ھیں اور نجانے کب تک دیکھتے رہیں گے اس کی سب سے بڑی وجہ ھم قوم خود ھیں۔۔۔۔ معزز قارئین!! دنیا کی کوئی بھی ریاست یا ملک اس قوم کی ملکیت ھوتی ھے یہی وجہ ھے کہ ملک عوام کا، حکومت عوام کی، عوام کی خدمت کیلئے حکومت اور ادارے ھوتے ھیں۔ آج میں اپنی اس تحریر کا موازنہ ایک ملک سے کراتا ھوں کہ وہ ملک دنیا میں کیونکر ترقی یافتہ اور جدید ترین ھے۔ اس کی وضاحت ایک واقعہ سے کرتا ھوں ہوا یوں کہ
ڈاکٹر شعیب سڈل نے بتایا کہ سنہ انیس سو بیانوے عیسوی میں راولپنڈی میں پولیس کا عالمی سطح کا ایک سیمینار ہوا۔ اس سیمینار میں شرکت کیلئے بیرون ملک سے بے شمار پولیس افسران پاکستان آئے۔ ان افسران میں جاپان کے پولیس چیف بھی شامل تھے۔ سیمینار کے بعد ڈنر تھا، ڈنر میں راولپنڈی کے ڈی آئی جی اور جاپان کے پولیس چیف ایک میز پر بیٹھ گئے، دونوں نے گفتگو شروع کر دی، گفتگو کے دوران ڈی آئی جی نے جاپانی چیف سے پوچھا: آپ لوگوں پر کبھی سیاسی دباﺅ نہیں آتا ؟ جاپانی پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا اور اسکے بعد جواب دیا:
"صرف سنہ انیس سو تیرسٹھ عیسوی میں ایک بار آیا تھا۔ ” ڈی آئی جی صاحب ہمہ تن گوش ہوگئے چیف نے بتایا کہ: ” سنہ انیس سو تیریسٹھ میں برطانیہ کے وزیر خارجہ جاپان کے دورے پر آئے تھے وہ ایک دن کیلئے اوسا کا شہر چلے گئے، دوسرے دن انکی جاپانی وزیراعظم کیساتھ ملاقات تھی، انہوں نے اوساکا سے سیدھا پرائم منسٹر ہاﺅس آنا تھا، راستے میں ٹریفک جام ہوگیا، ان کیساتھ موجود پروٹوکول افسروں نے ہمارے پولیس چیف سے رابطہ کیا اور ان سے درخواست کی، پولیس کسی خصوصی بندوبست کے ذریعے انہیں ٹوکیو پہنچا دے، پروٹوکول افسروں کا کہنا تھا کہ برطانوی وزیر خارجہ کی وزیراعظم سے ملاقات انتہائی ضروری ہے اگر وہ انہیں وقت پر نہیں ملتے تو یہ ملاقات ملتوی ہوجائے گی کیونکہ ایک گھنٹے بعد وزیراعظم چین کے دورے پر روانہ ہوجائیں گے، پولیس چیف نے انکی بات سن کر معذرت کرلی اسکے بعد وزیراعظم نے بذات خود پولیس چیف سے درخواست کی لیکن پولیس چیف کا کہنا تھا کہ "ہمارے پاس وی آئی پی کو ٹریفک سے نکالنے کا کوئی بندوبست نہیں ھے۔ ” یوں یہ ملاقات منسوخ ہوگئی اس ملاقات کی منسوخی کیوجہ سے جاپان اور برطانیہ کے تعلقات میں شدید کشیدگی پیدا ہوگئی.” جاپان کے پولیس چیف خاموش ہوگئے، ہمارے ڈی آئی جی نے شدت جذبات میں پہلو بدلا اور ان سے پوچھا کہ: ” اسکے بعد کیا ہوا؟ ” پولیس چیف مسکرائے اور کہا کہ: ” اس کے بعد کیا ہونا تھا، یہ خبر اخبارات میں شائع ہوگئی لوگوں نے وزیراعظم کے رویے پر شدید احتجاج کیا اور وزیراعظم کو قوم اور پولیس دونوں سے معافی مانگنا پڑی۔۔”
ہمارے ڈی آئی جی کیلئے یہ انوکھی بات تھی، چنانچہ انہوں نے حیرت سے پوچھا: ” اگر پولیس چیف کے انکار سے وزیراعظم برا مان جاتے اور دونوں کے درمیان لڑائی شروع ہوجاتی تو اسکا کیا نتیجہ نکلتا۔۔” پولیس چیف نے تھوڑی دیر سوچا پھر اس کے بعد مسکرا کر بولا کہ ” پہلی بات تو یہ ہے ہمارے وزیراعظم کبھی پولیس چیف کے ساتھ لڑائی نہ کرتے، لیکن بالفرض محال اگر دونوں میں جنگ چھڑ بھی جاتی تو اس کا ایک ہی نتیجہ نکلتا۔۔۔! ” پولیس چیف سانس لینے کیلئے رکا اور سنجیدگی سے بولا: "وزیراعظم کو استعفیٰ دینا پڑتا۔۔۔” ہمارے ڈی آئی جی صاحب کا رنگ پیلا پڑگیا اور انہوں نے حیرت سے پوچھا: ” کیا جاپان میں پولیس چیف اتنا مضبوط ہوتا ہے؟ ” جاپانی پولیس چیف نے ہنس کر جواب دیا: ” نہیں ہمارے ملک کا قانون، انصاف اور سلامتی کا نظام بہت مضبوط ھے۔ ہم نے عوام کی حفاظت کیلئے پولیس بنا رکھی ہے ، وی آئی پیز کو پروٹوکول دینے کیلئے نہیں لہٰذا جاپان کا ہر شخص جانتا ہے کہ اگر وزیراعظم اور پولیس چیف میں لڑائی ہوگی تو اس میں وزیراعظم ہی کا قصور ہوگا۔ اسی لئے استعفیٰ بھی اسے ہی دینا پڑیگا۔۔۔۔ معزز قارئین !! ہماری اشرفیہ حکمران سول و عسکری بیوروکریٹس جسٹس صاحبان آج تک پروٹوکول کی رسم سے باہر نہیں نکل سکے گویا یہ ملک و قوم ان کی مادر پدر نسلوں سے غلام ھیں مجھے ڈر ھے اللہ سے کہ کہیں رب العزت مغرور و متکبروں کو کیفر کردار اور نشانِ عبرت نہ بنا ڈالے بیشک قرآن پاک میں جابجا ظالم و جابر و مغرور و متکبر بادشاہوں حاکموں کا ذکر کیا اور انہیں پستی و بربادی اور واصل جہنم کیا ان میں نمرود فرعون شداد ابولہب ابوجہل و دیگر کا ذکر ھم امت مسلمہ کے ایمان کو قائم رکھنے اور خوف ِخدا قائم رکھنے کیلئے پیش کیا ھے، اب دیکھنا یہ ھے کہ ھمارے حاکم ھوں یا صاحب ِ منصب و اختیار وہ کس قدر خوف ِ خدا رکھتے ھیں یقیناً ایمان والوں کی سب سے بڑی نشانی یہی ھے کہ وہ ہرگز ہرگز ہرگز جھوٹ نہیں بولتے کیونکہ جھوٹ ام الخبائث ام الگناہ ام الغلاظت ھے یہ شیطان و ابلیس اور نفس کی پسندیدہ ہتھیار ھے جھوٹا شخص کبھی بھی اچھا انسان بن ہی نہیں سکتا۔ ھم سب من حیث القوم جھوٹ سے ہمیشہ کیلئے ناطہ رشتہ روابط تعلقات ختم کرنے ہونگے تب ہی ھم اچھی قوم اور اچھے حکمران بھی منتخب کرسکیں گے اور اللہ کی نصرت و سایہ میں رہ سکیں گے۔۔۔۔۔ !!



